اس وقت پورے ملک کے صحت نظام میں ایک کشمکش کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے ۔جس کی شروعات اس وقت ہوئی جب 20؍ نومبرکو مرکزی حکومت کی وزارت آیوش نے ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے ماسٹر آف سرجری(Ayurved Vachaspati) کی ڈگری حاصل کرچکے آیوروید معالجین کو جنرل سرجری ،ہڈی،ناک کان گلے اور آنکھ جیسی پیچیدہ سرجری کرنے کی اجازت دے دی ۔جس کے بعد سے ایلوپیتھ معالجین میں شدیدغم و غصہ پایا جارہا ہے اور وہ اس نوٹیفکیشن کو ردّ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں دراصل وہ آیوروید معالجین کو ان پیچیدہ سرجری کرنے کا اہل نہیں سمجھتے اور وہ اس اجازت کو طبی نظام میں ایک بڑی مداخلت قرار دیتے ہوئے ’’مکسو پیتھی (Mixopathy)یعنی خلط ملط طریقہ علاج ـ‘‘سے تعبیر کررہے ہیں۔2014میں جب سے مرکز میں بھاجپا اقتدار میں آئی ہے تب ہی سے ہندوستانی یا دیسی طریقہ علاج کی ترقی کی طرف خاصی توجہ دے رہی ہے ۔2014ء میںحکومت نے اس کی ترویج کے لئے ایک علیحدہ وزارت آیوش(AYUSH) قائم کی جو آیورید،یوگاو نیچروپیتھی،یونانی،سدھااور ہومیوپیتھی کا مخفف ہے۔2017ء میں حکومت ہند نے کسی بیوروکریٹ کے بجائے وید راجیش کوٹیچا سابق وائس چانسلرجام نگر آیوروید یونیورسٹی کو وزارت آیوش کا سکریٹری بنایا جو تاحال اس عہدے پر قائم ہیں ۔وزارت کے قیام کے اصل مقاصد میں ہندوستانی طب یعنی آیورید،یوگاو نیچروپیتھی،یونانی،سدھااور ہومیوپیتھی کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانا،امراض اور ان کا شافی علاج مذکورہ طریقہ علاج میں دریافت کرنے کے لئے تحقیق اور اس کی عوامی افادیت میں اضافہ کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں لیکن یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ حکومت دیگر پیتھیوں کے مقابلے آیورویداور یوگا کی ترقی اور اشاعت پر زیادہ زور دے رہی ہے ۔یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ وزارت آیوش، تمام دیسی طریقہ علاج کے فروغ کے لیے قائم کی گئی تھی لیکن حکومت نے انہیں نظر انداز کردیا ہے اور آیوروید پر اس کی خاص عنایت ہے۔ ہمارے ملک میں جہاں ہر چیز کو مذہب کی عینک سے دیکھنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے ایسے میں آیوروید کو ہندو تہذیب و ثقافت سے جو ڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ جبکہ یونانی طریقہ علاج کو مسلمانوں سے منسوب کردیا گیا ہے ۔مذکورہ مفروضہ کی صداقت کے لئے وزار ت کے گزشتہ چھ سالوں میں لئے گئے وہ فیصلے ہی کافی ہیں جن میں آیورید اور یوگا کو ترقی دینے کی بات کی جاتی رہی ہے۔
عرصہ سے آیوش معالجین ایلوپیتھ دواؤں کے استعمال کی اجازت مانگتے رہے ہیںلیکن حکومت دبے پاؤں صرف آیوروید معالجین کو ہی یہ اجازت دینے کی خواہاں ہے جس کی نظیر سرجری سے متعلق حالیہ اعلامیہ ہے جب کہ یونانی میں بھی سرجری میں پوسٹ گریجویٹ کورس ایم ایس(ماہر جراحت)ہوتا ہے لیکن ’آیوش‘ کا حصہ ہونے کے باوجود اسے اس نوٹیفکیشن سے الگ رکھا گیا ہے ۔ حال ہی میں مرکزی حکومت کے ملازمین کی صحت خدمات کے لئے قائم سی جی ایچ ایس کے ذریعہ آیوروید ،یوگا اور نیچروپیتھی کے نجی مر اکز پر ڈے کئر کی سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن یونانی،سدھا ،ہومیوپیتھی وغیرہ کو اس سہولت سے باہر رکھا گیا ہے۔اسی طرح 2016ء میں ایمس نئی دہلی میںانٹگریٹیو میڈیسن سنٹرکا قیام عمل میں آیا تھا جس میں صرف آیوروید اور یوگا کو ہی شامل کیا گیا تھا جبکہ دوسری پیتھیوں کو یکسر نظر انداز کردیاگیا تھا،اب وہی سنٹر ایک باضابطہ ادارے کی شکل میں پروان چڑھنے والا ہے۔گذشتہ دنوں یونانی اطباء کی ایک تنظیم نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ابھی تک آیوروید ،یونانی اطباء کے جورجسٹریشن ایک ہی ادارے سے کئے جاتے تھے لیکن حکومت کی طرف سے اب آیوروید کے لئے ایک الگ بورڈ بنانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
آج جو یونانی کی صورتحال ہے اس کے ذمہ دار حکومت کے متعصبانہ فیصلہ کے ساتھ ساتھ خود یونانی اطباء بھی ہیں ۔ آزادی کے بعد دیسی طبوں کی ترقی کے لئے راہیں ہموار ہوئیں ،گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ سطح کے تعلیمی ادارے وجود میں آئے ۔آیوروید نے جس کا خوب فائدہ اٹھایا اور اپنی تحقیقات کوجدید اصولوں پر آگے بڑھایاجس کی وجہ سے اسے اب عالمی سطح پر ایک متبادل طب کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے ڈبلیو ایچ اوگلوبل سینٹر فارٹریڈیشنل میڈیسن کو ہندوستان میں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں سب سے زیادہ موقع جس پیتھی کو ملے گا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ طب یونانی کے بھی تحقیقاتی مراکز ہیں، تحقیق بھی ہورہی ہے مقالے تحریر کئے جارہے ہیں لیکن کوئی نئی چیزنکل کر سامنے نہیں آرہی ہے جو یہ ثابت کرسکے کہ طب یونانی میں ایک نیا اضافہ ہو ا ہے۔یونانی طب سے وابستہ تعلیمی اداروں میں تعلیمی نصاب یونانی اور جدید طب کا ملغوبہ بن گیا ہے ۔ یونانی نصاب میں جو نسخہ جات پڑھائے جاتے ہیں ان کی افادیت کا علم صرف متقدمین کی کتابوں میں ہی ملتا ہے ،ان کے سلسلے میں کوئی نئی تحقیق شامل نہیں کی جاتی جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ طب یونانی کے فارغین ایلوپیتھی علاج کرنے لگتے ہیں ۔پوسٹ گریجویٹ سطح پر ہونے والی تحقیقات کسی ایسے نئے عنوان پر نہیں ہورہی ہیں جو اس قدیم طب کو عالمی سطح پر کھڑا کرنے میں معاون ثابت ہو۔کوروناکے زمانے میں اس موذی مرض پر قابو پانے کے لئے شافی علاج تلاش کرنے کے مقصد سے جب آیوروید کے ماہرین ملک کے طول و عرض میں کئی درجن پروجیکٹ پر کام کررہے تھے اس وقت یونانی ماہرین ،اساتذہ ،سائنسداں اور محققین اپنی ذتی مشاغل سے لطف اندوز ہورے تھے ۔ذیابیطس،ہائی بلڈ پریشر،کینسر ،دمہ ،جوڑوں کے امراض آج کی برق رفتار زندگی میں ایک بڑا چیلنج بن کر ابھر رہے ہیں جس کوجدید طب بھی قابو کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے ۔طب یونانی کے خزانے میں ایسے نسخہ جات اور ادویات ہیں جو ان امراض کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں لیکن ابھی تک یہ کوئی سنجیدہ موضوع نہیں بن پایا ہے ۔بچوں کے امراض پر بھی کوئی خاص کام نہیں ہورہا ہے ،نہ ہی ایسی دوائیں تیار کی جارہی ہیں جو ان کی عمر،ذوق اور معیار کے مطابق ہوں ۔کوئی بھی طب اسی وقت مقبول ہوسکتی ہے جب وہ مریض کے جذبات اور اس کی سہولیات کو مقدم رکھے ۔ایسی دوائیں بنائی جائیں جن کی دستیابی ممکن ہو اوران کا استعمال کرنا آسان ہو ۔یہ بھی ایک المیہ ہے کہ یونانی دواساز کمپنیاں رجسٹرڈ یونانی معالجین سے کوئی رابطہ نہیں کرتیں بلکہ وہ اپنی ادویات کو ’اوور دی کاؤنٹر ‘دستیابی میں زیادہ دلچسپی لیتی ہیں ،اور خود علاجی جیسے مضرت رساں عمل کی ترویج کے فروغ میں حصہ دار بن رہی ہیں ۔جب کہ آیوروید دواساز کمپنیاں نہ صرف معالجین سے رابطہ پیدا کرتی ہیں بلکہ ان کی بیشتر دوائیں ایلوپیتھ معالج بھی استعمال کرتے ہیں ۔آیوروید دواساز کمپنیاں اپنی ادویات پر جدید تجربہ گاہوں ،اسپتالوں اور میڈیکل کالجوں میں تحقیق کرانے پر خاصی رقم خرچ کرتی ہیں لیکن یونانی دواساز اداروں کا تحقیق سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔
بلا شبہ یونانی طب کے ساتھ سوتیلے سلوک کا الزام جہاں کچھ حد تک صحیح ہے وہیں دیسی طبوں کو کنٹرول کرنے والی وزارت آیوش اور سی سی آئی ایم جیسے اداروں میں یونانی طب کی نمائندگی کرنے والے افراد کی سرد مہری اور مہر بہ لب اند از نے بھی یونانی طب کوکمتربنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ یونانی طب کو سرخ روئی اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے جب اس سے وابستہ لوگ اسکی ترویج اشاعت کے لئے صدق دلی سے کام کریںاور حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ آیوش میں شامل تمام پیتھیوں کے ساتھ منصفانہ رویہ اپنائے ورنہ بقول جگر مرادآبادی چمن ہی نہیں جس کے گوشے گوشے میں ۔کہیں بہار نہ آئے کہیں بہار آئے ۔
(مضمون نگار معالج اور آزاد کالم نویس ہیں )
ای میل۔[email protected]