سرینگر// شہر سرینگرمیں محرم کے جلوس کے دوران پولیس نے بیسوں عزاداروں کو حراست میں لیا جبکہ طرفین کے مابین جھڑپوں میں کئی اہلکاروں سمیت درجنوں عزادار زخمی ہوئے۔آئی جی کشمیر نے بتایا کہ مذہبی جذبات کا احترم کرتے ہیں لیکن مفاد پرستوں کے عزائم کو شکست دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ انتظامیہ نے منگل کو8ویں محرم پر سرینگر کے گرو بازار علاقے سے روایتی جلوس عزا کی برآمدگی کو روکنے کیلئے ایک بار پھر شہر کے کئی علاقوں بشمول تجارتی مرکز لالچوک میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کی تھیں۔ بٹہ مالو، جہانگیر چوک، ڈل گیٹ میں منگل کی صبح سیاہ لباس میں ملبوس عزادار نمودار ہوئے اور جلوس برآمد کرنے کوشش کی لیکن وہاں موجود سیکورٹی فورسزنے ان کی پیش قدمی کو روک کر انہیں زد کوب کرنے کے بعد اپنی تحویل میں لے لیا۔ سیول لائنز کے بیشتر علاقوں کی سڑکوں کو سیل کر دیا گیا تھا جس کے باعث شہر میں ٹریفک کی ہی نہیں بلکہ پیدل سفر کرنے والوں کی نقل و حمل متاثر رہی۔ جلوس عزا کی روک تھام کو یقینی بنانے کیلئے حکام نے پولیس تھانہ شہید گنج، بٹہ مالو، شیر گڑھی،کرن نگر، کوٹھی باغ، مائسمہ،کرالہ کھڈ، رام منشی باغ اور نہرو پاک کے تحت آنے والے علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کر دیا تھا ۔ لال چوک اور ڈلگیٹ کے داخلی اور خارجی راستوں پر خار دار تاریں بچھائی گئی تھیں تاکہ عزاداروں کو علاقوں تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔تاہم جہانگیر چوک اور ڈلگیٹ میں جلوس بر آمد کی کوشش کی گئی جس کے دوران پولیس نے ٹیرگیس کے گولے داغے ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ 1989 سے آبی گذر سے محرم کے جلوس پر پابندی عائد ہے۔واضح رہے کہ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ 30 سال بعد اس سال محرم کے جلوس نکالنے کی اجازت دی جائے گی۔ لالچوک اور آبی گزر میں بھی عزاداروں کے جلوسوں کو منتشر کیا گیا،جس دوران کئی صحافی بھی زخمی ہوئے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے ٹویٹر پر ایک ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ہم لوگوں کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہیں لیکن مفاد پرستوں کے ناپاک عزائم کو شکست دینا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے یہ باتیں شہر کے مختلف حصوں میں منگل کے روز جلوس عزا برآمد کرنے کی کوشش کے دوران عزاداروں کے خلاف پولیس ایکشن کے رد عمل میں کیا ہے۔