ماہِ رحمت وغفران اب پورے ایک سال کے لئے رخصت ہونے کو ہے، کسے خبر آئندہ کون تقویٰ و صالحیت کی اس فصل ِبہار کو پائے گااور کس نے مٹی کا لحاف اوڑھ لیا ہو۔ اب کے ہر لمحہ غنیمت ہے کہ اپنے مولیٰ کو راضی کر لیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ آیا اس یک ماہی تربیتی کورس کے دوران قرآن ہمارے شعور کی گہرائیوں میں اُتر گیا ؟ کیا اسلام کی حقیقی روح کو سمجھ بوجھ کر اس سانچے میں خود کو ڈھالنے کا عزم کیا؟ عیدانہی سوالات کا رُوپ دھارن کر کے عید آ گئی ہے۔ کیا معلوم کس خوش بخت کے گھر ڈیرہ ڈالے عید اُسے نوید مغفرت سنادے اور کون کور بخت ہوگا جو ماہِ صیام میں صبح تا شام فاقہ مست رہا لیکن پیام ِصیام اس کے حلق سے نہ اُتر سکا کہ عید اس کی جانب دیکھنا بھی گوارا نہ کرے ؟ہاں عید بزبان حال پوچھ رہی ہے رمضان سرتاپا خیر کا منبع ہے، اس میں سے کتنا کچھ حاصل کرنے میں کامیابی رہے؟ اس کا لمحہ لمحہ قیمتی ، کیا اس کی وہ قدر دانی کی جو اس کاحق بنتا ہے۔ اس ماہ کی ساری شان و شوکت نزول ِقرآن سے ہے ، کیا قرآن کریم یہ سوچ کر پڑھا اور سنا کہ اب ساری زندگی اس کے فرامین کی رہنمائی اوراحکامات کی روشنی میں گذر جائے گی؟ یاد بھی ہے کہ معلی بن فضل ؒ عظیم المرتبت اسلاف کے بارے میں فرماتے کہ وہ چھ ماہ بہ دیدۂ نم دعا کرتے رہتے کہ مولیٰ! ہمیں رمضان کا مہینہ نصیب کرلے، رمضان رخصت ہوتا تو چھ ماہ اس دعا میں لگ جاتے کہ اے مالک ِکون و مکان! رمضان میں کی گئیں عبادات کو شرف ِقبولیت عطا کرلے۔
عید کہنے آرہی ہے بھلا اُن عبادت نما حرکات کی کیا قدرو قیمت جن میںکامل طور زندگی بدلنے اور بندے کا صرف رب کا ہوجانے کا عہد وپیمان نہ ہو ؟اس کے سامنے خود سپردگی کا اعلان نہ ہو؟ نفس اور حرص و ہوس کی حکمرانی سے انکار اور دنیائے دل پرایک خالق ومالک کی بادشاہی کا عملی اقرار نہ ہو؟ عید سوال کرے گی کہ اس ماہ اعمالِ صالحہ میں سبقت کرنے کی ترغیب کے جواب میں آپ کا رد عمل کیا رہا؟ کتنا وقت لذائذ کی خریداری میں صرف کی؟ سحری و افطاری میں کتنا وقت مرغن غذائیں صفا چٹ کرنے میں ضائع کیا؟ سلف ِصالحین کا طریقہ تو یہ تھا اس ماہ کاملاً اللہ کے ہوجاتے تھے اور لمحہ لمحہ عبادت و بندگی میں گذر جاتا، آپ بتائیں کتنا وقت غیبت و عیب جوئی میں گذرا ؟نیند اور سونے میں کتنا عرصہ خرچ کیا ؟ ماہِ مطہرہ میں بھی ٹیلی ویژن اور جذبات میں ہیجان پیدا کرنے والی سوشل میڈیا پر گھومنے والی برہنہ تصاویر اور ایمان شکن کلپس دیکھنے میں کتنا وقت ضائع کیا؟ اے کاش! ہماری چشم ِبصیرت اس ماہ کے جلّو میں برسنے والی رحمتوں کی رم جم کو دیکھ لیتی تو پھر شوق ِسجدہ ریزی اور ذوقِ بندگی میں اضافہ در اضافہ ہو جاتا ، قیامت کاذکر سن کر ہم اور آپ لرزہ براندام ہوجاتے ، آنسوؤں کے سمندر بہا کر مولائے کریم سے نجات وبخشش طلب کرتے ،جنت کا ذکر ہوتا گڑ گڑا کر اس کا حق دار بننے کی دعائیں کرتے۔ کہیں ہمارا وقت بے جامباحث کی نذر تو نہیں ہوا؟ ہم کہیںعلمائے رُبانی کی تضحیک واستہزا ء کرنے میںمت لگے رہے؟ ائمہ کرام نے تراویح کے قیام و قعود کو گھڑی کا تابع بنا کے تو نہیں رکھا؟ نیکیوں میں سبقت لینے کا جو حکم قرآن میں ہوا، اس پر کتنا عمل پیرا رہے؟ اسلام کے حکم ِانفاق کو سمجھنے کی عملی کاوشیں کس حد تک کیں؟ محض پانچ پانچ دس دس روپے کے نوٹ پیشہ ور گداگروں کو دے کر یہ تو نہ سوچا کی حق سائل ومحروم ادا ہوگیا؟ اس ماہ میں شیطان جکڑ دئے جاتے ہیں اور دعوتِ دین کا میدان کسی مزاحمت کے بغیر کھلا رہتا ہے۔ اس عمل میں کتنا وقت صرف کیا ؟عید یہ بھی سوال کررہی ہے کہ یہ ماہِ نور ہمدردی ، غم خواری ، ایثار وقربانی کا پیام دیتا ہے، اس پیغام کا پالن کیا ؟ والدین کے ساتھ سلوک کیسا رہا ؟ اعزہ سے ٹوٹے رشتے کو جوڑا بھی ؟ محتاجوں ، معذوروں اور حاجت مندوں کی امداد کے لئے کمر بستہ رہے ؟مصدقہ خیراتی اداروں کے ساتھ تعاون و اشتراک کیا ؟ہم سب پر واضح ہے کہ یہ عرصہ ٔ رحمت عمل ِصالح کے پودے اُگانے کے لئے ہے، اگر نفس کی زمین بنجر نہ ہو تو لگائے گئے پودے شجرِ تناور بن جاتے ہیں ۔ ان غنیمت لمحات میں نفس کے بے لگام گھوڑے کو قابو میں کرنے کی تربیت فراہم ہوتی ہے، یہ زبردست اور صبر آزما ء کا م ہے ، جو ا س مشق میں کامیاب رہا،وہ فائز المرام ٹھہرا۔ عید ہم سب سے یہ بھی پوچھ رہی ہے کہ مساجد کے ساتھ اس ماہ ہمارا جو تعلق رہا یہ مابعد رمضان دیر پا ہوگا؟ کیا اب شوال آتے ہی اسی انضباط الاوقات پر عمل ہوگا کیا اب پنج وقتہ نمازیں نماز کی روح کو سمجھ کر ادا کی جائیں گی یا زوال آنا ہے؟’’ ایاک نعبدوایاک نستعین‘‘ کا اصل مفہوم سمجھ کر سارے معاملات اب مولیٰ کے سپرد کئے جائیں گے؟ اسی روشنی میں عقیدہ کی دُرستگی بھی ہوگی ؟ کیا سیاست ، کیا معیشت ، کیا تہذیب و تمدن ، کیا کاروبار ِزندگی ، کیا ادب و صحافت اور کیا سارے معاشرے کے ساتھ سلوک غرض زندگی کے ہر شعبے میں مولیٰ کی ہی بندگی یعنی ہدایات اُسی کی کتاب مبین سے لئے جائیں گے؟ کیا اب ہم ذخیرہ اندوزی سے تائب ہوں گے؟ کیا ملاوٹ کی وبا سے پر ہیز ہوگا ؟ کیااشیا کی خرید و فروخت کے وقت قسموں کے بھر مار سے اجتناب ہوگا ؟ کیا جھوٹ سے نفرت اس قدر ہوگی کہ خود جھوٹ کو آپ سے اس حدتک نفرت ہو کہ ہمارے پاس نہ پھٹکے اور سچ سے اتنی محبت ہو کہ سچ ہمارے بغیر نہ رہ سکے ۔ہم دوسروں کے بارے میں سچ بولنا تو بڑا کمال خیال کرتے ہیں اور بڑے بہادر بنے یہ کہتے ہوئے بنے پھر تے ہیں کہ میں کسی سے ڈر کر حق نہیں چھپاتا، بات صحیح بھی ہو اور ایسا ہونا بھی چاہیے لیکن پتہ ہے بھی کہ اصل کمال تو یہ ہے کہ اصلاح کے معاملے میں ’’ سب سے پہلے اپنی ذات‘‘ کہ خود سے سچ بولیں ، اپنے اندرون کے حوالے سے اپنی فکر اور سوچ اور قلب و ذہن میں پیدا ہونے والے خیالات کے تعلق سے خود سے سچ بولنا سیکھیں تو کمال کرگئے۔ یہ سچ اگر ہمارے اعمالِ صالح کا اظہار کرتا ہے تو اس میں پختگی کے لئے کوشاں رہیں کہ شیطان اس ڈگر سے ہٹانے میں ہمہ وقت مستعد ہے اور اگر یہ سچ اس کے برعکس ہے تو پھر ہم شیطان کے خلاف بہر آں مستعد و کمر بستہ ہوں۔ راہِ حق پر خود کو لگانے کی ٹھانی نہیں تو رمضان ہمیں کیا دے پائے گا؟ عید یہ استفسار بھی کرتی ہے اور یہ بھی پوچھتی ہے کہ بدعنوانی ، کنبہ پروری ، رشوت خوری، لوٹ کھسوٹ ، حقوق اللہ کی پامالی ، حقوق العباد کو روندنا، امیروں کی عزت اور فقراء سے حقارت ، رشتہ داروں سے قطعِ تعلق ، ہمسائیوں سے بے گانگی، سرکاری زمینوں پر قبضے ، عوامی املا ک پر تصرف، لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ زنی ،عدل سے نفرت، ظلم سے محبت، حق سے اعراض ، باطل سے قرابت، بیچنے خریدنے کے پیمانے جداجدا، دوکانوں کے تھڑوں کو باہر نکال کر راہِ عام مسدود کرنا، لوگوں کی دوکانوں اور گھر وں کے سامنے گاڑیاں کھڑی کردینا ، نمبر دو مال ایک نمبر کے نام پر فروخت کرنا،داؤں کے نام پر زہر فروشی اور ہمچوقسم کے دیگر امراضِ اخلاقی و روحانی عوارض نے اگر ہمیں آدبو چا ہے، تو یقین مانیںکہ روح مرچکی ہے اور اس مردہ روح کوزندگی بخشنے کے لئے قرآن کے آبِ بقا سے اگر کام نہ لیا تو خسر الدنیا والآخرۃ دونوں جہانوں میں خسارہ سر چڑھ کر بولے گا، جن اولاد و احفاد کے لئے یہ سب کچھ کررہے ہیں ، کل داورِ محشر کی عدالت میں ہمارے مدعی بن کر کھڑے ہوں گے کہ اُنہوںنے تو ایسا نہ کرنے کو کہانہیں تھا۔ پس بدل جائیں قبل اس کے کہ قبر ہمارا ٹھکانا بنے۔
عید کا یہ بھی ہم سے سوال ہے کہ یہ مادی جسم لذات کا متلاشی رہتا ہے، یہ لذتیں صرف طلب ِشکم نہیں بلکہ نگاہ و دل بے قابو ہوگئے تو پھر آگ بھڑک اُٹھتی ہے اور عبادات بس ایک خول بنی رہتی ہیں جن میں کوئی روح پیوست نہیں ہوتی ،شیطان ہیجان پیدا کردیتا ہے، ایسا طوفان بپا ہوتا ہے کہ معاشرے کی اخلاقی چولیں ہل جاتی ہیں۔ اور بے راہ رو انسان اس قدر اندھا ہوجاتا ہے کہ معصوم آصفاؤں، ننھی زینبوں، پھول سی تابندہ غنیوں ، تڑپتی دامنیوں اور اب پیاری ایمن زہراؤں کو بھی اپنی غلیظ ہوس کا شکار بنانے سے نہیں ہچکچاتا۔ درندے شرمسار ہیں، بھیڑئے اشک بار ہیں ، آسمان دل فگار ہے اور زمین کی ہر شئے بے قرار کہ ہائے مولیٰ! یہ انسان کیسی بلندیوںسے گر کر کیسی پستیوں میں لڑھک گیا ؟ عید ہم سے پوچھ رہی ہے ایسا کیوں؟پھر خود ہی جواب دے رہی ہے کہ ہم نے نفس کے بے مہار گھوڑے کو قابو میں نہیں لایا، یہ شتر آوارہ بے لگام رہا تو ہلاک کرکے رکھ دے گا۔
یہ فریادکر رہی ہے کہ ہمارے بہت سارے نوجوانوں کی دینی واخلاقی تربیت کا کوئی بندوبست نہیں ،والدین اُن کی سیرت سازی کی جانب متوجہ نہیں، منشیات کے دلدل میں پھنس کر ہوش وحواس کھوچکے ہیں، لباس کی تراش خراش بھی ایسی کہ سر شرم سے جھک جائے یہ جوا نٹرنیٹ اور موبائل فونز سے فواحش و منکرات کا سیلِ رواں ان کے اذہان و قلوب کو تہ و بالا کرکے انہیں اندھا بنا رہا ہے، وہ بھی اس حد تک کہ یہ معاشروں کی عفت و عزت لوٹ رہے ہیں۔ اس وبا کو روکنے کے لئے ہمیںکس قدر فکر دامن گیر ہے؟ عیدکا یہ بھی سوال ہے کہ ہم ان بدترین واقعات کی وقوع پذیر ہونے کے مواقع پر سراپا احتجاج تو بنتے ہیں، سارا ماحول سوگوار ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہئے مگر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ پھر ان بیماریوں کاپائیدار سدباب سوچے بغیر گھوڑے بیچ کر لمبی تان سوجاتے ہیں کہ اب کوئی باغی گلستانِ انسانیت کی جانب نگاہِ بد اُٹھا کے دیکھ بھی نہیں پائے گا کیونکہ ہم نے جلوس نکالے ، جلسے کئے ،سراپا اضطراب واحتجاج بنے، اب فکر کا ہے کی؟ عید کہہ رہی ہے یہ بس دل کے بہلاؤے ہیں جب تک رمضانی پیغامِ تقویٰ و تزکیہ کو ہم نہیں سمجھتے سمجھاتے ،قرآن کے تطہیر ی درس کو عام نہیں کرتے تاکہ ان مذموم واقعات پر روک لگے بریک لگے۔
عید گویا ہے کہ رمضان میں عمرہ کی ادائیگی کو حج کے برابر بیان فرمایا گیا ہے (گو اس سے فرض حج ساقط نہیں ہوتا) اور اللہ کا فضل تم اب قافلوں کی صورت میں عرمہ فی رمضان کی ادائیگی کے لئے بڑے شوق سے نکل رہے ہیں ۔مبارک ! لیکن ملت کے گرد و پیش بھی تو دیکھ لیں ، محتاجوں اور مساکین کی مدد ، دانے دانے کو ترسنے والوں کی اعانت ، امراضِ کہنہ کے شکار غریب بیمار وں کی خدمت و حمایت بھی تو اہم ترین معاملہ ہے ۔ عمرہ بھی ادا کر یں لیکن ان مجبوروں کے حقوق کا پاس و لحاظ بھی ہے کیا ؟ اور ہاں عید اس پر بھی برہم ہے کہ ہمیں عبادات میں اخلاص کا بھی پتہ نہیں کہ ذرہ بھر اس میں ریا ، نمائش اور دکھاوا ظاہر ہوا تو یہ اعمال بکھرنے والے گرد و غبار کا روپ دھار لیتے ہیں۔ حج و عمرہ کی ادائیگی لائق صد تحسین لیکن یہ جو گھر سے روانگی سے واپسی تک قدم قدم پر سیلفیاں لینے اور فوٹو گرافی کے ’’شوق‘‘ نے ہمارے دل میں جگہ بنا لی ہے، عید پوچھ رہی ہے کہیں یہ مرضِ ریا ہی تو نہیں؟ ایسا مرض کہ روحانی موت ہونے تک پتہ ہی نہیں چلتا کہ بیماری کس قدر ہلاکت خیز تھی ؟عید یہ بھی پوچھ رہی ہے کہ یہ ماہِ صبر ہے عدم برداشت سے کیا توبہ کرلی ؟ رویوں میں کیالچک پیدا ہوئی ؟ کچھ لکھنے بولنے سے پہلے ہزار بار سوچنے اور تحقیق کرنے کی خُو اپنا مزاج بنایا؟ مشتعل مزاج پر قابو پالیا ؟ سنئے! حضرت احنف بن قیس ؒ سے کہا گیا آپ بزرگ ہیں ، عمر رسیدہ ہیں، روزے کمزور کریں گے، تو جواب دیا کہ میں نے زندگی کا طویل سفر طے کیا ہے۔
اللہ کی اطاعت پر صبر کرنا بہتر ہے نہ کہ اس کے عذاب پر (سیر اعلام النبلا)عید رمضان کے حوالے سے حضرت جابر بن عبداللہ ؓکا یہ قول بھی یاد دلا رہی ہے کہ’’ جب تم روزہ رکھو تو چاہئے کہ تمہاری سماعت کے بھی روزہ ہو۔ تمہاری آنکھوں کا بھی روزہ ہو ، تمہاری زبان جھوٹ سے بچے، پڑوسی کو اذیت نہ دو، روزہ کے دن تم پر وقار اور سکینت طاری ہونی چاہیے، تمہارے روزہ اور بے روزہ ہونے کا دن ایک جیسا نہیں ہونا چاہیے‘‘ عید کہہ رہی ہے کہ ہمارا عرصۂ صیام کیا ایسے ہی گذر رہا ہے ؟
ہمارے روزوں میں ایمان و احتساب کا مظاہرہ بھی ہے ،اگر یہ دروازے کھول کے رکھو، صبح ِاول شوال کو تمہارے گھرمیں ڈیرہ ڈالوںگی، معاملہ اگر خدانخواستہ اس کے برعکس ہے توپھر خوش فہمیوں کی دنیا سے نکل کر حقائق کا سامنا کرکے آئینہ احتساب کے سامنے کھڑے ہوں ، آبِ تقویٰ سے معصیت و سیات کے داغ دھبے آب ِتقویٰ سے دھو ڈال، آغوشِ رحمت میں جگہ ملے گی تو پھر تمہارے ہاں بھی آؤ گی، برکات و عنایات کی انمول سوغات بھی میرے ہمراہ ہوگی عید کی اس پوٹلی میں اور بھی بہت سارے سوالات ہیں رمضانی نصاب انہماک سے پڑ ھ لیں، اس پر عمل پیرائی جوابات کو آسان بنا دے گی____ عید پوچھ ہی لے گی اور جوابات تو دینے ہی دینے ہیں۔
فون نمبر9419080306