جموں//دیہی ترقی اور پنچایتی راج کے وزیر عبدالحق خان نے آئی ڈبلیو ایم پی کاموں کے تحت عمل ااوری کے دوران غیر اطمینان بخش کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس پروگرام کے تحت ہوئے کم کام کا سنجیدہ نوٹس لیا۔جموں صوبے میں آئی ڈبلیو ایم پی کے کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے دوران وزیر نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت ایسے کام یا تو ہاتھ میں لئے گئے ہیں یا مکمل کئے گئے ہیں جو زیادہ ضروری نہیں تھے یا تو اس پروگرام کے دائرے میں نہیں آتے تھے۔عبدالحق نے کہا کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ زمین پر پڑنے والے پانی کے بوند بوند کو بچایا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ بڑے پیمانے پر مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے قلیل مدتی مشن تیار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے پہاڑی علاقوں میں آبپاشی ڈیم بنانے کی کافی گنجائش موجود ہے تاکہ بہنے والے پانی کو موثر ڈھنگ سے بروئے کار لایا جاسکے ۔وزیر نے کہا کہ آئی ڈبلیو ایم پی کو ایم جی نریگا کے ساتھ نہیں ملایا جانا چاہیے کیونکہ ایم جی نریگا کا بنیادی مقصد روزگار فراہم کرنا ہے جبکہ آئی ڈبلیو ایم پی کا مقصد زمین اور پانی کو تحفظ دینا ہے ۔وزیر نے فیلڈ عملے اور ماہرین کی کارکردگی پر نظر گزر رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غیر اطمینان بخش کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔وزیر نے افسروں سے کہا کہ وہ ریاست کے بالائی دیہات میں واٹر ہارویسٹ ٹیکنکس اور چھوٹے ڈیم تعمیر کریں تاکہ پانی کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے ۔انہوںنے کہا کہ مختلف محکموں کے اشتراک سے فائدہ بخش کام کئے جاسکتے ہیں تاہم کاموں کو دوبارہ سے کرانے سے اجتناب کیا جانا چاہئے۔