انجینئر محمود اقبال
فضائی آلودگی فضاء میں یا ہوا میں معلق مضر صحت ٹھوس ،سیال اور گیسی ذرات کا ایک مرکب ہے ۔جب ہوا میں نقصان دہ گیسز، دھواں،گردوغبار اور کیمیاوی ذرات شامل ہوجائیں تو انسان ،جانوروں اور حتیٰ کہ نباتات کے لیے بھی عذاب جان بن جاتے ہیںاور سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے۔آلودگی کے نقصانات میں سانس کی بیماریاں جیسے دمہ، کھانسی اور الرجی وغیرہ ہیں۔دل کے امراض، آنکھوں اور گلے میں جلن کا روگ،ساتھ ہی ساتھ جانوروں اور پیڑ پودوں کے لیے بھی یہ نقصان دہ ہے۔
تازہ و خالص آکسیجن گیس کرہ ارض پر نہ صرف انسانی زندگی بلکہ تمام حیاتیاتی نباتاتی و زمینی انفرا اسٹرکچر کے دوام کی ضامن ہے۔ کرہ ارض کا 45 فیصد حجم آکسیجن (O2) گیس پر مشتمل ہے جو زمین کو سالم حالت میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ورنہ پورا کرہ ارض خس و خاشاب کی طرح اڑکر فضاء میں تحلیل ہوجاتا۔ پانی (H2O)دو گیسز سے بنی ہے ، آکسیجن اور ہائیڈروجن۔یعنی،دوسالمات ہا ئیڈروجن کے اور ایک سالمہ آکسیجن کا۔اگر پانی کے سالمات میں سے آکسیجن علحدہ ہوجائے تو ہائیڈروجن ہلکی ہونے کے سبب فضا میں اڑجائے گی اور پورا کرہ ارض دھول و مٹی کا غبارہ بن کر رہ جائے گا۔اوزون گیس (O3) آکسیجن ہی کا سالمہ ہے اور آکسیجن کے تین ذرات پر مشتمل ہوتا ہے۔ اوزون (Ozone) کی پرت سورج سے آنے والی مضر صحت (Ultra-Violet) الٹرا وائلٹ کرنوں کو فضا ہی میں روک دیتی ہے ورنہ زمین پر انسانی زندگی نیست و نابود ہوجاتی۔ فضا میں اوزون کی پتلی پرت پورے کرہ ارض کا احاطہ کرتی ہے لیکن اس میں بھی رخنے پڑچکے ہیں اور ان سوراخوں میں سے سورج کی مضر صحت الٹرا وائلٹ کرنیں زمین تک پہنچنے لگی ہیں۔
سب سے پہلے ہم یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ تازہ و صاف ہوا کیا ہے؟ کرہ ارض کی فضا میں دو اہم گیسز نائٹروجن (N2) اور آکسیجن (O2) کا وجود ہے جو بالترتیب 78 فیصد اور21 فیصد ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بقیہ ایک فیصد میں آرگن (Ar)،کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) میتھین (CH4)،ہائیڈورجن (H2)اور (He) گیسز شامل ہیں۔ مزید برآں اس کے علاوہ پانی کی رطوبت ہے جو 0.01 سے 4 فیصد کے درمیان ہے۔ اگر یہ 5 فیصد کے قریب ہوجائے تو فضا کو بہت ہی رطوبت پذیر کہا جاتا ہے۔مندرجہ بالا مربوط نظام قدرتی ہے اور زمین پر انسانی، حیاتیاتی و نباتاتی زندگی اور انفرااسٹرکچر کا ضامن ہے۔ اگر یہ توازن بگڑ جائے یا آلودہ ہوجائے تو وہ نہ صرف انسانی صحت پر مضراثرات مرتب کرتا ہے بلکہ موت سے بھی قریب سے قریب تر کرتا جاتاہے۔ ہوائی آلودگی کی وجہ سے انسان کو سانس لینے میں دشواری اور تکلیف ہوتی ہے اور وہ جانی و انجانی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے ایک سروے کے مطابق ہر سال قریب 45 لاکھ لوگ فضائی یا ہوائی آلودگی جس میںاندرونی و بیرونی دونوں عوامل شامل ہیں کا شکار ہوکر وقت سے پہلے ہی موت کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایک اور مستند رپورٹ کے مطابق زمین پر 10 میں سے 9 لوگ آلودہ سانس لینے پر مجبور ہیں۔اس گھمبیر ہوتی ہوئی صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کے اسباب وسدباب کیا ہیں؟ پوری دنیا میں فضائی آلودگی، صوتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلیوں ، گرین ہائوس گیسز اور گلوبل وارمنگ کو لے کر شور برپا ہے۔ پوری دنیا فکر مند ہے۔
ہماری خالص و تازہ ہوا یا فضا کن چیزوں، مرکبات یا گیسز سے آلودہ ہورہی ہے؟ اس کی 3 بڑی وجوت ہیں۔ زمین سے فضا میں مختلف مضر صحت گیسز کاا خراج ، انتہائی چھوٹے ٹھوس ذرات کا زمین سے فضا میں شامل ہونا اور مائع یا سیال انتہائی خفیف ذرات ،سایٔنسی زبان میں ائروسولس (Aerosols)کہتے ہیں، ان کا ہوا میں منتشر یا اڑکر فضا میں شامل ہونا ہے۔عالمی موسمیاتی ادارے(WMO)،کے ایک افسر لورنزو لیبراڈور کے مطابق جنگلات میں لگنے والی یا لگایٔے جانی والی آگ سے پیدا ہونے والے دھویں کے ذرات فضائی آلودگی کا ایک بڑا سبب ہیں۔
اس مختصر سے اور عام فہم زبان میں فضائی آلودگی کے پس منظر کو سمجھنے کے بعد ہم یہ جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر زمین کی فضا کب سے اور کیسے آلودگی کا شکار ہونے لگی ہے؟ بات 1750 عیسوی کے صنعتی انقلاب سے شروع ہوتی ہے جب یورپ نے ایک نئی کروٹ لی اور صنعت و حرفت کے میدان میں ایک ایسا انقلاب آیا جو آگے چل کر عذاب جان بن گیا جو آج یعنی 21 وی صدی میں اپنے بام عروج پر ہے اور عذاب جان بن چکی ہے۔ صنعتی انقلاب نے جہاں انسان کو ایک نئی جہت دی ،وہیں اس کے منفی پہلوئوں و مضر اثرات نے انسانوں کو شش و پنج میں مبتلا کردیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ صرف ثمرات کو سمیٹنے میں انسان کی توجہ رہی لیکن انسانی صحت و ماحولیات و قدرتی نظام پر اس کے کیا منفی اثرارت پڑھ رہے تھے ،اس سے انسانوں نے پہلوتہی کی اور نظرانداز کیا بالکل ہی سمجھ نہیں پائے۔ لیکن آج دنیا اس گمبھیر ہوتی ہوئی صورتحال کو اچھی طرح سے سمجھ چکی ہے اور اس پر ریسرچ، آگہی، اسباب و سدباب کے تمام ممکنہ ا قدامات عالمی سطح پر اٹھائے جارہے ہیں۔
انفرادی طور پر ہم کیااحتیاطی تدابیر اختیار کر سکتے ہیں؟گھرمیںدرخت اورپودے لگائیں۔اگر فلیٹ ہو تو اسمیںانڈور آکسیجن پلانٹس لگائیں۔سولار اور ونڈ انرجی کو ترجیح دیں۔گھروں یا گلیوں میں کچرا کوڑ ا کرکٹ جلانے سے ہرہیز کریں۔گھر کو صاف ستھرا رکھیں،دھول مٹی سے بچیں۔موسم جب باہر اچھا ہو توکھڑکیاں کھلی رکھیں۔ٹریفک سے دور رہیں۔گھر ہی میں ہلکی پھلکی ورزش کریں۔باغ و چمن میں کچھ وقت گزاریں۔لمبی لمبی سانسیں لیں۔چہل قدمی اور کچھ دیر ننگے پاؤں گھاس پر چلیں۔اللہ اگر توفیق دے اور صاحب ثروت ہوں تو،گھر اور کچن میں الیکٹرانک چمنی، واٹر فلٹر، فریش ایٔر انٹیک کا انتظام کریں۔
رابطہ۔6309727951