یہ کیا سوال ہے وہ کیوں سفر میں رہتا ہے
کسی کے عشق کا سودا جو سر میں رہتا ہے
کھلی ہوں آنکھیں مری یاانہیں میں بند رکھوں
بس ایک چہرہ ہمیشہ نظر میں رہتا ہے
کبھی جو لب پہ کھلا رہتا تھا تبسم سا
وہ خواب اب کے مری چشم تر میں رہتا ہے
عجیب سانحہ گزرا ہے اس برس اےدوست
کہ میرا سایہ کسی اور گھر میں رہتا ہے
یہ سوچنے کی بھی مہلت نہیں ملی ہم کو
کہ لغزشوں کا بھی امکاں بشر میں رہتا ہے
بلندیوں کے سفر میں یہ راز مجھ پہ کھلا
کہ آسمان مرے بال و پر میں رہتا ہے
مجھے یقیں ہے کہ یونہی نہیں گماں گزرا
کوئی تو عیب بھی دست ہنر میں رہتا ہے
رخسانہ جبین
سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛7889434361
نثار تجھ پے تو میں بے حساب ہو جاؤں
تری نظر کا اگر انتخاب ہو جاؤں
محبتوں بھری مسکان کہتی ہے تیری
ترے سوال کا میں ہی جواب ہو جاؤں
ترے چمن میں سدا ہی رہے مہک جس کی
ترے لئے وہ مہکتا گلاب ہو جاؤں
ورق ورق پہ ملے یاں محبتوں کی زباں
محبتوں کی میں ایسی کتاب ہو جاؤں
شبِ فراق تو جی بھر کے دیکھ لوں میں تجھے
نہ جانے اب کے ملوں یا کہ خواب ہو جاؤں
صداقتوں کے لئے جاں بھی وار دوں اپنی
میں جھوٹ کے لئے تیر و عتاب ہو جاؤں
معین ؔجو دلوں میں اُلفتیں جگا دے یاں
محبتوں کا میں ایسا خطاب ہو جاؤں
معین فخرمعینؔ
موبائل نمبر؛003443837244
محنت کش کا یہ ہے غم
بھوک زیادہ کھانا کم
پانی زائد ہو یا کم
سنگم ہوتا ہے سنگم
خشک نہیں ہوتا نا کم
ساگر جیسا اس کا غم
پنچھی جس کو دانہ سمجھا
وہ ہے غنچے پر شبنم
ایک طرف تھا ہاتھ تمہارا
ایک طرف ہیں سو مرہم
ہم بے گھر انسانوں کو
دکھ دیتا ہے ہر موسم
باہر سےسوکھی دھرتی بھی
اندر سے نکلی ہے نم
میرے کہنے سے کیا رکتا
وہ دنیا سے تھا برہم
تنہا بیٹے کی میت پر
اُف یہ بیوہ کا ماتم
قتل کیا ہے اپنوں نے تو
مشکل سے نکلا ہے دم
ارون شرما صاحبابادی
پٹیل نگر ،غازی آباد اُتر پردیش
زخم پہ زخم کھا رہا ہوں میں
کیسی دولت کما رہا ہوں میں
گھر نیا اک بنا رہا ہوں میں
اپنی ہستی مٹا رہا ہوں میں
سوگ کا ہے سما نہ ہو کیوں کر
خود کو دفنا کے آرہا ہوں میں
عالمِ مرگ چین دے مجھ کو
عالمِ خلق جا رہا ہوں میں
مسکراہٹ سے کام لیتا ہوں
زخم اپنے چھپا رہا ہوں میں
مسکرا کر ملیں گے وہ مجھ سے
خواب کیسے سجا رہا ہوں میں
کیا صبا تجھ کو چھو کے آئی ہے
تیری خوشبو سی پا رہا ہوں میں
اس کی چوکھٹ سے آنے والوں کو
پاس اپنے بٹھا رہا ہوں میں
ہر نئے زخم کو سجا کر یوں
اپنے نغموں میں، گا رہا ہوں میں
روشنی سے میں خوف کھاتا ہوں
سب دئے خود بھجا رہا ہوں میں
ان سے عشیار دور ہو کر یوں
ظلم خود پر ہی ڈھا رہا ہوں میں
عشیار عبداللہ
موبائل نمبر؛7006347399
روز اک نیا کام کرتا ہوں میں
دن ڈھلتے ہی شام کرتا ہوں میں
عمریں تمام رائگاں پڑی ہیں
کیوں قطع کلام کرتا ہوں میں
یہ خوشیاں یہ غم الم یہ سب کچھ
آ جا ترے نام کرتا ہوں میں
اس زندگی کی تگ و دومیں ہی
پاپوش نِکام کرتا ہوں میں
کوسوں پرے اک جہاں میں یاور
آرائشِ شام کرتا ہوں میں
نیزہ ہوں کہ تیر یا ہو شمشیر
کیوں ذکرِ نیام کرتا ہوں میں
سن نام و نسب کے اے پجاری
کیا نام و پیام کرتا ہوں میں
یاورمیں حبیب ڈارکا ہوں
ماں روزی بنام کرتا ہوں میں
پھربجھ گئے ہیں سبھی درو بام
جب عمرتمام کرتا ہوں میں
یاور حبیب ڈار
بٹہ کوٹ ہندوارہ ، کشمیر
موبائل نمبر؛6005929160
رنج میں لزت نہاں ہے کب ہمیں ادراک تھا
عشق سے پہلے مزہ کیا زندگی میں خاک تھا
ہم کو دیوانہ تصور لوگ کر پاتے کہاں
دشت میں بھٹکے نہیں ہم، نا گریباں چاک تھا
دن کا کیا تھا، جیسے تیسے کر لیا ہم نے بسر
رات یادوں کا سفر پر درد تھا، نمناک تھا
ظاہری احوال پر نظریں تھی سارے شہر کی
کس نے دیکھا قیس کا دل جو پسِ پوشاک تھا
سوچ کے سانچوں میں اپنی ڈھال کر سب چل دئے
میری سادہ شخصیت کا کس کو کب ادراک تھا
عشق کے دریا میں اترا اور کنارے تک گیا
عاشقِ پر عزم تھا وہ یا غضب تیراک تھا
میں سمجھ پایا نہ عارض فلسفہ یہ آج تک
عیب جوئی کونے والا عیب سے کیا پاک تھا
ایڈوکیٹ عارض خان
گوجوارہ سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛7006003386
نہ تھا ممکن ترا میراکبھی یکجا یہاں ہونا
کہ قسمت میں لکھا تھا یاں فقط تنہانہاں ہونا
سوا اسکے نہ تھا کچھ بھی یہی انعام تھا اپنا
مقدر میں لکھا تھا بس تماشا سا یہاں ہو نا
بتائوں کیا اثر اسکا ،ستم ہے ڈھا گیا دل پر
ترا یوں دیکھ کر مجھ کو،وہیں پھر بے زباں ہونا
نہیں گر یہ محبت ہے تو پھر یہ جذبہ کیا ہے دل
بلا مقصد تمہارا یوں مرے دل میں نہاں ہونا
یہی ملنا بچھڑ نا ہےدستور جہاں صورتؔ
میسر ہے یہاں کس کوحیات جاوداں ہونا
صورتؔ سنگھ
رام بن، جموں
موبائل نمبر؛9622304549
اس کے بچھڑنے کا دل کو ملال رہا
جب وہ جدا ہوا کیا کہوں برا حال رہا
لاکھ دعائیں دیتا رہا یہ دل اس کو
جاتے جاتے مگر کہاں خیال رہا
جب تک وہ بزم میں تھا رونق تھی بزم میں
اس کے جانے سے کہاں اس کا بلند اقبال رہا
تنہا چھوڑ کر گیا وہ اس رفیق کودیکھو
کب پھر وہ لوٹے گا دل میں یہ ہی خیال رہا
قادریؔ بلند تھا وہ بہت اور اسکے جانے سے
سکتے میں مشرق، مغرب، جنوب و شمال رہا
فاروق احمد قادریؔ
کوٹی ڈوڈہ، جموں