شہرت مطلب ناموری حاصل کرنا یا ہونا ہے ۔یہ وہ چیز ہے جو انسان کو کیچڑ میں کنول کی حیثیت عطا کرتا ہے صحرا میں نخلستان کا درجہ دیتی ہے۔تعریفوں یا تنقیدوں کا گلدستہ بناتی ہے ۔ شہرت کوئی کام نہیں ہے بلکہ کام کا نتیجہ ہے ایک پہچان ہے ایک حوصلہ ہے ہمت ہے طاقت ہے ۔شہرت نہ خریدی جاسکتی ہے اور نہ ہی بیچی جاسکتی ہے لیکن اپنے ہاتھوں سے برباد ضرور کی جاسکتی ہے۔یہ آسانی سے نہیں ملتی اور نہ ہی سب کو ملتی ہے ۔اچھے کام کرتے رہنے سے لوگوں میں ایک پہچان بنتی ہے جس کو ہم شہرت کہتے ہیں ۔جب لوگوں میں کسی چیز کی تشہیر ہوتی ہے اور لوگوں کو اس میں کوئی اچھی بات محسوس ہوتی ہے تو وہ لوگ اس چیز، کام ،صفت ،اخلاق ،سلوک ،انصاف ،غیرجانبداری کو ،خلوص کو ،رواداری کو ،سچائی کو ،صداقت کو ،امانتداری کو کھلے دل سے داد دیتے ہیں اور یہ داد جب نہ تھمنے والا دریا بن جائے تو شہرت کا باعث بن جاتا ہے ۔اس زاویے سے اگر دیکھیں تو شہرت نیک اور صالح کاموں کا پھل ہے جو دنیا میں مل جاتاہے ۔ایسی شہرت میں لوگوں کا اعتماد، لوگوں کی امیدیں اور توقعات بڑھ جاتے ہیں ۔لوگ مداح میں غلو سے کام لیتے ہیں اور ایک عام انسان کو بڑھے سے بڑھا رتبہ دے کر دیوتا بناتے ہیں ۔لیکن اس طرح کی شہرت کو برقرار رکھنے میں محنت لگتی ہے کیونکہ جب کوئی مشہور ہوجاتا ہے تو لوگ خوشامد کرتے ہیں جس کی لت کسی بیماری سے کم نہیں ہے ۔یہ لت تو لگ ہی جاتی ہے کیونکہ لوگ اپنا کام نکالنے کے لیے تعریفوں کے پل باندھتے ہیں پھر چاہیے تعریفیں واجب ہوں یا غیر واجب ۔مثال کے طور پر اگر کوئی منسٹر اچھے کام کرتا ہے اور لوگوں کی خدمت بلاجھجک اور خلوص نیت سے کرتا ہے ۔کوئی بھید بھاؤ نہیں کرتا یا کوئی امتیاز نہیں کرتا تو سائلوں کی بھیڑ بڑھ جاتی ہے ۔اگر ان سائلوں سے کوئی پوچھتا ہے کہ آپ بار بار صاحب سے ملنے کیوں آتے ہو تو وہ کہتے ہیں کہ صاحب بڑے نیک اور صالح انسان ہیں کبھی بھی خالی نہیں لوٹا دیتے ۔اس طرح امید بھری نظروں میں تعریفوں کے پھول بکھیرے جاتے ہیں۔ یوں یہ شہرت ایک انسان کو کبھی کبھی بھگوان کا درجہ بھی دلاتی ہے ۔جیسے کہ کسی کی پھونک سے بیماری دور ہونا یا اتفاقاً کوئی مراد بھر آنا وغیرہ وغیرہ کام تو خدا کرتا ہے لیکن نام انسان کا ہوتا ہے اور گمراہ انسانوں کی بھیڑ بڑھ جاتی ہے ۔خوشامد کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور سننے والا خود کو خدا سمجھ بیٹھتا ہے پھر وہ کام کرنے کے وعدے کرتا ہے جن پر خدا کا اذن ثبت نہیں ہوتا ۔لوگ بھی تو بڑھا چڑھاکر آوبھگت کرتے ہیں ۔ایسی شہرت ایک اچھے خاصے انسان کو غلط فہمی کا شکار کرکے زاہد بنا دیتی ہے حالانکہ اس میں کوئی زاہدانہ خصلت نہیں ہوتی ہے۔شہرت تب تک دعا ہوتی ہے جب تک انسان اپنی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے استعمال کرپاتا ہے ۔جس دن اس میں تھوڑی سی لاپرواہی ہوتی ہے اس دن سے شہر بدبھلا بن جاتی ہے ۔شہرت سے لوگ کبھی کبھی ناجائز فائدہ بھی اٹھاتے ہیں جیسے جب کوئی دکاندار اپنی دکان شروع کرتا ہے تو وہ اچھی چیزوں کو سستے داموں بیچ کر خریداروں کو اپنی طرف مائل کرتا ہے ۔جونہی شہرت کا عاشرواد دکاندار کو ملنے لگتا ہے تو اس کے تیور بدل جاتے ہیں ۔وہ ہر دونمبر کی چیز کو برانڈ کے نام سے بیچتا ہے اور کمائی کی گنگا بہنے لگتی ہے ۔اسی طرح ڈاکٹر صاحب کی شہرت بھی ڈاکٹر صاحب کے لئے گائے بناتی ہے جو دودھ دیتی رہتی ہے ۔پھر چاہیے دوایاں زہر ہوں یا امرت ۔لوگ ڈاکٹر صاحب کو صحت بخشنے والا دیوتا مانتے ہیں اور امیدوں کا دامن وسیع کرکے آتے رہتے ہیں ۔یہ شہرت کی اچھی شکلیں ہیں جو کسی نہ کسی صورت میں نیک کاموں کے بہانے ملتی ہے ۔اس میں خلوص کم اور ریاکاری زیادہ ہوتی ہے کیوںکہ وہ شہرت ہی کیا جس کا ڈھنڈورا نہ پیٹا جائے ۔ڈھنڈورا پیٹنے والے گھر کے افراد ہوتے ہیں ۔کیونکہ وہ بھی تو اپنا الو سیدھا کرنا چاہتے ہیں ۔دفتر میں جائیں تو اپنا نام نہیں اپنی شہرت کو پیش کرتے ہیں ۔۔تاکہ سننے والے کا دھیان ان کی طرف ہو اور وہ خاص عزت واکرام سے پیش آئے ۔وہ یہی تقاضا کرتے ہیں کہ ان کی شہرت ان کے لیے آسائشوں کا زریعہ بن جائیے۔
اب زرا شہرت کا دوسرا پہلو دیکھتے ہیں ۔جب شہرت کا سبب نیکی نہ ہو بلکہ رعب داب اور ڈر ہو تو شہرت شہرت نہیں بدنامی کا نام اختیار کرتی ہے ۔جیسے رشوت خور آدمی رشوت لینے میں جب مشہور ہوتا ہے تو لوگ تعریفوں کے پل باندھنے کے بجائے گالی گلوچ اور غیبت کرتے ہیں ۔دعاوں کے بجائے بددعائیں دیتے ہیں ۔خوشی کے بجائے نام سننے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں ۔پاس آنے کے بجائے دوراگر رہنا پسند کرتے ہیں ۔اسی طرح جب کوئی اثر رسوخ اور پہنچ کے بلبوتے پر ڈراتا ہے اور ظلم وستم کی حدیں پار کرتا ہے تو لوگوں کے دلوں میں ڈر اور نفرت خلق ہوتی ہے ۔جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام کے سامنے اس کی عزت گھٹتی چلی جاتی ہے ۔لوگ ایسے انسانوں کو سلام و آداب تو کرتے ہیں لیکن مصافہ نہیں کرتے ہیں۔عموماً ایسے لوگوں میں تکبر ہوتا ہے اس لئے تکبر کے عالم میں کسی کی سلام کا جواب دینا توہین سمجھا جاتا ہے ۔چورو چکے بھی بدنام ہوتے ہیں اور جھوٹے مکار اور عیار بھی ۔اس بدنامی یا منفی شہرت کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ عام لوگ دھوکہ نہیں کھاتے کیونکہ ایسے چہروں سے امیدیں کم اور ڈر زیادہ ہوتا ہے ۔منفی شہرت رکھنے والے لوگ چہ عزت واکرام کا مقام نہیں رکھتے تاہم ایسے لوگوں کی باتیں زیادہ وزن رکھتی ہیں اس لیے ایسے لوگ جہاں پر کھڑے ہوتے ہیں قطار وہیں سے شروع ہوتی ہے ۔
( قصبہ کھل کولگام،رابطہ۔ 9906598163)