لندن //طالبان اور افغان حکومت کے نمائندوں کے مابین مذاکرات میں ناکامی کے بعد 15 ممالک کے سفارتی مشن اور افغانستان میں نیٹو کے نمائندے نے عیدالاضحیٰ پر طالبان سے جارحانہ کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر طالبان کی سیاسی قیادت اور افغان حکومت کے وفد کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن مذاکرات ہوئے تاہم اس اجلاس کے بعد جاری بیان میں افغانستان میں بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کو روکنے کا کوئی عندیا نہیں دیا گیا جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ پھر مذاکراتی عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔تشدد کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور خراب صورتحال کے پیش نظر 15 ممالک کے سفارتی مشن اور نیٹو کے نمائندوں نے طالبان سے عیدالاضحیٰ کے موقع پر جارحانہ کارروائیاں روکنے کی اپیل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس عیدالاضحیٰ پر طالبان ایک اچھے مقصد کے لیے ہتھیار ڈال دیں اور دنیا پر قیام امن کے لیے اپنی سنجیدگی کو ثابت کریں۔اس بیان کی آسٹریلیا، کینیڈا، جمہوریہ چیک، ڈنمارک، یورپی یونین کے وفد، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، کوریا، نیدرلینڈز، اسپین، سوئیڈن ، برطانیہ، امریکا اور نیٹو کے سینئر سویلین نمائندوں کی حمایت کی ہے۔