بشارت بشیرؔ
ماہ صیام وقیام کی رم جھم گھٹائیں برس رہی ہیں اور بندگان خدا اللہ کے بحرکرم میں غوطہ زن ہیں، عیدالفطر اب چند دنوں کی دوری پر ہی ہے، ہر لحظہ غنیمت اور ہر پل بیش قیمت ہے، جس قدر مولا کی کرم نوازیوں سے بہرہ مند ہونے کی کاوشیں ہوں توشہ ٔ آخرت ثابت ہوں گی۔ روزہ کا اصل مقصد تقویٰ ٹھہرا اور جسے یہ دولت حاصل ہوئی ،عید اُسی کی جانب قدم زن ہوگی۔تقویٰ کیا ہے ’’اللہ تعالیٰ کے اوامر کے امتثال کو بقدر استطاعت ہر حکم کی بجا آوری کے ذریعے اور اللہ کے نواہی سے اجتناب کو بقدر استطاعت ہر اُس چیز کو ترک کرے، جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے، پس جس نے ایساکیا وہ متقین میں سے ہے‘‘ تقویٰ کے مختلف معانیٰ ومفاہیم بیان ہوئے ہیں ۔سیدنا عمر فاروق ؓ کے پوچھنے پر سیدنا ابی ابن کعبؓ نے تقویٰ کی حقیقت کو کانٹوں بھرے راستے سے گذرنے کی مثال دے کر سمجھایا، جس کا مطلب گناہوں اور مشکوک امور سے بچ کر نہایت احتیاط کے ساتھ زندگی گزار نا ہے۔یوں سمجھئے کہ تقویٰ دل کی ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جس میںانسان اللہ کے ڈر سے گناہوں سے جھجھکتا ہے۔غرض یہ جو زندگی کے راستے سے گذرتے ہوئے شہوات و شبہات کا سامنا ہوتا ہے اور قدم قدم پر سیئات کے دلدل میں دھنسنے اور گناہوں کے خارزاروں میں پھنسنے کا امکان ہر آن رہتا ہے، ان شدید ترین آفات کی زد میںآنے سے اپنے آپ کو بچانے میںجو کامیاب ہوا تقویٰ شناس ہوا۔ ہاں تقویٰ یہ ہے کہ مؤمن کے دل میں یہ بات گھر کر جائے کہ اللہ اُسے ہر آن دیکھ رہا ہے۔ اُس کی حرکت حرکت نوٹ ہورہی ہے۔اُس کے نامہ اعمال کی تحریر و ترتیب اسی دنیا میںہورہی ہے اور اسی بنیاد پر روز حشر اُس کا رزلٹ سنایا جائے گاکہ اُس کی منزل جنت کی راحتیں ہوگی یا دوزخ کی دہکتی آگ اور اُس کا جلائو والائو ۔اللہ بچائے۔
اللہ کے دیکھنے کا یہ احساس جب انسان کے دل میں رچ بس جائے تو پھر لازماً اُس کی زندگی خالق کے ارشادات کے عین مطابق ہی گذرے گی۔ اللہ دیکھ رہا ہے کا یہ تصور آخرت کے خسران سے بچانے کا ضامن بن سکتا ہے۔ ایک حکایت ہی سہی لیکن ہے بہت سبق آموز ،کہ ایک بادشاہ کے حوالے سے یہ بات بڑی مشہور تھی کہ اُس کے قلم رو میں انصاف کی اتنی فراونی ہے کہ شیر اور بکری ایک ہی وقت ایک ہی گھاٹ پر پانی پی لیتے ہیں۔ کوئی کسی پر ظلم نہیں کررہا ہے کوئی جبر واستبداد نہیں ۔ دور کے ایک بادشاہ نے یہ روداد سنی تو بچشم سر واقعات کا مشاہدہ کرنے کی ٹھان لی ۔ اپنی آمد کی بادشاہ کو اطلاع دی یوم معینہ پر پورے تزک واحتشام اور کرو فر کے ساتھ اپنے اُمرا ووزراء کے ہمراہ آگیا تو میز بان نے خوش آمدید اور استقبال کرنے میں کسی بخل سے کام نہیں لیا۔راستے میںدوطرفہ لوگ قطار اندار قطار پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنے کے لئے تیار بیٹھے تھے اور جوںہی حدود سلطنت میںداخل ہوا ۔یہاں اُس میزبان نے اپنی سواری فراہم کرنے کے انتظامات کررکھے تھے۔ جوں ہی اُس سواری پر سوار ہوا بات انوکھی یہ ہوئی کہ اُس کے ہاتھ میںپانی یا دودھ کا ایک گلاس دیا گیا اور اُس کے پیچھے ایک تلوار بردار سپاہی ایستادہ رہا ۔ کہا گیا کہ اگر اس گلاس سے تھوڑا سا پانی یا دودھ بھی چھلک کر گر گیاتو تلوار بردار سپاہی تمہارا کام تمام کرے گا، اب اُس کی جان کے لالے پڑگئے اور اس کے ساتھ ہی یہ جلوس روانہ ہوا ،لوگ دوطرفہ کلمات تحسین سناتے رہے ،استقبال کے سارے انتظامات کئے جاچکے تھے، شہر کو سجایا گیا تھا، لیکن مہمان کو گردو پیش کی کوئی خبرنہیں، دھڑکا یہی لگا رہا کہ گلاس سے پانی یا دودھ قطرہ بھر بھی نہ چھلکے کہ زندگی کا چراغ پھرگُل ہونے میں دیرنہیںلگے گی۔جُوںتُوں کرکے جب جلوس اختتام کو پہنچ گیا، مہمان شاہی محل میںداخل ہوا پسینے میںشرابور تھا ،کچھ اطمینان کا سانس لیا میزبان نے گلے لگایا تو سب سے پہلے یہ سوال پوچھا کیسا لگا ہمارا شہر اور کیسے ہیں ہمارے لوگ، استقبال کیا شایان شان تھا ؟ تو مہمان نے آہ سرد بھری اور کہا حضرت آپ نے مجھے اس قابل رکھا ہی کہا ں تھا کہ گرد وپیش میںہوکیا رہا ہے میںدیکھ لیتا ،میرے لئے تو یہ پانی کا گلاس زندگی اور موت کا پیمانہ تھا میری نگاہ بس اس کی جانب تھی کہ کہیں تھوڑا چھلکے نا اور میں جان عزیز سے ہاتھ دو بیٹھوں، اس کا اتنا کہنا تھا کہ میزبان نے کہا میری یہی صورتحال ہے کہ میری یہ رعایا بھی میرے لئے پانی یا دودھ کا ایک گلاس ہے اور اگر ان کے حقوق کی ادائیگی میںاور ان کے مابین عدل وانصاف کرنے میں ذرا برابر غفلت برتی تو میرے سر پراللہ کی لٹکتی تلوار جانے میرا کیا حشر کرکے رکھ دے گی، کیونکہ اللہ مجھے مسلسل دیکھ رہا ہےاور یہ جو رعایا ایک امانت کے طور پر مجھے سپرد کی گئی ہے، ان کے حوالے سے میری حساسیت کو دیکھا لکھا جارہا ہے اور اسی بنیاد پر حشر کی عدالت میںمیرے اُخروی مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔
جی ہاں! یہی اللہ دیکھ رہا ہے کا تصور انسانی نفوس میں تخم تقویٰ بن کر اُسے نیکیوں پر اُبھارتا اور بدیوں سے پرے رکھتا ہے۔ صیام وصوم کا مدعا بھی یہی تقویٰ ٹھہرا رمضان ہو قربانیاں ہوں یا حج مفہوم یہی تقویٰ بتایا گیا ہے۔عیدین کی آمد دیکھیں تو صاف نظر آئے گادو مخصوص عبادات کی تکمیل کے بعد آتی ہیں۔ایک پورے فصل صیام کے گذرنے کے اختتام پر اور ایک حج جیسی عظیم عبادت کے انجام پذیر ہونے کے ساتھ ہی۔غرض پہلے قلوب کو مطہراور نفوس کو پاک کرنے کا عرصہ آتا ہے ایک تربیتی مشق سے گذرنا ہوتا ہے اور اُس کے بعد خوشی اور فرحت کی یہ گھڑیا ں آتی ہیںظاہر ہے کہ لہلہاتے ہوئے گلشن ِ تقویٰ میں ایک عرصہ تک سانسیں لینے والے مومن کو جب نوید عید سنادی جائے گی تو اُس کا قدم بہکے گا، نہ وہ خوشی کے نام پر خرافات وواہیات کا شکا رہوگا۔
یاد رہے کہ مسلمانوں کی عیدیں نائو ونوش کا نہیں بلکہ کامل سنجیدگی کا پیغام لے کر آتی ہیں اسلام میںمزاح کو بھی ایک مقام حاصل ہے لیکن اس کے حدود کا تعین بھی ہے۔یہ دین جہاں اللہ کے آگے رونے گڑگڑانے اور ہر آن تائب رہنے کا درس دیتا ہے وہاں یہ ہسنے مسکرانے سے بھی منع نہیں کرتا ۔لیکن ہنسنا اس قدر ہو کہ دل نہ مرے ۔عید !جی یہ دن سنت نبوی ؐ کے مطابق غسل کرنے ،نئے کپڑے زیب تن کرنے اور خوشیاں بانٹنے کا درس دیتی ہے۔ اس دین فطرت کی روسے عید صرف تفریح نہیں بلکہ حدود شرعی میںرہ کر اللہ کا شکر ادا کرنا اور معاشرے کے دیگر افرد کے ساتھ تعلق ورابط کو مستحکم کرنا ہے۔ یہ دین اس کارگاہِ زیست میں اپنے ساتھ چلنے والے اُن لوگوں کے ساتھ ہمدردری واعانت کا سلوک کرنے کی تلقین کرتا ہے جو تہی دست ہیں ، لاچار ہیں ، مریض ہیں ، معاشرے سے بچھڑے ہوئے ہیں، یتامیٰ ہیں، مساکین ہیں، بیوگاں ہیں، مجبور ہیں اور درماندہ ہیں ۔عید دلوں میںطمانیت تبھی پیدا کرے گی جب ان سب مسائب کے ماروں کی دل جوئی ہوگی ۔یوں کہیں کہ ہمارے یہ تہوار دوسروں کے تہواروں سے ممتاز ہیں یہ عیش وطرب کا ذریعہ نہیں کہ اخلاقی اور روحانی اقدار کو روندا جائے بلکہ یہ عیدیں گنہگار طبیعتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کی بندگی کا جذبہ پیدا کرتی ہیںاور اگر واقعی یہ بندگی کے احساس کا شجر تروتازہ ہے تو عید ضرور ہمارے گھر میںڈیرہ ڈالے گی۔ ہمارے یہاں ماشاء اللہ ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو واقعی اخلاص وللٰہیت سے سرشار ہوکر اس صیام کے زمانۂ تربیت میں تشکیل سیرت اور تہذیب نفوس کے عمل میں مصروف رہے اور بہت سارے ایسے بھی جو روزہ رکھنے کو تو رکھے لیکن اپنے اوقات کا اکثر حصہ سونے ، لیٹنے اور کروٹیں بدلنے پر صرف کیا اور اگر کچھ بچا تو انواع واقسام کی نعمتوں کی خریداری ، لذیز ومرغن غذائوں کی تیار ی اور شکم سیری پر صرف ہوا۔ افطار ی نہیں بلکہ ہر روز افطار پارٹیاں ہوتی رہیں،یوں پورے دن روزہ رکھنے اور بھوک وپیاس کی شدت وحدت برداشت کرنے کے منافع سمیٹنے کے بجائے صرف لذت کام ودھن پر جو لوگ اپنے اوقات صرف کرتے رہے روزہ تو اُن نے بھی رکھا اللہ قبول فرمائے لیکن روزوں کے ایام ’’ پُر لطف افطاری‘‘ کی تیاریوں میںگذر جائیں تو اس سے بڑھ کر کیا بدقسمتی ہوسکتی ہے۔اور ہاں آج ہم جب عید کی جانب بڑھ رہے ہیں ،دوگانہ عید کی ادائیگی کی تیاریاں بھی ہورہی ہیں، جس سے ہماری اجتماعیت اور وحدت کا بین اظہار بھی مطلوب ہے۔لیکن یہ جو ہم ایک ساتھ اس روز اللہ کے حضور کندھے سے کندھا ملا کر سجدہ ریز ہوں گے کیا ہمارے دل بھی ملے ہوئے ہیں؟ہماری سوچ وفکر بھی کیا ایک ہے؟کہا ں وہ دن کہ ہم (بُنْیانٌ مَرْصوصٌ)تھے اور کہاں یہ الم ناک صبحیں اور اندوہناک شامیں کہ بھائی بھائی سے نالاں ۔باپ بیٹے سے ناراض اور رشتہ داریاں چاک بہ گریباں ہیں۔ہمسایہ داریاں محو آہ وفغاں ہیں ۔ہماری روحانی واخلاقی خانہ وریرانیاں ہماری سوچ پر ماتم کناں ہیں ۔ہم عید کے دن گلے ملتے ہیں ۔لیکن دل نہیں ملتے ۔ ہم ایک نظر آتے ہیں لیکن یہ سراب ہے ۔ ہم ایک نہیں ہیں ۔کدورتیں ، نفرتیں ، عداوتیں ، جہالتیں اور بغض وکینہ کی لاکھ کثافتیں دل میں ایک دوسرے کے لئے پالے ہوئے ہیں ۔ کلیجہ اُس وقت شق ہوتا ہے جب ہم ایک دوسرے کے در پئے آزار نظر آتے ہیں ۔مقدمہ بازیاں ہیں، لڑائیاں ہیں،رنجشیں ہیں ،اتہامات اور الزامات کی طومار ہےاور حساس دلوں کو رلانے والی یہ خبریں خون کے آنسو رلاتی ہیں کہ اپنے دوسرے بھائی کو کرب وابتلا کا شکار بنانے کے لئے بھی بہت سے لوگ کسی بھی حد تک جانے سے بھی نہیں کتراتے۔ایسے میں عید ہم سے یہی سوال پوچھ رہی ہے،تم روزہ بھی رکھ چکے ہو اس عرصہ ٔ تربیت میں تم رہے اور اب عید کی نماز کی ادائیگی کی تیاریاں بھی کررہے ہو،کیا اب زندگی بھی ایک ساتھ صلہ ٔرحمی ، محبت، مؤدت ، مروت اورعفو ودرگذر کے جذبات سے ،سرشار ہوکر گذارنے کا عہد بھی کروگے اور اگرواقعی ہمارا روزہ ہمارے اندروں کو بدل چکا ہوگا تو جواب لازماً اثبات میںہوگااور اگر خدا نہ خواستہ ایسا نہیں ہوا ہے تو پھرواحسرتا!
خلاصۂ تحریر یہ کہ مقصد بندگی یہ کہ تقویٰ مومن کا لباس بنے یہی رمضانی وژن ہے ۔یاد رہے کہ خوف کی طرح بچائو ، پرہیز گاری ، اجتناب انسانی نفس کی اہم صلاحیتیں ہیں یہ صلاحیت جب کمزور ہوتی ہے تو انسان کا حلال اشیاء کے ساتھ برتائو مسرفانہ اور مبذرانہ بنتا ہے۔ایک صاحب قلم کے بقول کہ پھر انسان حرام کردہ چیزوں اور اللہ کے متعین کردہ حدود کو توڑنے کا ارتکاب کرتا ہے، اس لئے اگر ہم کھانے پینے کی چیزوں کو قوت صیام کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے نفس کی آکلانہ خواہشات کے پیچھے لگا دیں گے تو نہ صرف یہ کہ روزے کے مقاصد حاصل نہیں ہوں گے بلکہ روزے کے کمزور اور نحیف ہونے کا اندیشہ ہے اور یہی وجہ ہے رسول رحمتؐ دست بدعا رہتے تھے اللہم انی اعوذبک من نفس لا تشبع ’’یعنی الٰہی میں ایسے نفس سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں جو آسود ہ نہ ہو‘‘ بہر حال رمضان اپنے اختتام کی طرف جارہا ہے۔ہم سب اللہ تعالیٰ کی بندگی میںجٹے رہیں تلاوتیں ایسی ہوں کہ معمول بن جائیں اور نمازوں کو ایسی لذت نصیب ہو کہ زندگی بھر نہ چھوٹیں ، مواسات وہمدردی کے جذبات دلوں میں اس قدر موجزن رہیں کہ ہم دکھی اور پژمردہ انسانیت کے غم خوار ساری زندگی بن کے رہیں ۔اخوت و محبت اس قدر بڑھے کہ ہم جسد واحد نظر آئیں ایسا ہوگا تو عید اپنی پوری رحمتوں وبرکات کی سوغات لے کر ہمارے گردو پیش اور ماحول پر چھائی رہے گی ۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں ان شاء اللہ خارزاروں میں پھر پھول کھلیں گے۔اگر ہم زمین نفس میں تقویٰ کی آب پاشی کرنے میں کامیاب ہوجائیں ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
رابطہ۔7006055300