اِکز اِقبال
آخرکار برف آ ہی گئی۔ چلۂ کلاں کے دن گنتے گنتے جب انتظار بھی خاموش ہو گیا تھا، تب آسمان نے سفید جواب دے دیا۔ مگر یہ وہی برف نہیں تھی جس کی ضد ہم بچپن میں کیا کرتے تھے۔ برف ذرا دیر سے آئی، ذرا سنجیدہ تھی اور اپنے ساتھ ہوا کا شور بھی لائی تھی۔ خوشی ضرور ہوئی، ایک مانوس سی راحت ملی، مگر اس مسرت میں وہ بے فکری شامل نہیں تھی جو کبھی پہلی برف باری کے ساتھ خود بخود آ جایا کرتی تھی۔ گلیاں سفید ہو گئیں، پہاڑوں نے چادر اوڑھ لی، اور دل نے ایک لمحے کو سکھ کا سانس لیا،جیسے کسی پرانے وعدے کی جزوی تکمیل ہو گئی ہو۔
کھڑکی کے شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے میں نے چائے کا کپ دونوں ہاتھوں میں تھام رکھا تھا۔ سامنے پہاڑ خاموش کھڑے تھے، جیسے وہ بھی کسی وعدے کے پورا ہونے کا انتظار کر رہے ہوں۔ سردی موجود تھی، مگر اُس میں وہ بات نہیں تھی جو کبھی ہماری ہنسی میں ہوا کرتی تھی۔ وہ والی سردی نہیں جو ناک لال کرے اور کان جلائے۔
میں نے گرم نون چائے کا ایک اور گھونٹ لیا اور اچانک ذہن کے کسی کونے میں ایک لفظ گونجا، شین جنگ۔ یہ لفظ صرف ہمارے لیے کوئی کھیل نہیں تھا، یہ ایک زمانہ تھا۔ یہ ایک باقاعدہ غیر اعلانیہ عالمی جنگ ہوا کرتی تھی، جس میں نہ اقوامِ متحدہ مداخلت کرتی تھی، نہ کسی جنگی جرم پر مقدمہ چلتا تھا۔ بس برف ہوتی تھی، اور ہم ہوتے تھے۔
ہم بچے نہیں تھے، ہم سپاہی تھے۔ بغیر وردی کے، بغیر ہتھیاروں کے—صرف برف کے گولے اور بے خوف قہقہے۔ جیسے ہی آسمان سے پہلا سفید برف کا گولا زمین کو چھوتا، محلہ دو حصوں میں بٹ جاتا۔ دوستی وقتی طور پر دشمنی میں بدل جاتی اور دشمنی کھیل ختم ہوتے ہی پھر سے بھائی چارہ بن جاتی۔ ہمیں کسی اعلان کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ برف خود اعلان بن جاتی تھی۔
ماں کی آواز دور سے آتی: ’’زیادہ دیر باہر نہ رہنا، ہاتھ سن ہو جائیں گے!‘‘ اور ہم سن ہونے ہی تو جاتے تھے—ہاتھ بھی، پاؤں بھی، مگر دل کبھی نہیں۔
گلی کے کونے پر پہلا قلعہ بنتا۔ برف کو دبا دبا کر دیواریں کھڑی کی جاتیں۔ کوئی انجینئر نہیں تھا، مگر ہر کوئی معمار تھا۔ منصوبہ بندی ہوتی، حکمتِ عملی بنتی تھی۔ سرگوشیاں ہوتیں، غداروں کی پہچان کی جاتی۔ کبھی کوئی اپنے ہی قلعے سے دوسری ٹیم میں جا ملتا۔ (ایسے لوگ ہر دور میں ہوتے ہیں)
پھر اچانک پہلا گولا اُڑتا ،خاموشی ٹوٹتی اور جنگ شروع ہو جاتی۔ برف چبھتی تھی، مگر ہنسی اُس سے زیادہ گہری ہوتی تھی۔ کوئی گرتا، سب ہنستے۔ کوئی نشانہ خطا کرتا، خود ہی شرمندہ ہو جاتا۔ نہ کوئی جیتتا تھا، نہ کوئی ہارتا تھا—بس وقت ہار جاتا تھا، جو اتنی جلدی گزر جاتا۔جب انگلیاں کام کرنا چھوڑ دیتیں، جب ہاتھ سن ہو جاتے، اور ناک سرخ ہو کر احتجاج کرنے لگتی، تب جنگ بندی کا اعلان ہوتا۔ سب ایک دوسرے کو دیکھتے، جیسے پوچھ رہے ہوں: ’’کل پھر؟‘‘
گھر کے اندر داخل ہوتے ہی نون چائے ہمارا قومی علاج ہوتی تھی۔ ماں ہاتھ پکڑ کر چولہے کے پاس بٹھاتی اور میں سوچتا،کیا دنیا میں اس سے زیادہ محفوظ جگہ بھی کوئی ہو سکتی ہے؟
آج برف نہیں آتی ہے،اگر ہے بھی—تو اسٹیٹس میں۔آج بچے ہیں، مگر ان کے ہاتھوں میں موبائل ہیں۔بچے باہر نکلتے ہیں—تو سیلفی لینے کے لئے اور شین جنگ؟
وہ شاید وائی فائی کے سگنل میں دب کر رہ گئی ہے۔
اور میں سوچ رہا تھا ۔ برف کا دیر سے آنا محض موسم کی بے قاعدگی نہیں، یہ ایک واضح انتباہ ہے۔ پہاڑ خاموش ہیں، مگر ان کی خاموشی میں سوال چھپے ہیں۔ ہم ماحولیاتی تبدیلی کو اب بھی کسی دور کی کہانی سمجھتے ہیں، حالانکہ اس کے اثرات ہمارے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ ہم نے جنگل کاٹے، دریاؤں کو گندا کیا، فطرت کو صرف استعمال کی چیز سمجھا—اور اب جب موسم اپنا مزاج بدل رہے ہیں تو ہمیں حیرت ہو رہی ہے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں، یہ نتیجہ ہے۔ اگر آج برف کم ہے تو کل پانی کم ہوگا اور اگر ہم نے اب بھی سنجیدگی نہ دکھائی تو آنے والی نسلیں صرف برف ہی نہیں، ہماری کوتاہیوں کا بوجھ بھی اٹھائیں گی۔ موسم بدل رہے ہیں، مگر سوال یہ ہے۔کیا ہم بدلنے کے لیے تیار ہیں؟
میں نے چائے کا آخری گھونٹ لیا۔ باہر خاموشی ہے۔ نہ کوئی قلعہ، نہ کوئی للکار، نہ کسی گرتے بچے کی ہنسی۔ گلی خاموش ہے، جیسے اس نے بھی کسی پرانے قہقہے کو یاد کر کے آہ بھری ہو۔شین جنگ شاید ختم ہو گئی ہے،یا شاید ہم ہی بڑے ہو گئے ہیں!
مگر بعض راتوں میں، جب سردی ذرا زیادہ ہو جاتی ہے، اور ہوا کسی پرانے دروازے کو ہلکے سے کھٹکھٹاتی ہے، تو مجھے لگتا ہےکہ کہیں نہ کہیں، کسی گلی کے موڑ پر، کچھ بچے اب بھی برف کے گولے بنا رہے ہیں۔اور میں مسکرا دیتا ہوں۔ دل مطمئن ہوتا ہے۔کیونکہ کچھ کھیل ختم نہیں ہوتے،وہ بس یادوں میں منتقل ہو جاتے ہیںاور شین جنگ؟ ہماری زندگی کی وہ واحد جنگ تھی۔جس میں ہارنے والا بھی ہنستا تھا۔
(مضمون نگار کشمیر سے تعلق رکھنے والے کالم نگار اور تعلیمی شعبے سے وابستہ ہیں)
رابطہ ۔ 7006857283
[email protected]