یومِ وفات
ڈاکٹر رفیع الدین ناصر
علامہ محمد اقبال برصغیر کے عظیم ترین شاعر، مفکر اور فلسفی تھے جنہوں نے اپنی شاعری اور فکر کے ذریعے نہ صرف مسلم امہ کو بیدار کیا بلکہ جدید دور کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے ایک ہمہ جہت نظریہ حیات پیش کیا۔ ان کا کلام مذہب، سائنس اور فلسفے کا حسین امتزاج ہے۔ اقبال نے قرآن مجید، اسلامی تاریخ اور مغربی فلسفے کا گہرا مطالعہ کیا اور اسے اپنی شاعری میں اس طرح ڈھالا کہ یہ آج بھی تازہ اور متاثر کن ہے۔ ان کے مذہبی رجحانات اسلام کی توحید، عشقِ مصطفیٰؐ اور امت کی وحدت پر مبنی تھے، فلسفیانہ رجحانات ’’خودی‘‘ کے تصور پر قائم تھے جو خود شناسی، عمل اور تخلیقی قوت پر زور دیتے ہیں، جبکہ سائنسی رجحانات جدید طبیعیات، کائنات کی وسعت اور سائنس و مذہب کی ہم آہنگی پر مبنی تھے۔ یہ مضمون ان تینوں رجحانات کا جائزہ لیتا ہے اور اقبال کے منتخب اشعار کے حوالے سے ان کی گہرائی کو واضح کرتا ہے۔
ڈاکٹر علامہ اقبال کو ہم سے جدا ہوئے آج 21اپریل 2026کو 88سال مکمل ہو چکے ہیں۔ اسکے باوجود وہ اردو ادب میں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں۔ دنیا بھر کے مفکرین نے ان پر مختلف زاویوں سے تحقیق کیا ہے۔ انکی شاعری میں فلسفہ کے ساتھ ساتھ مذہب اور سائنس کا گہرا امتزاج پایا جاتا ہے۔
اقبال کی مذہبی فکر کا مرکز قرآن مجید، سنت نبویؐ اور اسلامی توحید ہے۔ وہ اسلام کو ایک متحرک، انقلابی اور زندگی بخش نظام سمجھتے تھے، نہ کہ جامد رسومات کا مجموعہ۔ ان کے نزدیک مذہب صرف عقیدہ نہیں بلکہ عمل، اخلاق اور اجتماعی بیداری کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے مغربی مادیت پرستی اور مشرقی تصوف کی بے عملی دونوں کی تنقید کی اور سچے اسلام کی طرف واپسی کی دعوت دی۔ ان کی شاعری میں اللہ، رسولؐ اور قرآن کا ذکر بار بار آتا ہے جو ان کے دل کی گہرائیوں سے نکلتا ہے۔
اقبال کا مذہبی رجحان ’’عشق‘‘ اور ’’توحید‘‘ پر قائم ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ’’مسلمان کی پہچان اس کے ایمان اور عمل سے ہوتی ہے۔‘‘ ان کی مشہور نظم ’’شکوہ‘‘ اور ’’جوابِ شکوہ‘‘ میں مسلمانوں کی زوال پذیر حالت پر افسوس ہے لیکن جواب میں اللہ کی طرف سے امید کی کرن دکھائی جاتی ہے۔ ایک جگہ وہ کہتے ہیں ؎
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا (بانگِ درا)
یہ شعر مذہبی یکجہتی اور وطنیت کے ساتھ اسلام کے اصلاحی پیغام کو اجاگر کرتا ہے۔ اقبال مذہب کو فرقہ واریت سے بالاتر سمجھتے تھے۔ ان کی نظم ’’مسجدِ قرطبہ‘‘ اس مذہبی جذبے کی بہترین مثال ہے جہاں وہ اندلس کی عظمت کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عشق ہی زندگی کی اصل اور بنیادہے ؎
مرد خدا کا عمل عشق سے صاحبِ فروغ
عشق ہے اصلِ حیات، موت ہے اس پر حرام (بال جبرئیل)
یہاں اقبال مذہب کو محض نماز و روزے تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے تخلیقی عمل، جدوجہد اور امت کی بحالی سے جوڑ دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک قرآن ’’حرفِ قلِ عفو‘‘ کی تعلیم دیتا ہے جو عفو، انصاف اور جدتِ کردار کا پیغام ہے۔ انہوں نے ’’بالِ جبریل‘‘ میں لکھا ؎
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلمان
اللہ کرے تجھ کو عطا جدّتِ کردار
اقبال کا مذہبی رجحان صوفیانہ عشق اور نبویؐ کی سیرت سے جڑا ہے۔ وہ مولانا رومؒ کے شاگرد تھے لیکن رومی کی بے خودی کو اسلامی عمل سے ہم آہنگ کرتے ہیں۔ ان کا عقیدہ تھا کہ حقیقی مذہب دل کی پاکیزگی، عمل کی بلندی اور توحید کی پابندی ہے۔ یہ رجحان ان کی تمام شاعری میں موجود ہے اور مسلمانوں کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرنے کا ذریعہ بنا۔
اقبال کے فلسفیانہ رجحانات کا سب سے نمایاں پہلو ’’خودی‘‘ کا تصور ہے جو ان کی فلسفیانہ فکر کا مرکز ہے۔ خودی سے مراد غرور یا خود پرستی نہیں بلکہ خود شناسی، خودداری، خود اعتمادی اور تخلیقی قوت ہے۔ اقبال کا ماننا تھا کہ ’’من عرف نفسہٗ فقد عرف ربّہٗ‘‘ — جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا۔ یہ فلسفہ قرآن، رومی اور مغربی فلسفیوں (جیسے نیٹشے اور برگسن) سے متاثر ہے لیکن اقبال نے اسے اسلامی رنگ دیا۔ ان کے نزدیک خودی کا ارتقا ہی انسان کی معراج ہے۔
ان کی کتاب ’’اسرارِ خودی‘‘ (1915) اس فلسفے کی بنیاد ہے جہاں وہ فرد کی خودی کو ملت کی بے خودی سے جوڑتے ہیں۔ ’’رموزِ بے خودی‘‘ میں وہ فرد کی خودی کو اجتماعی اتحاد میں ضم کرتے ہیں۔ خودی فلسفہ عمل پر زور دیتا ہے، نہ کہ مراقبے یا بے عملی پر۔ اقبال فرماتے ہیں کہ خودی کو بلند کرنے سے انسان تقدیر کا مالک بن جاتا ہے۔ ان کا مشہور شعر ’’بالِ جبریل‘‘ سے ہے ؎
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
یہ شعر اقبال کے فلسفیانہ رجحان کا خلاصہ ہے۔ خودی کا یہ درجہ انسان کو اللہ کا خلیفہ بناتا ہے۔ اقبال نے نیٹشے کے ’’سپرمین ‘‘کو مسترد کرتے ہوئے اسلامی ’’مردِ مومن‘‘ کا تصور پیش کیا جو توحید پر قائم ہے۔ ان کے نزدیک فلسفہ حیات حرکت، جدوجہد اور تخلیق ہے۔ وہ کہتے ہیں ؎
خودی میں ڈوب جا غافل! یہ سرزندگانی ہے
نکل کے حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جا (بالِ جبریل)
اقبال کا فلسفہ مغربی مادیت اور مشرقی تصوف کی بے راہ روی دونوں سے بالاتر ہے۔ انہوں نے برگسن کے ’’زمانِ حقیقی‘‘ اور رومی کے ’’عشق‘‘ کو اپنی فکر میں شامل کیا۔ خودی فلسفہ فرد کو ذمہ دار بناتا ہے — قوم کی ترقی خودی کی ترقی پر منحصر ہے۔ یہ رجحان ان کی شاعری کو فلسفیانہ گہرائی عطا کرتا ہے اور آج کے نوجوانوں کے لیے خود اعتمادی کا سبق ہے۔
اقبال کا دور سائنسی انقلاب کا دور تھا۔ آئن سٹائن کا نظریۂ اضافیت، پلانک کا کوانٹم نظریہ اور ہائزن برگ کا عدم تعین (Uncertainty Principle) نے کائنات کے بارے میں روایتی تصورات کو چیلنج کیا۔ اقبال نے ان سب کا مطالعہ کیا اور سائنس کو مذہب کا حلیف قرار دیا۔ ان کے نزدیک سائنس فطرت کے راز کھولتی ہے جبکہ مذہب ان رازوں کو معنویت بخشتا ہے۔ وہ ’’Reconstruction of Religious Thought in Islam‘‘میں لکھتے ہیں کہ سائنس قطعی طور پر حقیقت مطلق تک نہیں پہنچ سکتی لیکن یہ مذہب کی راہ ہموار کرتی ہے۔ان کی شاعری میں سائنسی رجحان کائنات کی وسعت، متحرک تخلیق اور انسان کی تسخیرِ فطرت کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے۔ ان کا مشہور شعر ـ’’بالِ جبریل‘‘ سے ہے ؎
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں
یہ شعر نہ صرف سائنسی تجسس کو اجاگر کرتا ہے بلکہ کائنات کی لامحدودیت پر بھی روشنی ڈالتا ہے — جو آئن سٹائن کے اضافیت سے مطابقت رکھتا ہے۔ اقبال نے ’’جاوید نامہ‘‘ میں مریخ کے مثالی شہر’’مرغدین‘‘ کا ذکر کیا جہاں سائنس اور روحانیت کا امتزاج ہے۔ وہ کائنات کو ’’ناتمام‘‘ سمجھتے ہیں ؎
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون (بالِ جبریل)
یہ شعر قرآنی ’’کن فیکون‘‘ اور جدید سائنس کے متحرک کائنات (Expanding universe) کے تصور کو ملا کر پیش کرتا ہے۔ اقبال نے سائنس کو مسلمانوں کے لیے ترقی کا ذریعہ قرار دیا۔ وہ چاہتے تھے کہ سائنسی کتب کا اردو ترجمہ ہو تاکہ مسلمان جدید علوم سے واقف ہوں۔ ان کے نزدیک سائنس مادیت کی طرف نہیں لے جانی چاہیے بلکہ توحید کی طرف۔ وہ فرماتے ہیں کہ سائنس فطرت کا مطالعہ ہے اور فطرت اللہ کی نشانی ہے۔اقبال نے سائنسی مادیت کی تنقید بھی کی لیکن سائنس کی قدر کی۔ ان کے سائنسی رجحانات مذہب اور فلسفے سے جڑے ہوئے ہیں — سائنس خودی کو تقویت دیتی ہے اور خودی سائنس کو معنویت بخشتی ہے۔
اقبال کے مذہبی، سائنسی اور فلسفیانہ رجحانات ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے کے مکمل ہیں۔ مذہب (توحید) خودی کو بنیاد دیتا ہے، خودی سائنس کو تخلیقی قوت بخشتی ہے اور سائنس مذہب کی تصدیق کرتی ہے۔ ان کا پیغام ’’مردِ مومن‘‘ کا ہے جو خودی سے بلند، سائنس سے آگاہ اور اسلام سے وابستہ ہو۔ آج کے دور میں جب سائنس اور مذہب کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے، اقبال کا کلام بتاتا ہے کہ دونوں ایک ہیں۔اقبال کا کلام آج بھی زندہ ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو ستاروں سے آگے جانے کی ترغیب دی، خودی کی بلندی کا درس دیا اور اسلام کی عظمت کو یاد دلایا۔ ان کے اشعار نہ صرف ادبی شاہکار ہیں بلکہ عملی رہنما بھی۔ آج جب امت تقسیم کا شکار ہے تو اقبال کا پیغام وحدت، عمل اور جدوجہد کا ہے۔علامہ اقبال ایک ایسے مفکر تھے جنہوں نے مذہب کو زندہ کیا، فلسفے کو اسلامی رنگ دیا اور سائنس کو معنویت بخشی۔ ان کی شاعری دل کو چھوتی ہے، ذہن کو جگانتی ہے اور روح کو بلند کرتی ہے۔ ان کا کلام پڑھ کر آج بھی دل کہتا ہے ؎
خودی کی موت سے مشرق ہے مبتلائے زوال
مغرب نے خودی سے منہ موڑ کر اپنا نور بجھا دیا (ضرب کلیم)
اقبال کی فکر آج کے نوجوانوں، قوم اور امت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کے رجحانات نہ صرف ماضی کی عظمت بلکہ مستقبل کی راہ بھی دکھاتے ہیں۔
رابطہ۔ 9422211634
[email protected]