مومن فیاض احمد غلام مصطفی
آج اگر ہم اپنے گرد و پیش کا سنجیدگی سے جائزہ لیں تو دل بے اختیار کرب سے بھر جاتا ہے۔ وہ اُمت جسے اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے ’’اِقرأ‘‘ یعنی ’’پڑھو‘‘ کا حکم دے کر علم کی شاہراہ پر چلنے کی دعوت دی، آج اُسی امت کا ایک بڑا حصہ علم سے دوری اختیار کر چکا ہے۔ یہ صرف ایک کمی نہیں بلکہ ایک گہرا زخم ہے، ایک ایسا زخم جو ہماری دنیا کو بھی کھوکھلا کر رہا ہے اور ہماری آخرت کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔بے شک اسلام کی بنیاد ہی علم پر رکھی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو علم کے ذریعے عزت دی، جیسا کہ فرما یا،’’اللہ تم میں سے ایمان والوں اور علم والوں کے درجات بلند فرماتا ہے۔‘‘لیکن افسوس! آج ہم نے اسی علم کو چھوڑ دیا ہے۔ ہماری راتیں جو کبھی عبادت، تلاوت اور مطالعہ سے روشن ہوا کرتی تھیں، آج موبائل کی اسکرینوں کی روشنی میں ضائع ہو رہی ہیں۔ ہم جاگتے تو ہیں مگر علم کے لئے نہیں،بلکہ اپنی تباہی کے لئے۔ فضول ویڈیوز، بے مقصد گفتگو اور سوشل میڈیا نے ہمیں اس قدر جکڑ لیا ہے کہ کتابوں سے ہمارا رشتہ کمزور پڑ گیا ہے۔نبی کریمؐ کافرمان ہےکہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور سب سے قیمتی زندگی وہ ہے جو علم اور ذکرِ الٰہی میں گزرتی ہے۔
آج مسلمانوں کا ایک طبقہ دینی اور عصری تعلیم کے درمیان اُلجھ کر رہ گیا ہے۔ کچھ لوگ صرف دنیاوی تعلیم کو کامیابی سمجھ بیٹھے ہیں اور دین سے دور ہو گئے ہیں، جبکہ کچھ صرف دینی علوم تک محدود ہو کر دنیاوی ترقی سے محروم ہیں۔ حالانکہ اسلام کا پیغام توازن ہے۔ اسلام ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ ہم دنیا کو چھوڑ دیں یا دین کو نظر انداز کریں، بلکہ وہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم دونوں کو ساتھ لے کر چلیں۔ قرآن بھی پڑھیں اور کائنات کے راز بھی سمجھیں۔یاد رکھیں! علم ہی وہ دولت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی، علم ہی وہ روشنی ہے جو اندھیروں کو چیر دیتی ہے اور علم ہی وہ طاقت ہے جو انسان کو عزت و وقار عطا کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمانوں نے علم کو تھاما، دنیا ان کے قدموں میں جھک گئی اور جب انہوں نے علم کو چھوڑا، وہ خود دوسروں کے محتاج بن گئے۔
اگر ہم اپنے اسلاف کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں علم کی محبت کی بے شمار روشن مثالیں ملتی ہیں۔ بابائے کیمیا جابر بن حیان کو کون نہیں جانتا؟ انہوں نے کیمیا (کیمسٹری) کے میدان میں ایسی خدمات انجام دیں کہ آج بھی دنیا انہیں’’Father of Chemistry‘‘کے نام سے یاد کرتی ہے۔ انہوں نے سینکڑوں کتابیں لکھیں، تجربات کئے اور علم کو عملی شکل دی۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم صرف پڑھنے کا نام نہیں بلکہ تحقیق، تجربہ اور عمل کا نام ہے۔اسی طرح صوفیائے کرام میں ابو ہاشم جیسے بزرگوں نے روحانیت کے ساتھ علم کو جوڑ کر ایک نئی مثال قائم کی۔ انہوں نے نہ صرف باطنی اصلاح پر زور دیا بلکہ علم کی اہمیت کو بھی اُجاگر کیا۔ ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ علم صرف دنیاوی ترقی کے لئے نہیں بلکہ روحانی بلندی کے لیے بھی ضروری ہے۔ امام ابو حنیفہؒ ، جنہوں نے تجارت کے ساتھ ساتھ علمِ دین میں ایسی مہارت حاصل کی کہ آج کروڑوں مسلمان ان کے فقہی اصولوں پر عمل کرتے ہیں۔ امام بخاریؒ نے لاکھوں احادیث میں سے صحیح احادیث کو جمع کرنے کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ وہ میلوں کا سفر کرتے، سختیاں برداشت کرتے، مگر علم کے حصول سے پیچھے نہ ہٹتے۔ابن ِ سینا (Avicenna) طب کے میدان میں ایک روشن ستارہ تھے۔ ان کی کتاب القانون فی الطب صدیوں تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی رہی۔ البیرونی نے جغرافیہ، فلکیات اور ریاضی میں ایسی تحقیقات کیں جو آج بھی حیران کن ہیں۔ الخوارزمی نے الجبرا (Algebra) کی بنیاد رکھی، جس کے بغیر آج کی جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو کم کھاتے تھے، کم سوتے تھے، مگر علم کے لئے جیتے تھے۔ ان کے دلوں میں علم کی ایسی تڑپ تھی کہ وہ ہر مشکل برداشت کرنے کو تیار رہتے تھے۔ چراغ کی مدھم روشنی میں راتیں گزارتے، مگر کتاب ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ ان کے نزدیک علم ایک عبادت تھا، ایک مشن تھا، ایک زندگی کا مقصد تھا۔آج ہمیں خود سے سوال کرنا ہو گا، کیا ہمارے اندر وہی جذبہ ہے؟ کیا ہم علم کے لیے قربانی دینے کو تیار ہیں؟ یا ہم صرف آسانی، آرام اور وقتی خوشیوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں؟
ظاہر ہے کہ کامیابی کبھی آرام طلب لوگوں کو نہیں ملتی۔ کامیابی ان لوگوں کو ملتی ہے جو محنت کرتے ہیں، جو اپنے وقت کی قدر کرتے ہیں اور جو علم کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں۔
آج ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا، ہم کم کھائیں گے لیکن علم ضرور حاصل کریں گے، ہم کم سوئیں گے لیکن علم کے لئےجاگیں گے، ہم موبائل کا استعمال کم کریں گے اور کتابوں سے رشتہ جوڑیں گے،ہم اپنی راتوں کو ضائع نہیں کریں گے بلکہ انہیں سیکھنے اور عبادت میں گزاریں گے۔ماں کی گود سے لے کر لحد تک علم حاصل کرنا ایک ایسا اصول ہے جو ہمیں زندگی بھر متحرک رکھتا ہے۔ ماں کی گود ہماری پہلی درسگاہ ہے، جہاں ہم بولنا، چلنا اور اچھے برے کی تمیز سیکھتے ہیں۔ لیکن یہ سفر یہیں ختم نہیں ہوتا۔ اسکول، کالج، اساتذہ اور زندگی کے تجربات ،یہ سب ہمیں سکھاتے رہتے ہیں۔ جو شخص سیکھنا چھوڑ دیتا ہے، وہ ترقی کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
آج کے دور میں علم حاصل کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ انٹرنیٹ، آن لائن کورسز، ڈیجیٹل لائبریریز ،یہ سب ہمارے لئےعلم کے دروازے کھول رہے ہیں۔ لیکن افسوس کہ ہم ان وسائل کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کر رہے۔ ہم وقت ضائع کر رہے ہیں جبکہ ہمیں وقت کو سرمایہ بنانا چاہیے۔ ہمیں اپنے بچوں میں علم کی محبت پیدا کرنی ہوگی۔ انہیں صرف ڈگری کے پیچھے نہیں بلکہ سیکھنے کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔ گھروں میں مطالعہ کا ماحول بنانا ہوگا، اساتذہ کا احترام سکھانا ہوگا اور علم کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔آج اگر ہم نے خود کو نہ بدلا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ہمیں اپنے اندر انقلاب پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں علم کو اپنی پہچان بنانا ہوگا۔یاد رکھیں، جس دن ہم نے علم کو اپنا لیا، اسی دن ہماری تقدیر بدل جائے گی، ہماری کھوئی ہوئی عزت واپس آ جائے گی اور ہم پھر سے دنیا کی رہنمائی کرنے کے قابل بن جائیں گے۔
(رابطہ۔9890476581)