ایجنسیز
پشاور//پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا میں گزشتہ تین دنوں کے دوران انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے مختلف آپریشنز میں سکیورٹی فورسز نے 21 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ بات ہفتہ کے روز فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہی گئی۔بیان کے مطابق، گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ضلع شمالی وزیرستان میں ہلاک ہونے والوں میں فتنہ الخوارج کے چار اہم سرغنہ بھی شامل تھے، جو سکیورٹی اہلکاروں اور بے گناہ شہریوں کے قتل سمیت متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں مطلوب تھے۔فتنہ الخوارج وہ اصطلاح ہے جو ریاست کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ ہفتے سے اب تک نہایت مہارت اور درستگی سے کیے گئے آپریشنز میں مجموعی طور پر 48 خوارج ہلاک کیے جا چکے ہیں۔بیان کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔مزید کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل انسدادِ دہشت گردی مہم کے تحت علاقے میں چھپے باقی ماندہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری رہیں گے۔مئی کے اواخر میں سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے دتا خیل علاقے میں 11 دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا، جبکہ جون کے پہلے ہفتے میں میران شاہ میں ایک خودکش حملے کی کوشش ناکام بنائے جانے کے بعد وہاں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق، مسلسل دو ماہ تک سکیورٹی صورتحال میں بہتری کے بعد مئی 2026 میں پاکستان کی سکیورٹی صورتحال میں نمایاں بگاڑ دیکھنے میں آیا، جس کی بنیادی وجہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات تھے۔