مولانا طارق حمید شاہ ندوی
کسی مصروف بازار میں اگر ایک نوجوان کو سفید لباس اور عمامہ میں، آلو تولتے یا سبزی بیچتے دیکھا جائے تو بظاہر یہ منظر تعجب خیز نہیں ہونا چاہیے، اس لئے کہ اسلام نے محنت، تجارت اور رزقِ حلال کو باعثِ عزت قرار دیا ہے۔ مگر جب یہی منظر ایک گہرا سوال بن جائے، جب یہ عمل شوق یا انتخاب نہیں بلکہ مجبوری کی علامت ہو، تب یہ تصویر محض ایک فرد کی نہیں رہتی بلکہ پورے معاشرے کے فکری و اخلاقی زوال کی عکاس بن جاتی ہے۔
یہ نوجوان جس کے سر پر عمامہ ہے، جو دینی وقار اور سادگی کا پیکر ہے، وہی شخص مسجد کے محراب میں کھڑا ہو سکتا تھا، قرآن کی آیات کی تلاوت کر سکتا تھا، نئی نسل کو نماز، اخلاق اور آخرت کی تیاری سکھا سکتا تھا۔ وہ نکاح کے خطبے پڑھانے والا، جنازوں کی امامت کرنے والا، اور لوگوں کو حلال و حرام کا شعور دینے والا ہو سکتا تھا۔ مگر آج وہ دین کی خدمت کے بجائے بازار کی گرد میں اپنے وجود کی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ عالمِ دین تجارت کیوں کر رہا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ اس پر مجبور کیوں ہوا؟ اس سوال کا جواب ہمیں اپنے اجتماعی رویّوں میں تلاش کرنا ہوگا۔ ہم نے علماء کی محنت کو صرف چند نمازوں اور چند درسی اوقات تک محدود کر دیا۔ ہم نے یہ سمجھ لیا کہ امام مسجد یا مدرس چند لمحوں کی ذمہ داری نبھا کر فارغ ہو جاتا ہے، حالانکہ وہ پورے سماج کی دینی، اخلاقی اور فکری تعمیر کا ستون ہوتا ہے۔
ہم نے ان کی معاشی قدر اس حد تک کم کر دی کہ ان کے لیے کرایۂ مکان، بچوں کی تعلیم، علاج اور بنیادی ضروریات کا پورا کرنا بھی دشوار ہو گیا۔ ہم بھول گئے کہ عالمِ دین بھی انسان ہے، اس کے بھی والدین ہیں، بیوی بچے ہیں، بیماریاں ہیں اور وقت کے ساتھ بڑھتی ہوئی ضروریات ہیں۔ جب مسجد یا مدرسے سے ملنے والی معمولی تنخواہ ان تقاضوں کو پورا نہ کر سکے تو پھر عزتِ نفس رکھنے والا شخص یا تو دین کی خدمت چھوڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے یا پھر گلی کوچوں میں محنت مزدوری کرتا ہے۔یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ محنت یا تجارت بذاتِ خود کوئی عیب نہیں، بلکہ یہ شریعت کی نظر میں پسندیدہ عمل ہے۔ مگر المیہ اس وقت جنم لیتا ہے جب عالم ِدین کا بازار میں آنا اس کی ذاتی رغبت نہیں بلکہ سماج کی ناقدری اور بے حسی کا نتیجہ ہو۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں ہمیں رُک کر سوچنا چاہیے، کیونکہ اس کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے۔
اگر علماء اپنی معاش کی فکر میں دن رات الجھ جائیں گے تو دینی تعلیم و تربیت کا فریضہ کون انجام دے گا؟ قرآنِ مجید کی ناظرہ تعلیم، حفظ، تجوید، حدیث اور فقہ کی تدریس کون کرے گا؟ مسجدوں کے محراب، جمعہ کے منبر اور دینی مجالس کس کے سہارے آباد رہیں گی؟ اس غفلت کا سب سے بڑا نقصان ہماری آنے والی نسلوں کو ہوگا، جو دین سے ناآشنا اور اخلاقی اقدار سے محروم ہوتی چلی جائیں گی۔
اس لئے اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے رویّوں پر نظرِ ثانی کریں۔ علماء کی عزت محض زبانی تعظیم سے نہیں بلکہ عملی کفالت سے ہوتی ہے۔ انہیں اتنی معقول اور باعزت معاشی سہولت فراہم کی جائے کہ وہ یکسوئی کے ساتھ دین کی خدمت کر سکیں اور بازار کی خاک چھاننے پر مجبور نہ ہوں۔
یاد رکھیے، جس طرح استاد کے بغیر دنیاوی تعلیم کا تصور نامکمل ہے، اسی طرح عالمِ دین کے بغیر دینی تربیت ممکن نہیں۔ اگر ہم نے آج علماء کا سہارا چھوڑ دیا تو کل ہماری نسلیں ہمیں دین کا ایک بنیادی سبق بھی نہ بتا سکیں گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں شعور، بصیرت اور انصاف کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنے علماء کی قدر، عزت اور کفالت کا فہم نصیب کرے۔ آمین۔
[email protected]