محمد ایوب گنائی
رمضان المبارک کا مہینہ جب اختتام کو پہنچتا ہے تو اسلام ہمیں ایک ایسی عبادت کا حکم دیتا ہے جو رمضان کی تمام روحانی کاوشوں کو مکمل کر دیتی ہے،یہ عبادت ہے صدقۂ الفطر۔
بظاہر صدقۂ الفطر ایک سادہ سا مالی عمل معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک ہمہ گیر نظامِ فکر اور عمل کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ عبادت انسان کے باطن کو پاک کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں مساوات اور ہمدردی کو فروغ دیتی ہے۔ صدقۂ الفطر ایک اجتماعی عبادت ہے جس میں معاشرے کے ہر فرد کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی شخص، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، عید کی خوشیوں سے محروم نہ رہے۔رمضان میں روزہ رکھتے ہوئے انسان اپنی خواہشات کو قابو میں رکھتا ہے، مگر اس دوران اس سے بعض لغزشیں بھی ہو سکتی ہیں۔ ان لغزشوں کی تلافی کے لیے صدقۂ الفطر کو ایک ذریعہ بنایا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں:’’رسول اللہؐ نے صدقۂ فطر کو روزہ دار کے لیے لغو اور بےہودہ باتوں سے پاک کرنے اور مسکینوں کے لیے کھانے کا ذریعہ بنانے کے لیے فرض قرار دیا۔‘‘ (سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)۔یہ حدیث ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ صدقۂ الفطر صرف ظاہری عبادت نہیں بلکہ ایک باطنی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ یہ ہمارے روزوں کی کمزوریوں کو پورا کرتا ہے اور ہمیں ایک بہتر انسان بننے کی طرف مائل کرتا ہے۔اسلام ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے جہاں امیر و غریب کے درمیان حد فاصل کم سے کم ہو۔ صدقۂ الفطر اسی مقصد کو عملی شکل دیتا ہے۔ عید کا دن خوشیوں کا دن ہے اور یہ خوشیاں اسی وقت مکمل ہوتی ہیں جب ہر فرد کے چہرے پر مسکراہٹ ہو۔اگر ایک طرف گھروں میں انواع و اقسام کے کھانے تیار ہو رہے ہوں اور دوسری طرف کوئی شخص بھوک یا تنگی کا شکار ہو، تو یہ عید کی روح کے خلاف ہے۔ صدقۂ الفطر اس عدم توازن کو ختم کرتا ہے اور ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے۔صدقۂ الفطر کے حوالے سے وقت کی پابندی بھی نہایت اہم ہے۔ حدیث میں آتا ہے:’’جو شخص اسے نمازِ عید سے پہلے ادا کرے تو وہ قبول شدہ صدقہ ہے، اور جو نماز کے بعد ادا کرے تو وہ عام صدقوں میں سے ایک صدقہ ہے۔‘‘( سنن ابی داؤد)۔یہ ہدایت ہمیں یہ شعور دیتی ہے کہ کسی کی مدد صرف کرنا ہی کافی نہیں بلکہ صحیح وقت پر کرنا زیادہ اہم ہے۔ عید سے پہلے دیا گیا صدقہ ہی اس عبادت کے اصل مقصد کو پورا کرتا ہے، کیونکہ اسی سے ضرورت مند اپنی تیاری مکمل کر سکتے ہیں۔صدقۂ الفطر کی اصل روح اخلاص میں پوشیدہ ہے۔ اگر یہ عمل دکھاوے یا رسمی ادائیگی کے طور پر کیا جائے تو اس کا اثر کم ہو جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اسے ایک عبادت سمجھ کر، اللہ کی رضا کے لیے ادا کریں۔چھپ کر دیا گیا صدقہ نہ صرف زیادہ اجر کا باعث بنتا ہے بلکہ یہ لینے والے کی عزتِ نفس کو بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اسلام ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ مدد اس انداز میں کی جائے کہ سامنے والے کو شرمندگی نہ ہو بلکہ اسے سہارا ملے۔یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صدقۂ الفطر کی اہمیت اور اس کی روح سے آگاہ کریںتاکہ اُن کے اندر بھی ہمدردی اور سخاوت کے جذبات پیدا ہوں۔
[email protected]
��