فہم و فراست
شہباز رشید بہورو
اخلاقی تربیت کے حوالے سے والدین کو ایک بنیادی کلیہ ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے اور وہ یہ کہ مربی کو دوسروں کی تربیت کرنے سے پہلے خود تربیت یافتہ ہونا ضروری ہے۔ درحقیقت دوسروں کے اخلاق سنوارنے کے لیے یہ لازم ہے کہ انسان خود اخلاق کا ایک عملی نمونہ بن کر سامنے آئے۔ جب والدین اپنی ذات کو اخلاقی اقدار کا آئینہ بنا لیتے ہیں تو بچے محض باتیں نہیں سنتے بلکہ کردار کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔
اگر والدین رول ماڈل بن کر بچوں کی تربیت کا عمل شروع کریں تو یہ فریضہ انہیں دنیا کا سب سے دلچسپ اور آسان کام محسوس ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر والدین خود اخلاقی تنزل کا شکار ہوتے ہوئے بچوں کی تربیت کرنا چاہیں، تو خواہ وہ کتنی ہی محنت کریں، اپنی خواہشات قربان کریں، یا جدید سے جدید ٹولز استعمال میں لائیں، پھر بھی پیرنٹنگ، تربیت اور پرورش انہیں ایک نہایت سخت اور مشکل کام محسوس ہوتی ہے۔اسی مسلسل ناکامی کے نتیجے میں بعض والدین ایک خودساختہ مفروضہ قائم کر لیتے ہیں کہ بچوں کی تربیت ان کا بنیادی فریضہ نہیں بلکہ یہ کام اساتذہ کا ہے۔ وہ اپنی اس بنیادی کمزوری کو دور کیے بغیر بچوں کی اصلاح کے لیے ہاتھ پاؤں مارتے رہتے ہیں، مگر نتیجہ صفر ہی رہتا ہے۔ چنانچہ کبھی وہ اساتذہ کی طرف رجوع کرتے ہیں، کبھی مہنگے ٹیوٹر مقرر کرتے ہیں اور کبھی یہ سمجھتے ہیں کہ بھاری ٹیوشن فیس ادا کر کے بچوں کے کردار کو بدلا جا سکتا ہے۔
بعض اوقات والدین کسی کاؤنسلر سے رابطہ کر کے کاؤنسلنگ کے ذریعے اخلاقی تربیت کروانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اگرچہ اساتذہ، کرام ٹیوٹرز اور کاؤنسلرز کی تعلیم و رہنمائی سے انکار نہیں، مگر یہ تربیت بنیادی تربیت نہیں ہوتی۔ دراصل یہ معاون کردار ایک مخصوص اسٹیج سے وابستہ ہے اور اس اسٹیج تک بچے کو پہنچانے کی ذمہ داری خصوصی طور پر والدین ہی پر عائد ہوتی ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ حضرت لقمانؑ کے کردار کو اپنائیں اور ان کی نصیحتوں کا عکس اپنی شخصیت اور طرزِ عمل میں نمایاں کریں۔ اسی طرح حضرت ابراہیمؑ کا کردار اختیار کر کے اپنے بچوں میں اسماعیلی انداز کی توقع رکھیں۔ انہیں یہ بات کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ بچہ ہر لمحہ اپنے والدین کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔
حیاتیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو چھوٹے بچوں میں مرر نیورونز(Mirror neurons) زیادہ ہوتے ہیں، جن کی بدولت وہ اپنے بڑوں سے سیکھتے ہیں۔ والدین جو کچھ کرتے ہیں، بچہ لاشعوری طور پر اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور والدین کی عادات و اطوار اس کے لاشعور میں راسخ ہو جاتے ہیں، جو بعد کی زندگی کے مختلف مراحل میں نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں۔ لہٰذا بچوں کی بہتر اخلاقی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ والدین اپنی تربیت کریں، اپنی زندگی، عادات، رویّے، گفتار اور کردار کو سنواریں۔ گویا پوری زندگی کا نقشہ اچھائی، اخلاق اور عملی کردار کی روشن خطوط پر استوار کریں۔
بچوں کی اخلاقی تربیت کے حوالے سے بنیادی مرحلہ یہ بھی ہے کہ والدین انہیں نظم و ضبط کا پابند بنانے کی کوشش کریں۔ تاہم اس کوشش کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب اس کا آغاز والدین اپنی ذات سے کریں۔ کیونکہ نظم و ضبط کے معاملے میں مربی کا یک طرفہ زور دینا کبھی بھی حقیقی ڈسپلن پیدا نہیں کر سکتا۔ڈسپلن(Discipline) کی عمومی تعریف یہی ہے کہ انسان اصول و ضوابط کے مطابق زندگی گزارے، خود ان کی پابندی کرے اور دوسروں کو بھی ان کا پابند بنائے۔ اگر والدین خود نظم و ضبط کی عملی مثال نہ بنیں تو محض زبانی ہدایات بچوں کے کردار میں راسخ نہیں ہو سکتیں۔
اسی لیے والدین کو اچھے والدین بننے کے بجائے ذمہ دار والدین بننے کی فکر کرنی چاہیے۔ ذمہ دار والدین وہ ہوتے ہیں جو اپنی ہر ذمہ داری کو پوری سنجیدگی اور پابندی کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ جب والدین وقت کی پابندی کریں گے تو بچے بھی وقت کی قدر و قیمت کو سمجھیں گے۔ جب والدین روزانہ قرآن کی تلاوت کو اپنا معمول بنائیں گے تو اس کا عکس بچوں کی زندگیوں میں بھی نمایاں ہو گا۔ اگر والدین انفاق کریں گے تو بچے بھی سخاوت اور ایثار میں آگے بڑھیں گے، اور اگر والدین سماج کے لیے ہمدردی اور خیر خواہی کا جذبہ رکھیں گے تو بچے بھی ہمدردی کا پیکر بنیں گے۔الغرض بچہ وہی کچھ بنتا ہے جو وہ اپنے والدین کو کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ اس لیے یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ آپ کا بچہ وہی ہے جو آپ خود ہیں۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں، جہاں ہر لمحہ بے شمار ڈسٹرکشنز (Distractions) کا طوفان ہمیں گھیرے ہوئے ہے، بچوں کی تربیت مزید ذمہ داری، محتاط رویے اور عملی نمونے کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر والدین خود نظم و ضبط، دیانت داری و امانت داری ، عبادت اور سماجی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو یہی اوصاف خاموشی سے بچوں کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔اخلاقی تربیت میں جہاں والدین کے ذاتی کردار کی نمائش بچوں کے روبرو نہایت اہم ہے، وہیں اخلاقی ماحول کی آرائش و تزئین بھی اپنی ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ماحول کی اخلاقی تزئین سے مراد یہ ہے کہ گھروں کے کمروں کو مفید کتابوں سے آراستہ کیا جائے، کلمۂ توحید اور دیگر قرآنی آیات کے خوب صورت فریم آویزاں کیے جائیں۔ ممکن ہے یہ بات بعض حضرات کے لیے قدرے عجیب محسوس ہو، لیکن بچوں کی تربیت کے حوالے سے اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔
ماہرین ِ تعلیم و نفسیات کے نزدیک بصری ماحول (Visual Environment) بچے کی تربیت میں سمعی ماحول کے مقابلے میں زیادہ گہرا اور دیرپا اثر رکھتا ہے۔ جس طرح بچہ والدین کے رویّوں کو دیکھ کر بہت کچھ سیکھتا ہے، اسی طرح وہ اپنے اردگرد موجود ماحول میں اچھی باتیں دیکھ کر، اچھے اور مثبت الفاظ تحریری صورت میں پا کر زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ یہی مناظر اور الفاظ آہستہ آہستہ اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں اور اس کی فکری و اخلاقی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرین اسی بنیاد پر یہ کہتے ہیں کہ بچہ دیکھ کر تقریباً ستر فیصد سے زیادہ سیکھتا ہے۔
بچوں کی اخلاقی تربیت کے لیے والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو اپنے ساتھ رکھنے کا خصوصی اہتمام کریں۔ والدین کے ساتھ رہ کر بچہ ان کے مثبت کردار کی جو جھلکیاں دیکھتا ہے، اسی طرز پر اور اسی رفتار سے اس کی نشوونما ہوتی ہے۔ یہ تربیت اور اثر کسی دوسرے، خواہ کتنا ہی اعلیٰ ماحول کیوں نہ ہو، وہاں سے حاصل نہیں ہو سکتا۔والدین اگر بچوں کے ساتھ گھل مل کر، ان کی فطرت اور صداقت کے مطابق تربیت کے ذریعے اخلاق کے موتی ان کی شخصیت میں نصب کر دیں تو یہ عظیم کام کسی اسکول یا مدرسے کے ذریعے کسی بھی درجے میں ممکن نہیں۔
دورِ جدید میں خصوصاً ماؤں کا مختلف مشاغل اور مصروفیات کی وجہ سے بچوں سے دور ہو جانا ایک نہایت ہی خطرناک رجحان بنتا جا رہا ہے، جس کے نتائج بچوں کی اخلاقی اور ذہنی تربیت پر منفی اثرات کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔جدید دور کے ان تعقّدات کی وجہ سے بچوں کی تربیت کے لیے متبادل انتظام نوکروں اور پرورش گاہوں کی صورت میں کیا جا رہا ہے۔ اس سے کوئی خیرخواہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے، بلکہ بچوں کا اخلاقی معیار پوری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ اس حقیقت کا احساس مشرق و مغرب کے مفکرین کو بھی ہوا ہے، چنانچہ ایک معروف مغربی مفکر الیکسس کارل (Alexis (Carrel, اپنی کتاب Man, the Unknownمیں کہتا ہے:’’دورِ جدید کے معاشرے نے عورتوں کی تربیت کو اسکولوں کے سپرد کر کے ایک بڑی غلطی کی ہے۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ مائیں اپنے بچوں کی پرورش کا حق ادا کرنے کے بجائے انہیں پرورش گاہوں کے حوالے کر دیتی ہیں اور خود یا تو اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتی ہیں یا اجتماعی دلچسپیوں میں لگ جاتی ہیں، ادبی اور فنی ذوق کی تسکین میں مشغول ہو جاتی ہیں، برج کھیلتی ہیں، سنیما جاتی ہیں، غرض مختلف تفریحات میں اس قدر مگن رہتی ہیں کہ وہ خاندان کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے اور اُن قیمتی مواقع کو ضائع کرنے کی جواب دہ بن جاتی ہیں جن میں بچے بڑوں کے ساتھ بیٹھ کر بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ کتے کا بچہ اگر اپنے ہم عمر پلوں کے ساتھ ایک ہی گھر میں بند کر دیا جائے تو اس کی نشوونما کبھی اتنی تیز نہیں ہو سکتی، جتنی اُس پلے کی ہوتی ہے جو اپنے ماں باپ کے ساتھ آزادانہ گھومتا پھرتا ہے۔ یہی فرق اُن بچوں میں بھی پایا جاتا ہے جو صرف اپنے ہم عمر بچوں میں گھرے رہتے ہیں اور اُن بچوں میں جو بڑوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچہ جسمانی (فزیالوجیکل)، عقلی اور جذباتی لحاظ سے وہی کچھ سیکھتا ہے جو اس کے گرد و پیش میں ہوتا ہے، جبکہ اپنے ہم عمر بچوں سے وہ بہت کم سیکھ پاتا ہے،خصوصاً جب مدرسے یا اسکول میں بچے کو مسلسل تنہائی کا سامنا ہو تو اس کی شخصیت نامکمل رہ جاتی ہے۔ ایک فرد کی مکمل نشوونما اور اس کی قوتوں کے بھرپور اظہار کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے کچھ وقت تنہائی میں گزارنے کا موقع بھی ملے اور ساتھ ہی خاندان کے افراد کے ساتھ مل بیٹھنے کے مواقع بھی میسر آتے رہیں۔‘‘(جاری)۔