ایجنسیز
اسلام آباد//پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز کہا کہ امریکہ اور ایران مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے کے متن پر متفق ہو گئے ہیں اور ثالثی کرنے والے ممالک دونوں فریقوں کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ امریکہ اور ایران ایک حتمی اور متفقہ متن تک پہنچ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، جس نے ثالثی کی کوششوں میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے، اب دونوں متحارب ممالک کے ساتھ آئندہ اقدامات پر کام کر رہا ہے۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا،’’امن آج جتنا قریب ہے، پہلے کبھی نہیں تھا۔‘‘مذاکرات میں یہ ممکنہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے اس ہفتے تین روز تک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جوابی حملوں کا تبادلہ کیا، جس سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع جنگ کے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی جمعہ کو ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ایک معاہدہ پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو حالیہ ہفتوں میں متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ دونوں ممالک معاہدے کے قریب ہیں، نے عراقچی کی پوسٹ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی شیئر کیا۔امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو شروع کی گئی جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کو شدید عدم استحکام سے دوچار کر دیا اور خلیج فارس سے تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کو تقریباً معطل کر دیا۔ 7 اپریل سے ایک نازک جنگ بندی نافذ ہے۔عراقچی نے ایرانی سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ دونوں فریق ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کی جانب بڑھ رہے ہیں، جس کے تحت لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا جائے گا۔واضح رہے کہ اسرائیل مارچ کے اوائل سے لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ اسرائیل امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کا فریق نہیں ہے اور اس کی قیادت لبنان سے انخلا کا ارادہ ظاہر نہیں کر چکی۔عراقچی نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات ابتدائی معاہدے پر دستخط کے بعد 60 دنوں کے اندر طے کیے جائیں گے، تاہم ضرورت پڑنے پر اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
ایران کا جوہری پروگرام اس تنازعے کا ایک بنیادی نکتہ رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کو خدشہ ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے ایران جوہری ہتھیار حاصل کر سکتا ہے، جبکہ تہران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیاں صرف پْرامن مقاصد کے لیے ہیں۔امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بریفنگ دی، بتایا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کو تباہ کرنے یا وہاں سے ہٹانے کا عمل شروع کیا جائے گا۔عہدیدار کے مطابق، معاہدے پر دستخط کے بعد اگلے 60 دن افزودہ یورینیم کی منتقلی سے متعلق تکنیکی امور طے کرنے میں صرف ہوں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس عمل کی نگرانی کون کرے گا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مواد تین ایسے جوہری مقامات پر موجود ہے جنہیں گزشتہ سال امریکی حملوں میں نقصان پہنچا تھا۔اس معاہدے کا ایک اہم پہلو آبنائے ہرمز کی بحالی بھی ہے، جو تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس راستے کی بندش نے عالمی توانائی کی فراہمی کو متاثر کیا، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور دنیا بھر میں اشیائے ضروریہ کی لاگت بڑھا دی۔امریکی عہدیدار نے کہا کہ مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی شقیں بھی شامل ہیں۔دوسری جانب، عراقچی نے کہا کہ ایران ایسا معاہدہ چاہتا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فراہم کی گئی خدمات کے عوض فیس وصول کی جا سکے۔ جنگ کے دوران ایران نے اس آبی راستے پر ٹول سسٹم نافذ کیا تھا، جسے امریکہ اور دیگر ممالک بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔
عراقچی نے کہا،’’اس میں اخراجات شامل ہوں گے، اور ان اخراجات کی ادائیگی ضروری ہوگی۔‘‘امریکی سینٹرل کمانڈ نے جمعہ کی شب سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے والے متعدد ایرانی ڈرونز کو تباہ کر دیا۔تین علاقائی عہدیداروں کے مطابق، مجوزہ معاہدے میں ایران پر عائد پابندیوں کے مرحلہ وار خاتمے اور منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی کی شقیں بھی شامل ہونے کی توقع ہے۔ ان عہدیداروں نے مذاکرات کی حساسیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔ان کے مطابق، واشنگٹن اور تہران کی جانب سے منظوری کے بعد آئندہ چند روز میں معاہدے پر دستخط کی تقریب منعقد کی جا سکتی ہے۔صدر ٹرمپ نے جمعرات کو مذاکرات میں نمایاں پیش رفت کا دعویٰ کیا تھا، حالانکہ اس سے چند گھنٹے قبل انہوں نے حملوں میں شدت لانے اور ایران کی تیل کی صنعت پر قبضے کی دھمکی بھی دی تھی۔اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل اس معاہدے کا فریق نہیں ہے۔ جمعہ کو جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ اور ٹرمپ اس بات پرمکمل اتفاق رکھتے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے الگ بیان میں کہا کہ اسرائیل توقع کرتا ہے کہ ٹرمپ، ایران کے میزائل پروگرام اور اس کے حمایت یافتہ نیٹ ورک کو کمزور کرنے سمیت، اسرائیل کے بنیادی مفادات کا تحفظ کریں گے۔کاٹز نے خبردار کیا کہ اسرائیل ایران کے خلاف آزادانہ کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے اور لبنان، شام اور غزہ میں اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے انخلا نہیں کرے گا، نہ ہی مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی پناہ گزین کیمپوں سے اپنی فوج واپس بلائے گا۔علاقائی عہدیداروں کے مطابق، اس معاہدے کی ثالثی میں پاکستان، خصوصاً اس کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ سعودی عرب، ترکی، مصر اور قطر بھی اس عمل کی حمایت کر رہے ہیں۔