شمعِ خاموش پہ بیدار نظر ٹھہری ہے
جانے کس چاند کے گاؤں میں سحر ٹھہری ہے
شوق آمادۂ رفتار سفر ہے لیکن
تیری آہٹ پہ مری راہ گزر ٹھہری ہے
سازشیں ہجر کی ڈالے ہیں وہیں پر ڈیرا
خواہشِ وصلِ گماں زار جدھر ٹھہری ہے
ایک ہلچل ہے شبستانِ گل و بلبل میں
بادِ صرصر جو لئے تازہ ہُنر ٹھہری ہے
کل کی بارش پہ ترا نام تھا لکھا رُت نے
آج پھر دھوپ ترے زیرِ اثر ٹھہری ہے
کتنے بے حال ہوئے اس نے جو کھڑکی کھولی
کوچۂ مرگ میں فی الحال خبر ٹھہری ہے
جاگ اٹھتی ہے کوئی یاد پرانی شیداؔ
سانس لگتی ہے کہ چلتی ہے مگر ٹھہری ہے
علی شیداؔ
نجدون نیپورہ اسلام آباد، اننت ناگ،کشمیر
موبائل نمبر؛9419045087
ہر بار مصیبت میں یاروں نے ہی ڈالے ہیں
یہ سانپ وہی ہیں جو خود ہم نے ہی پالے ہیں
سینے سے لگا لے یا ٹھوکر سے اُڑا چاہے
اے گردشِ دوراں ہم اب تیرے حوالے ہیں
کچھ اس طرح جکڑا ہے حالات نے پنجوں میں
جینا بھی ہوا مشکل مرنے کے بھی لالے ہیں
اب کیسے کٹے گا یہ جیون کا سفر سوچو
ہے دور بہت منزل اور پاؤں میں چھالے ہیں
بکھری ہیں سیاہ زلفیں اک چاند سے چہرے پر
کیا خوب اندھیرے ہیں کیا خوب اُجالے ہیں
کرتے ہیں خدا جانے یہ کیسے ہمیں گھائل
ہاتھوں میں حسینوں کے خنجر ہیں نہ بھالے ہیں
بخشی ہے رفیقؔ عزت غیروں نے ہمیں اکثر
اپنوں نے تو بس ہم پر کیچڑ ہی اُچھالے ہیں
رفیقؔ عثمانی
سابق آفس سپر انٹنڈنٹ
BSNLآکولہ مہاراشٹرا
سب کی فریاد یہ سنتا ہے مکر جاتاہے
وقت بے رحم ہے چپکے سے گزرجاتا ہے
حسن والوں پہ بھی الزام لگے ہیں کتنے
یہ نشہ بھی تو بہت جلد اُتر جاتا ہے
کب نظر آتا ہے بے خوف پرندہ کوئی
ایک پتہ بھی کھڑک جائے تو ڈر جاتا ہے
اک طرف خوف نے پھیلا دئے بازو اپنے
ایک جھونکا ہمیں طوفان نظر آتا ہے
خوں چکاں ہوگیا جب عالمی منظر نامہ
اب مسیحائی کا یاں کس کو ہنر آتا ہے
کوئی سنتا نہیں مظلوم کی اب آہ و بکا
اب کسی دل پہ نہ شبنمؔ یہ اثر آتا ہے
شاہینہ خاتون شبنم
شاہجہاں پور، یو پی
موبائل نمبر؛9415598203
حالاتوں کے مارے لوگ
ماں کے ہیں وہ پیارے لوگ
جن کو راس نہ آئی الفت
دل کے وہ بیچارے لوگ
مرقد جن کا آنا جانا
دنیا سے وہ ہارے لوگ
جن کی آنکھوں میں ہو غیرت
وہ ہیں راج دلارے لوگ
رسوا جب ہوتی ہے محبت
آہ بھرتے وہ سارے لوگ
طلحہؔ! تیرے گمان سے بڑھ کر
عشق میں سر کو جھکائے لوگ
جنید رشید طلحہؔ
آونیرہ شوپیان کشمیر
راہِ جنونِ عشق میں وہ پیچ و خم نہیں
مدت ہوئی کہ یاد میں آنکھیں بھی نم نہیں
دنیا میں ایسا کون ہے جس کو یہ غم نہیں
وصل و فراق عام ہے تم پر ستم نہیں
ہم کو نہیں ہے فکر زمانے کی دوستو
“ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں”
ناکام ہو ہی جائے گا وہ شخص دیکھنا
جس پر خدا کی ذات کا فضل و کرم نہیں
کیسے بھلا میں دیکھتا دنیا جہان کو
میں کیا کروں کے پاس مرے جامِ جم نہیں
دکھ درد بھی ضروری ہیں خوشیوں کے ساتھ ساتھ
حیرت زدہ ہوں ان پہ کہ جن کو بھی غم نہیں
بچوں کی ساری مانگوں کو پورا کروں گا میں
گرچہ کہ میرے ہاتھ میں اتنی رقم نہیں
کتنی ادھوری لگتی ہے عالمؔ کی خواب گاہ
جب سے مرے سرہانے پہ کاغذ قلم نہیں
آفتاب عالم ؔ شاہ نوری
کروشی بلگام کرناٹک
موبائل نمبر؛8105493349
حق ہمارا ہم سے چھینو مت کبھی
اس سے ملتی ہے نہیں جنت کبھی
رہزنوں کی زندگی تم دیکھ لو
رہزنی سے نہ ملی عزت کبھی
زندگی ذلت کی جیوگے سدا
دوسروں کی لُوٹو مت دولت کبھی
ہاتھ میں تقدیر بھی لیکر چلو
نہ اٹھاؤ گے یہاں ذلت کبھی
اپنی ہو یا غیر کی سن لیجئے
مت مٹانا آپ یہ قسمت کبھی
محمد فاروق گیاوی کلال
سرواں مارکیٹ،ضلع گیا بہار
موبائل نمبر؛9905021495