ڈاکٹر منظور احمد آفاقیؔ
دین اسلام دنیا کا واحد دین ہے جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کودنیاوی زندگی گزارنے کا مکمل طریقہ روشن اور واضح بیان کیا ہے۔یعنی انسان کی پیدائش سے لیکر موت تک اور موت سے عالم برزخ تک کے سارے فلسفہ وحکمت کے نکات سے آگاہ کیا ہے۔اسی الوہی دین ِ مبین کے اندر جہاں ارکانِ ایمان کے لیے کچھ بنیادی شرائط کا ہونا ضروری ہیں، وہیں اسلام کی مکمل عمارت پانچ ارکان پر مشتمل ہے ۔ان ارکان میں توحید باری تعالیٰ،صوم وصلٰوۃ، حج بیت اللہ اور زکواۃ۔ خدا نخواستہ اگر ان پنج ارکان میں سے کسی ایک ارکان کو خلوص نیت کے ساتھ ادا نہ کیا گیا ہو، تو انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوسکتا ہے۔لہٰذا ان ارکانِ خمسہ کو قبول کرنے میں ہی انسان دین اسلام پر قائم ودائم رہ سکتا ہے۔ان ہی پانچ ارکان میں سے نماز ایک ایسا رکن ہے جسے رسول اللہ نے اپنے آنکھوں کی ٹھنڈک سے تعبیر فرمایا ہے اور جسے پابندی کے ساتھ ادا کرنے سے بنی نوع انسان لغویات اور افحش سے بچ سکتا ہے۔ جس کسی نے بھی بغیر کسی شرعی عذر نماز پنجگانہ کی ادائیگی نہ کی ہو، ایسے نفوس کفر ونفاس کی حد تک پہنچ سکتے ہیں۔بلکہ دیگر چار ارکان پر دل وجان سے عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے ۔مضمون کی ضخامت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہاں صرف اس بات پر اکتفا کیا جائے گا کہ ماہ رمضان المبارک میں مساجد کا آباد ہونا اور عید الفطر کے فوراًبعدمساجدوں میں فرائض پنجگانہ،صدقہ وخیرات اور دیگر نیک اعمال جو صدقِ دل سے کیے جاتے ہیں میںاچانک لیت ولعل کرنے کے اسباب کیا ہیں۔
حال ہی کے الوداعی ماہ مبارک میں نمازی مسجدوں میں قطار در قطار نظر آرہے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس جوش وخروش میں اچانک سُستی کی لہر امڈ آتی ہے۔ اس کے پیچھے کون سا راز چھپا ہے وہاں تک رسائی پانے کی کوشش کی جائے گی۔ابھی زیادہ مدت بھی نہیں گزری جب امت مسلمہ عید کی خوشی مناتے رہے اوررمضان المبارک کو خوشی خوشی سنہری حروف زبان زد کرتے کرتے الوداع کیا ہے لیکن الوداعی کلمات ادا کرنے کے ساتھ ہی مسلمانوں نے نیک اعمال سے بھی کنارہ کشی اختیار کرنی شروع کر دی ہے۔کیا نماز کی وقت متعین پر ادائیگی، تلاوت کلام پاک کی گونج ،صدقہ وخیرات کی بہتات اور دیگر اعمال نیک صرف اور صرف ماہ رمضان تک ہی محدودرکھناکامیابی کا ضامن ہے۔ایسا رویہ اختیار کرناعالم انسانیت کے لیے بڑی گمراہی اور تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے ۔حالانکہ اس بابرکت مہینے میں عفو، مغفرت، بخشش، گناہوں سے اجنتاب، بشارت ،عاؤں کی قبولیت اور تزکیہ نفس حاصل کرنا ہی مطلوب ومقصود ہے۔ماہ مبارک بالخصوص مسلمانوں کے لیے تحفۂ ابدی سے کم نہیں ہے جس میں ایک مسلمان کو اس چیز کا موقع ہاتھ آجاتا ہے کہ وہ اپنی اُخروی زندگی کے لیے زیادہ سے زیادہ زارِ راہ جمع کریں۔ لیکن بدقسمتی کی وجہ سے بنی نوع انسان باقی ایام میں ان چیزوں کا متلاشی نظر نہیں آرہا ہے۔بلکہ خوابِ خرگوش میں محو ہوکر دیگر ایام میں ان عبادات کی قدر نہیں کرتا،جیسی کہ کرنی چاہیے۔اس کی عظمت کا راز قرآن کریم کے نزول ہونے کے باعث ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس مہینے میں شیطان کو قید کیا جاتا ہے۔بلکہ انسان اپنے آپ کے تئیںاخوت، بھائی چارہ، مساوات،یگانگت اور ہمدردی کا جذبہ دکھانے کی تلقین بھی خوب کرتا ہے اور ساتھ ہی مسکینوں، محتاجوں، یتیموں، بیواؤں اور غریبوں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کرکے بڑے پیمانے پر معاونت کی جاتی ہے۔ انسان بدیات سے کنارہ کشی کرنے کا مستحکم ارادہ اپنے اندر پیدا کرتے ہوئے یادِ الٰہی میںخوش مزاجی کے ساتھ محو نظر آتے ہیں ۔لیکن جوں ہی شوال کا چاند آسمان پر نمودار ہوتا ہے مسجدوں سے نمازی اور قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے اچانک غائب ہو جاتے ہیں اور دنیا کے محاشی اڈوں میں اپنی شراکت کو یقینی بناتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے اس بات کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ایسا اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ماہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ اختتام ہونے کے ساتھ نعوذباللہ نعمتوں، رحمتوں اور برکتوں کا زوال ہونا شروع ہو جاتا ہے لیکن ایسا قطعی طور پر نہیں کہا جا سکتا ہے کہ باقی ماہ کے اندر اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت لازمی نہیں ہے ۔اور شاید وباید ایک انسان اب اس گمان میں رہتا ہے کہ باقی سال کے اندر اب انسان کو کھلی چھوٹ ہے کہ وہ جیسے چاہیے اپنی زیست کے اوقات بسر کرسکتا ہے اور میرے خیال میں ایسا گمان رکھنا خسارت کا باعث بن سکتا ہے ۔حالانکہ رمضان اور غیر رمضان میں بھی اللہ تعالی ٰکی عبادات کو اولین فرائض کے طور پر نبھانے کی مکمل کوشش کرنی ہے۔ دراصل آج کل بنی آدم نے دنیا میں آنے کا مقصد شایدوباید یہ سمجھا ہے کہ انسان جیسے چاہیے زندگی گزار سکتا ہے لیکن ایسا سوچ رکھنابالکل ناقص ہے ۔بلکہ یہ تباہ کن گمراہی ہے اور جو کوئی بھی ایسا شعور رکھتا ہو وہ تاریک اختری میںاپنے آپ کو ڈال رہاہے۔ ایسے حضرات کو اپنے من میں جھانک کر سوچ وبچار کرکے اللہ کے رنگ میں رنگ ڈالنا چاہیے جو انہیں راہ راست پر گامزن کرسکیں۔انسان دراصل اپنے آپ کو دنیا کے رنگ رلیوں اور دیگر غیر مہذبانہ امور کو انجام دینا ہی مدعائے حیات سمجھ بیٹھاہے اور ایسا کرنا ہی اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں۔جس سے انسان کی دنیاوی اور اُخروی زندگی کافی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے اور جسے بعد میں اللہ تعالی کے دربار میں رسوائی کے سوا کچھ ہاتھ آنے والا نہیں ہو گا۔ لہذا دنیا کے اس حیات ِجعفر میں اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگ ڈال کر زیست کو کامیاب بنانے کی سعی جمیل کرنی چاہیے اور ایسے عوامل کی محافظت ہی بنی نوع انسان کو نجاتِ اُخروی کا سبب بن سکتا ہے ۔
اگر چہ رواںسال دنیا ایک سنگین بحران سے گزر رہا ہے جہاں ایک انسان معاشرتی زندگی میں بیسوںمسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔لیکن اس کے باوجود بھی آج کل کا نوجوان ٹس سے مس نہیں ہو رہا ہے ۔بلکہ اس کے عزائم عزازیلی اتنے خطرناک ہیں کہ سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ لہذا پوری انسانیت کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے اپنے گناہوں کی بخشش اور توبہ و استغفار کرنے کا بہترین موقع ہاتھ آیا ہے۔ لیکن پوری دنیا خاص کر اُمت مسلمہ پھر سے خواب خرگوش میں محو زندگی گزارنے کے عادی بن گئے ہیں جنہیں وہاں سے نکالنے کے لئے کسی درد مند مصلح کی ضرورت ہے جو غفلت میں پڑی قوم کو راہ راست کی طرف رہنمائی کر سکیں۔ بلکہ یوںکہہ سکتے ہیں کہ شوال کا چاند نکلتے ہی امت مسلمہ پھر غفلت کی زندگی بسر کرنے پر آمادہ ہونے لگی ہے اور غفلت کی زندگی گزارنی ہی عذاب الہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ ایسے رویے سے ہمارے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید مشکلیں پیدا ہوسکتی ہیں۔میں اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ماہ رمضان المبارک کے اختتام پذیر ہونے کے ساتھ ہی پوری امت مسلمہ ایک ماہ سے بھولے ہوئے سبق کی مشق دوبارہ شروع کیوں کرنے لگتے ہیں۔ آج کل کے انسان کو تب تک ایسے سنگین حالات کا سامنا ضرورکرنا پڑے گا جب تک ان عزائم تاریکی میں اپنے آپ کونبرد آزما ہونے کے لئے سچے دل اور یکسوئی کے ساتھ راہ راست پر آنے کی کوشش نہ کریں۔اگر ہم اپنی زندگی میں دین الہیٰ کے احکامات کو صادر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں توکامیابی ہماری مقدر بن جائے گی اور ہم دنیا میںمغلوب اور آخرت میں سرخ رو ہوکر کامیابی کی کمندیں حاصل کرسکتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ پوری اُمت مسلمہ کو صحیح راہ پر گامزن ہونے اور اعمالِ نیک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین )
رابطہ۔6005903959