غورطلب
بشیر اطہر
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، شعور اور خوشحالی کی بنیاد سمجھی جاتی ہے، جبکہ امتحانات طلبہ کی محنت، قابلیت اور صلاحیت جانچنے کا ایک اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔ مگر جب انہی امتحانات کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگ جائے تو صرف تعلیمی نظام ہی نہیں بلکہ لاکھوں طلبہ کے خواب، امیدیں اور اعتماد بھی ٹوٹ جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں NEET امتحان کے پیپر لیک ہونے کی خبر نے پورے ملک میں شدید تشویش اور بے چینی پیدا کردی ہے۔ یہ محض ایک امتحانی بدعنوانی نہیں بلکہ نوجوان نسل کے مستقبل پر ایک سنگین حملہ ہے۔
NEET جیسے اہم اور باوقار امتحان کو ہمیشہ میرٹ، محنت اور قابلیت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ہر سال لاکھوں طلبہ دن رات ایک کرکے ڈاکٹر بننے کا خواب لے کر اس امتحان کی تیاری کرتے ہیں۔ والدین اپنی جمع پونجی بچوں کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں تاکہ ان کا مستقبل روشن ہوسکے۔ مگر جب چند مفاد پرست عناصر پیسے، رشوت اور سفارش کے ذریعے پورے نظام کو داغدار کردیں تو محنت کرنے والے طلبہ کے ارمان خاک میں مل جاتے ہیں۔آج بہت سے طلبہ ذہنی دباؤ، اضطراب اور مایوسی کا شکار ہیں۔ کئی امیدوار یہ کہتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں کہ اب انہیں امتحانی نظام پر کوئی اعتماد نہیں رہا۔ بعض طلبہ نفسیاتی مسائل سے دوچار ہوچکے ہیں کیونکہ وہ یہ محسوس کررہے ہیں کہ ان کی شبانہ روز محنت کو چند لوگوں نے ایک لمحے میں برباد کردیا۔ ایسے حالات میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر ان نوجوانوں کی ذہنی اذیت اور ٹوٹتے خوابوں کا ذمہ دار کون ہے؟
یہ حقیقت ہے کہ ایک طالب علم اپنی جوانی کے قیمتی سال، اپنی نیند، اپنی خوشیاں اور اپنی خواہشات قربان کرکے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن جب امتحان سے پہلے ہی سوالیہ پرچہ بازار میں فروخت ہونے لگے تو پھر قابلیت اور محنت کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ تب یہی محسوس ہوتا ہے کہ “جس کی لاٹھی اُس کی بھینس” والا نظام قائم ہوچکا ہے، جہاں حق اور انصاف کمزور پڑجاتا ہے۔سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر اس سنگین جرم میں ملوث افراد کون ہیں؟ کن لوگوں نے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے کی جرأت کی؟ اور کیا صرف امتحان دوبارہ لینے سے ان طلبہ کا ٹوٹا ہوا اعتماد بحال ہوسکے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ اعتماد ایک بار ٹوٹ جائے تو اسے دوبارہ قائم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ امتحانی ایجنسیوں کی ساکھ اس وقت شدید خطرے میں ہے اور عوام کے ذہنوں میں کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اس معاملے کی غیر جانبدارانہ، شفاف اور فوری تحقیقات کرے۔ جو بھی افراد اس جرم میں ملوث پائے جائیں، انہیں سخت ترین سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے کی ہمت نہ کرسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ امتحانی نظام کو جدید ٹیکنالوجی، سخت نگرانی اور شفاف طریقۂ کار کے ذریعے مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ دوبارہ ایسے افسوسناک واقعات پیش نہ آئیں۔اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو نوجوان نسل کا تعلیمی نظام سے اعتماد مکمل طور پر اٹھ سکتا ہے، جو کسی بھی قوم کے لیے نہایت خطرناک صورتحال ہوگی۔ آج لاکھوں محنتی اور مظلوم امیدوار انصاف کے منتظر ہیں۔ ان کی نظریں حکومت اور متعلقہ اداروں پر ٹکی ہوئی ہیں۔ اب وقت آچکا ہے کہ انصاف صرف ہوتا ہوا نظر نہ آئے بلکہ انصاف ہوتا ہوا محسوس بھی ہو۔
رابطہ۔7006259067