ارے مولوی صاحب آپ نہیں سمجھیں گے یہ ایک ایسا لفظ ہے جو تقریباً ہر جگہ بولا جاتا ہے اگر گفتگو کے دوران کچھ ایسی بات آ جائے جو دنیاوی چیزوں سے متعلق ہو تو عموماً لوگ اسی لفظ کا انتخاب کرتے ہیں اور بڑے فخر سے بولتے ہیں ،مولوی صاحب یہ دنیاوی چیزیں آپ کے سمجھ سے پرے ہے آپ بھی کیا ان سب باتوں میں لگ گئے وغیرہ مانو جیسے مولوی صاحب اس دنیا سے ہے ہی نہیں وہ کسی دوسرے پلانیٹ سے آیاہوایک الگ پرانی ہے۔اگر سمجھنے سمجھانے کی بات کی جائے تو ایک مولوی کسی بھی اعتبار سے غیر مولوی سے کم نہیں ہوتا اگر وہ انگلش زبان میں مہارت رکھتے ہیں تو یہ عربی زبان میں کامل دسترس رکھتے ہیں جو کہ انگریزی سے زیادہ سخت زبان ہے اگر وہ علم ساینس وغیرہ میں کمال رکھتے ہیں تو یہ قرآن و حدیث کے فہم میں زبردست صلاحیت رکھتے ہیں۔ بہر حال یہ کوئی موازنہ نہیں کیوں کہ علم ایک عظیم شی ہے جس کا حاصل کرنا سبھوں پر ضروری ہے خواہ وہ دینی علم ہو یا دنیاوی علم ہو مقصود یہ بتانا ہے کہ مولوی کسی بھی اعتبار سے کسی سے کم نہیں اگر انہیں دنیاوی چیزوں کا بہت زیادہ علم نہیں ہے تو آپ بھی دینی علوم سے نا بلد ہیں لیکن آپ کبھی بھی کسی چیز کو سمجھنے جائیں تو وہ یہ نہیں کہیں گے ارے فلاں صاحب آپ نہیں سمجھیں گے یا یہ آپ کے بس کی بات نہیں کیا آپ بھی ان سب چیزوں میں لگ گئے وغیرہ بلکہ وہ آپ کو پیار سے سمجھائیں گے آپ کے ذہن کے خلجان کو اچھے سے دور کرنے کی کوشش کریں گے جس طرحABCD کا یاد ہونا ایک آسان چیز سمجھا جاتا ہے اور کم سے کم انگریزی پڑھ لینا ہمارے معاشرے میں ایک دم لازم و ضروری سمجھا جاتا ہے اور اس کے نہ جاننے والے کو لوگ جاہل سمجھتے ہیں ٹھیک اسی طرح عربی حروف کا نہ جاننا ضروریات دین سے نا واقف ہونا اور قرآن پاک کو صحیح طریقے سے نا پڑھ پانا بھی ہے لیکن آپ نہیں دیکھیں گے کہ کوئی مولوی قران مجید نہ پڑھ پانے والے کو حقیر سمجھتا ہو بلکہ وہ انہیں سکھانے کی اور کوشش کرتا ہے خیر یہ سب باتیں اب محض باتیں ہی ہیں کیوں کہ اگر دیکھا جائے تو کوئی بھی ایسا میدان نہیں ہے جہاں ایک مدرسہ کا طالب علم نہ پہنچا ہوا ہو 2019 میں شاہد رضا نام کے ایک فرد نے دنیا کا تیسرا اور بھارت کا دوسرا سب سے مشکل ترین امتحان upsc کوالیفائی کیا جو کہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور سے پڑھا ہوا ایک مدرسہ کا طالب علم تھا بہار پبلک سروس کمیشن یوپی پبلک سروس کمیشن وغیرہ بڑے سے بڑے امتحان میں مدرسہ سے پڑھے ہوئے طالب علم کامیاب ہو رہے ہیں ڈاکٹر، انجینئر،پروفیسر، آفیسر ہر میدان میں مدرسہ سے فارغ طلبہ پہنچ چکے ہیں صرف دنیاوی علوم نہیں بلکہ سیاست میں بھی اچھے اچھے مولوی آپ کو نمایندگی کرتے ہوئے مل جائیں گے۔ لہٰذا جب کسی بھی میدان میں مولوی صاحب پیچھے نہیں ہے تو یہ لفظ مولوی صاحب آپ نہیں سمجھیں گے"بےجا نا مناسب اور باطل ہے اس لیے ہمیں اپنی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے سوچ بدل کر دیکھیے دنیا بدلے گی اور یہ کہنا نا مناسب نہیں ہوگا کہ مولوی صاحب آپ ہی بہتر سمجھیں گے کیوں کہ آپ ہم سے بہتر ہیں آپ ہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے انما یخشی اللہ من عبادہ العلماؤا بےشک علماء ہی اللہ سے ڈرتے ہیں اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نے فرمایا ہے فقیہ واحد اشد علی الشیطن من الف عابد یعنی ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے۔ بلا شبہ عالم کی صحبت میں وقت گزارنا دنیاوی لہوو لعب میں وقت گزارنے سے بہت افضل ہے لیکن اس قدر مقام و مرتبہ ہونے کے باوجود بہت سارے لوگ علماء کو کمتر سمجھتے ہیں علماء میں خامیاں نکالنا ان کی عیب جوئی کرنا کچھ لوگوں کا محبوب مشغلہ بن گیا ہے اور ہمارا معاشرہ اس قدر بے راہ روی کا شکار ہو چکا ہے کہ اگر کوئی علماء کے خلاف لکھے یا انکی شان میں گستاخی کرے تو اسے خوب داد و تحسین سے نوازتے ہیں حق گو بے باک جیسے معزز القاب سے نوازتے ہیں جس کے قابل وہ بالکل نہیں ہوتے۔ایک چلن اور ہمارے معاشرے میں خوب زور وشور سے چلا ہوا ہے وہ یہ کہ انٹرنیٹ موبائل ایپلیکیشن کے ذریعہ حدیث نکال کر زبردست انداز میں بیان کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بہت ساری غیر حدیث کی آمیزش حدیث میں ہو رہی ہے اتنا ہی نہیں جو حدیث کی اصل عبارت بھی نہیں پڑھ سکتے وہ بھی انٹرنیٹ وغیرہ کے ذریعہ انگلش وغیرہ دوسری زبانوں میں غیر حدیث کو حدیث سمجھ کر پڑھ رہے ہیں اور دوسروں کو بتا بھی رہے ہیں اور اگر اس بارے میں انہیں سمجھایا جائے اور کہا جائے کہ کچھ دن دینی تعلیم حاصل کر لو اس کے بعد حدیث پڑھنا اور دوسروں کو بتانا تو جہالت کی وجہ سے علمائے کرام کو نشانہ بنانا شروع کرکے ان پر طرح طرح کے الزامات عائد کرتے ہیں کہ مولوی مولانا نے قرآن وحدیث کو اپنے لیے صرف خاص کر لیا ہے اگر ہم خود سے پڑھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں تو غلط اور یہ صحیح وغیرہ وغیرہ تو اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ اگر آپ دنیاوی کوئی بھی سبجیکٹ پڑھیں خواہ وہ علم ریاضی ہو علم ساینس ہو یا پھر علم طب اس کے لیے آپ کو ایک استاذ کی ضرورت پڑتی ہے جو آپ کو پڑھاتا ہے اور سمجھاتا ہے اس کے بعد ہی آپ کو اس فن پر قدرت حاصل ہوتی ہے جب دنیاوی علوم کے لیے آپ کو استاذ کی ضرورت پڑتی ہے تو پھر قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لیے بھی بے شک آپ کو استاذ کی ضرورت پڑے گی بغیر اس کے آپ قرآن و حدیث خود سے سمجھ ہی نہیں سکتے مثلاً قرآن پاک میں ایک مقام پر یداللہ بیان کیا گیا ہے جس کا اگر ظاہری معنی ہاتھ مراد لیں جو جسمیت پر دلالت کر رہا ہے تو یہ گمراہی و بد مذہبی ہے بلکہ یہاں ید سے مراد طاقت و قوت ہے تو اب اگر کوئی خود سے سمجھنے کی کوشش کرے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے لیے ہاتھ ثابت کرے گا جو کہ غلط ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ جسم و جسمانیت سے پاک ہے ایک ایسا واقعہ میں نے خود مشاہدہ کیا ہے ایک شخص نے ایک آیت کا معنیٰ اپنی طرف سے خود نکال لیا جب کہ اس کا ظاہری معنی وہاں خوب ظاہر تھا جب میںنے اسے سمجھایا تو پہلے اس نے انکار کیا اور بے جا دلیلیں دینے لگا لیکن پھر بعد میں اس نے توبہ کیا اس طرح کے بہت سارے لوگ ہمارے معاشرے میں ہیں جو اپنے آپ کو آزاد خیال بول کر خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اس حدیث پاک کا مصداق بنتے ہیں کہ آخر زمانہ میں ایسے لوگ ہوں گے جو بغیر علم کے فتویٰ دیں گے تو وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے بلا شبہ ایسے بہت سارے لوگ اب موجود ہیں جن پر قدغن لگانا بہت ضروری ہے اگر واقعی آپ کو قرآن و حدیث سیکھنا ہے تو آپ کسی جاننے والے سے سیکھیں جب اچھی طرح علمحاصل ہو جائے تو خوب قرآن و حدیث بیان کریں اور ثواب کے مستحق بنیں نہ کہ انٹرنیٹ وغیرہ سے غلط صحیح پڑھ کر اسے بیان کرنے لگیں قرآن پاک میں کہا بھی گیا ہے کہ اگر تم کچھ نہیں جانتے تو جاننے والوں سے پوچھو فا السٔلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون اہل ذکر سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے اس کے باوجود اب اگر کوئی بغیر جانے خود سے قابل بن کر قرآن و حدیث سمجھنے کی کوشش کرے تو ہو سکتا ہے وہ گمراہی کی راہ پر چلا جائے اب اگر انہی سب چیزوں سے علمائے کرام روکیں اور صحیح راہ دکھائیں تو جاہل صفت انسان اپنی جہالت کی وجہ سے ان پر طعن و تشنیع کرنے لگتے ہیں حالاں کہ علمائے کرام پر طعن و تشنیع کرنا حرام ہے اور ایسے لوگوں کے بارے میں وعیدیں آئی ہیں۔ حدیث پاک میں ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عالم زمین پر اللہ تعالیٰ کی دلیل حجت ہے تو جس نے عالم میں عیب نکالا وہ ہلاک ہو گیا (جامع صغیر) اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فرماتے ہیں جاہل بوجہ جہل اپنی عبادت میں سو گناہ کر لیتا ہے اور مصیبت یہ کہ انہیں گناہ بھی نہیں جانتا اور عالم دین اپنے گناہ میں وہ حصہ خوف و ندامت کا رکھتا ہے ایک اور مقام پر فرماتے ہیں اس (عالم) کی خطا گیری (بھول نکالنا) اور اس پر اعتراض حرام ہے اور اس کے سبب رہنمائے دین سے کنارہ کش ہونا اور استفادۂ مسائل (مسائل میں رہنمائی لینا) چھوڑ دینا اس کے حق میں زہر ہے ( فتاویٰ رضویہ شریف) اسے پڑھنے کے بعد آپ معاشرے کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ایک جاہل جسے وضو اور غسل کے فرائض کا بھی صحیح علم نہیں وہ انٹرنیٹ وغیرہ کے ذریعے غلط صحیح معلومات حاصل کر کے کھلے عام فتوے صادر کر رہا ہے امام صاحب کی خامیاں نکال رہا ہے علمائے کرام پر طعن و تشنیع کر رہا ہے آپ مولوی ہیں بازار میں نہیں گھوم سکتے آپ مولوی ہیں بغیر ٹوپی کے باہر نہیں نکل سکتے آپ مولوی ہیں شرٹ پینٹ پہننا آپ کے لیے حرام کے مثل ہے آپ مولوی ہیں باہر ہوٹلوں میں کھانا آپ کو زیب نہیں دیتا آپ مولوی ہیں یہ نہیں کر سکتے آپ مولوی ہیں وہ نہیں کر سکتے غرضیکہ آپ مولوی ہیں آپ سانس بھی نہیں لے سکتے اس لیے زہر کھا کر مر جائیں۔ ایک سے ایک طرح طرح کے عجیب وغریب خامیاں نکالتے ہیں۔
Being a moulvi it's not easy
مولوی ہونا آسان نہیں ہے جتنا ان سب چیزوں سے اسلام نے ہمیں روکا ہے اتنا ہی ہمارا معاشرہ اس میں ملوث ہے اگر کوئی عالم خلاف شرع کامکر رہا ہے تو امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے ہوئے اس سے ایسا کرنے کی وجہ پوچھ سکتے ہیں لیکن جھوٹی چھوٹی باتوں پر غلطیاں اور خامیاں نکالنا کسی طرح بھی درست نہیں۔ لہٰذا اب ہم یہ سوچ بدل کر کہ مولوی عالم بن کر کچھ نہیں کیا جا سکتا اپنے بچوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم بھی دلوائیں تاکہ وہ غلط اور صحیح میں تمیز کر سکیں قرآن و حدیث کو اچھی طرح سمجھ کر پڑھ سکیں اور ہم پر یہ فرض ہےکہ ہم علمائے کرام کی تعظیم کریں ان کی قدر کریں انہیں اپنی آنکھوں کا سرمہ بنا کر رکھیں اور اس طرح کے الفاظ کہ مولوی صاحب آپ نہیں سمجھیں گے یا کوئی بھی ایسا لفظ جس سے ان کی تحقیر ہو ہرگز اپنی زبان پر نہ لائیں کیوں کہ جو بندہ قرآن و حدیث سمجھ سکتا ہے وہ دنیا کی ہر چیز سمجھ سکتا ہے ۔