شمس الرحمن فاروقی ہمارے زمانے کے قدآور ادبی نقاد تھے ۔اُن کے ادبی /تنقیدی کارنامے متنوع پہلوؤں کے حامل ہیں جن کا دائرہِ بیان احاطہِ قلم سے باہر ہے ۔ فاروقی کے ادبی / تنقیدی کارناموں کو حیطہ ِ تحریر میں لانے، ان کی قدروقیمت متعین کرنے،ان کا تجزیہ کرنے، ان پر تنقیدی زاویہِ نگاہ سے کوئی رائے قائم کرنے کے لئے فاروقی جیسی ہی علمیت درکار ہے جو آج شاید کسی میں موجود نہیں ۔فاروقی نے تفہیم ِ شعر کے اصول مقرر کئے،کلاسیکی ادب کی شعریات دریافت کی ، مغربی اصولِ نقد کا غائر مطالعہ کرکے " خذ ما صفا دع ما قدر" کے پیش نظر ان تنقیدی اصولوں سے صالح عناصر یکجا کئے ،پھر ان کا انطباق فن پارے پر کرکے اس کی تعیین ِ قدر کا معرکہِ آرا کام انجام دیا۔ فاروقی نے کلاسیت، جدیدیت اور پھر مابعد جدیدیت کے حوالے سے بھی اپنے نظریات کی وضاحت کی ۔ میر و غالب کا تفصیلی مطالعہ پیش کیا ۔لسانی و ادبی تاریخ نگاری کے ضمن میں چند نئے انکشافات کئے ۔فاروقی نے شاعری بھی کی۔ شاعری میں بھی ان کا معیار کافی بلند رہا ۔فنی باریکیوں کے علاوہ اعلیٰ مضامین سے ان کی شاعری مملوء نظر آتی ہے۔ لغت نگاری میں فاروقی نے ایک نئی طرح کی بنیاد ڈالی۔ تبصرہ نگاری کے ضوابط مرتب کرکے ان کی روشنی میں کامیاب تبصرے لکھے ۔ناول نگاری میں ایک نئی تاریخ رقم کی۔ درجنوں کتابوں اور سینکڑوں مضامین و مقالات میں علمی، ادبی اور تحقیقی موضوعات پر قلم اٹھا کر ایک نئے دور کا آغاز کیا۔اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اردو زبان و ادب کے حوالے سے فاروقی نے ایسا کام انجام دیا جس کی روشنی میں فاروقی کو خود اپنی ذات میں ایک ادارہ قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ خالص مذہبی اصطلاح میں فاروقی مجددِ ادب کہلانے کے حقدار ہیں۔
فاروقی کے بعض ادبی / علمی / تنقیدی نوادرات
فاروقی سے پہلے خواجہ الطاف حسین حالی ،امام امداد اثر اور کلیم الدین احمد پھر بعد میں ترقی پسند تحریک کے تنقیدی نظریات کے زیر اثر یہ سمجھا جانے لگا تھا کہ اردو کلاسیکی شاعری گل و بلبل اور شمع و پروانہ کی فرسودہ داستان کے سوا کچھ نہیں ۔ فاروقی نے اس مفروضے کو توڑ دیا ۔انہوں نے ثابت کردیا کہ اردو کلاسیکی شاعری دنیا کی کسی بھی بڑی شاعری کے مقابلے میں پیش کی جاسکتی ہے۔ شعر ِ شور انگیز اور تفہیم ِ غالب کے علاوہ متعدد مقالات میں فاروقی نے اس پر زبردست دلائل قائم کرنے کے ساتھ ساتھ عملی تنقید کے نمونے بھی پیش کئے ۔انہوں نے لکھا ہے کہ میر ، سودا، درد، مصحفی، آتش ، انیس،غالب ، مومن اور ذوق وغیرہ اساتذہِ فن کی شاعری دیوانے کی بھڑ یا کسی مخصوص رجحان کے زیر اثر پیدا ہونے والی شاعری نہیں تھی بلکہ اردو شعریات کے تحت وجود پانے والی شعوری کوشش کا نام تھی۔ اردو کلاسیکل شعراء جانتے تھے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ ان کو سمجھنے اور ان کے فن پاروں سے فائدہ اٹھانے نیز علمی و ادبی نکات اخذ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ان کے کلام کا مطالعہ اردو شعریات کی روشنی میں کریں نہ کہ مغربی اصولِ تنقید کی روشنی میں۔ اردو شعریات سے مراد وہ لسانی اور تہذیبی اصول و قواعد ہیں جن کی روشنی میں کسی خاص زمانے میں کسی فن پارہ کو فن پارہ قرار دیا جاتا تھا مثلاً وہ مخصوص چیزیں جو جب کسی شعر میں پائی جاتی تھیں تو اسے شعر کہا جاتا تھا ۔
فاروقی مغربی اصولِ تنقید کی افادیت کے منکر نہیں، وہ ان سے استفادہ کرنے کی وکالت کرتے ہیں لیکن وہ اس کے قائل نہیں کہ ان اصولوں کو معیارِ نقد قرار دیا جاکر اردو کلاسیکل شاعری کی عظمت پر خط ِ تنسیخ پھیر دیا جائے۔ فاروقی نے بعض مضمون میں اردو شعراء کے کلام کا داخلی مطالعہ کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ اردو شعراء اپنے زمانے میں انگریزوں کو کسی خاطر میں نہیں لاتے تھے بلکہ علمی دنیا میں ان کو جاہل تصور کرتے تھے، اسی لئے انہوں نے اپنے اشعار میں انگریزوں اور ان کی زبان، ادب، تہذیب، رسوم و عادات کا خاکہ اڑایا ہے ۔یعنی وہ انگریزوں سے مغلوب تو تھے مرعوب نہیں تھے ۔
فاروقی اردو کلاسیکل اور جدید زمانے کے شعراء کے لفظیاتی نظام کو دریافت کرنے پر زور دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر شاعر کا ایک لفظیاتی نظام ہوتا ہے ،خاص تشبیہات و استعارات ہوتی ہیں، ہر شاعر خاص طرح کے الفاظ سے شعر میں پْراسراریت پیدا کرتا ہے، محاورات اور روزمرہ کی مدد سے شعر میں معنی آفرینی کو راہ دیتا ہے لہٰذا ہر شاعر کو سمجھنے کے لئے پہلے اس کے لفظیاتی نظام کو سمجھنا ضروری ہے ۔فاروقی نے میر،انیس ، غالب ،اقبال اور ناصر کاظمی وغیرہ شعراء کا مطالعہ اسی اصول کی روشنی میں پیش کیا۔
فاروقی نے شعر کی تفہیم میں شعر کی رسومیات کو بھی اہمیت دی ہے۔ شعر کی رسومیات سے مراد یہ ہے کہ شعر کس زمانے کا ہے، اس زمانے میں کس لفظ کے کیا معنی مراد لئے جاتے تھے یا اگر شعر میں کسی خاص چیز،محاورہ،روزمرہ،کسی مخصوص قدر ،رسم، عادت وغیرہ کا ذکر ہو تو شعر کے معنی دریافت کرنے سے پہلے ان کا علم حاصل کرنا۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ فاروقی شعر کی تفہیم کو کسی خاص زمانے یا رجحان کے تابع کر رہے ہیں بلکہ دراصل وہ یہ چاہتے ہیں کہ کسی شعر کی تعیین ِ قدر کے اصول خود اسی شعر کے تہذیبی ڈھانچے سے برآمد کئے جائیں ۔
فاروقی نے اس مفروضے کو بھی رد کر دیا ہے کہ بہترین شعر وہ ہوتا ہے کہ اگر اس کی نثر کرنا چاہیں تو نہ کر پائیں ۔مطلب شعر اتنا آسان ہو کہ اس کی نثر بھی شعر سے کچھ مختلف نہ ہو۔ فاروقی کے نزدیک سب سے بہترین شعر وہ ہوتا ہے جس کی تہہ میں معانی کی مختلف پرتیں ہوں اور جتنی بار بھی شعر کی قرأت کی جائے ،نئے معانی دریافت ہوں۔ اسی لئے فاروقی تشبیہ، استعارہ ، پیکر تراشی، مناسبت لفظی اور دوسری ادبی صنعتوں کو محض تزئین ِ شعر کا وسیلہ و ذریعہ نہیں مانتے بلکہ شعر کی ضروریات قرار دیتے ہیں۔
فاروقی کے نزدیک جس شعر میں کم سے کم الفاظ استعمال کرکے زیادہ سے زیادہ معانی نکلتے ہوں وہ شعر سب سے بہتر ہوتا ہے۔ اسی لئے فاروقی افسانے پر شعر کو ترجیح دیتے ہیں ،افسانہ نگار کو انہوں نے ادب کا چھوٹا بھائی قرار دیا ہے کیونکہ افسانے میں شعر کا سا ایجاز ممکن نہیں۔دو مصرعوں کے چھوٹے سے شعر میں جو داستان بیان کی جا سکتی ہے وہ پندرہ بیس صفحات کے افسانے میں بیان نہیں ہو سکتی ۔
فاروقی نے " ادب برائے ادب" اور " ادب برائے زندگی" پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ فاروقی کے نزدیک ادب برائے ادب کوئی اصطلاح ہی نہیں ہے بلکہ اصل ادب برائے زندگی ہی ہے۔ اس سے ان کی یہ مرادہے کہ ادب کو زندگی کے دوسرے پہلوؤں کی طرح زندگی سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔یہ بحث کبھی نہیں اٹھتی کہ " شادی برائے شادی" درست ہے یا " شادی برائے زندگی" ، اسی طرح " کاروبار برائے کاروبار" اور " کاروبار برائے زندگی" کے بارے میں کبھی مناقشہ نہیں ہوتا کیونکہ شادی یا کاروبار وغیرہ کو زندگی سے الگ نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح ادب کو زندگی سے باہر دیکھا ہی نہیں جا سکتا لیکن جس طرح شادی یا کاروبار ایک خاص طرز عمل کا نام ہے اور وہی مخصوص طرز عمل شادی یا کاروبار کہلائے گا، اسی طرح ادب بھی ایک خاص طرز عمل کا نام ہے۔ ادب اس سے باہر کچھ نہیں۔ لہٰذا ادب کو پہلے ادب ہونا چاہیے پھر بعد میں وہ زندگی کی کسی قدر کی ترجمانی بھی کرے تو مضائقہ نہیں لیکن ایسا نہ ہو کہ ادب میں کسی خاص نظریے کی ترجمانی تو کی گئی ہو لیکن خود وہ ادب ادب نہ ہو۔
فاروقی نے 1966 میں " شب خون" نام کا رسالہ جاری کیا جو آئندہ چالیس سال تک مطلع ادب پر مثل ِ خورشید تاباں رہا ۔اس کا ادبی معیار نہایت بلند تھا بلکہ اس میں کسی فن پارے کا شائع ہونا ہی اس کے استناد کی دلیل تھا ۔بعض لوگوں کے نزدیک یہ رسالہ دراصل ترقی پسند تحریک کے نظریات پر" شب خون" تھا۔ ترقی پسند تحریک سے کئی بڑے شعراء بھی وابستہ رہے ہیں جنہوں نے اردو ادب کی بڑی خدمت کی اور اس کی ترقی کے امکانات کو بہت روشن بھی کیالیکن یہ بھی صحیح ہے کہ یہ تحریک زیادہ تر مارکسی نظریات کی ترویج کا آلہ ِ کار تھی۔ نظریاتی جمود اور فنی قدروں سے پہلو تہی پھر شخصیات کے پست معیار نے بہت جلد اس تحریک کو روبہ زوال کردیا۔
فاروقی کا شمار اردو ادب میں جدیدیت کے بانیوں میں ہوتا ہے لیکن خود جدیدیت کیا ہے؟ کیا یہ اب بھی کسی افادیت کی حامل ہے؟ یہ ادب کی قرار واقعی تعبیر تھی یا ایک مخصوص زمانے کی سوچ کا زائدہ اور اب مابعد جدیدیت کیا ہے؟ یا " ما بعد جدیدیت"واقعی کوئی ادبی رجحان یا زندگی کی مختلف قدروں کی بازگشت بھی ہے یا نہیں یا یہ اخلاقی انارکی،ذہنی انتشار، روحانی دیوالیہ پن، انسانی قدروں کی شکست و ریخت، تاجرانہ ماحول و مزاج کی تشکیل اور بعض سیاسی قوتوں کو ادبی کمک پہچانے کی درپردہ کوشش کا نام ہے یہ اور اس جیسے کئی مسائل پر بحث ہو سکتی ہے ،جدید ادب کے حوالے سے ان تحریکوں سے سابقہ پڑتا ہے۔
فاروقی اردو ناول سے بھی مطمئن نظر نہیں آتے ۔انہوں نے اردو کے مقابلے میں یورپی ناول کو زیادہ بہتر قرار دیا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اردو میں ناول انگریزی کے مقابلے میں بہت دیر سے آیا۔ غالباً اسی لئے انہوں نے خود ایک ناول " کئی چاند سر ِ آسمان‘‘ لکھ کر اس کی شعریات کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔
فاروقی کے بارے میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ شعر کے جتنے اچھے نقاد تھے، اتنے اچھے شاعر نہیں تھے ۔ممکن ہے یہ بات کسی درجے میں صحیح بھی ہو لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کے شعر ان کے قائم کئے گئے اصولوں پر بتمامہا پورے نہیں اترتے، انہوں نے بہت اچھے شعر بھی کہے ہیں بلکہ رباعیات کے مجموعے " سبز اندر سبز" میں تو رباعی کے تمام چوبیس اوزان استعمال کئے ہیں جو ان کی قادرالکلامی پر دلیل ہے ۔
فاروقی نے عروض، اردو داستان کی شعریات ،اردو کی لسانی تاریخ اور اردو لغت نگاری پر بھی تحقیقی کتب و مقالات لکھے ہیں ۔ان کا مطالعہ بھی کم دلچسپ نہیں ۔فاروقی کو پڑھ کر ہی اردو ادب کے حقائق و دقائق سے آگہی حاصل ہوتی ہے۔
یہ چند سطور برجستہ لکھی ہیں، کوئی کتاب سامنے نہیں تھی لہٰذا اعداد و شمار یا کسی جگہ تعبیر کی غرابت کا در آنا مستبعد نہیں۔ میں نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے میں بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے لیکن میری لا ابالی طبعیت کے باعث یہ مقالہ پچھلی دو دہائیوں سے تاہنوز تشنہ ِ طباعت ہے اور سچ یہ ہے کہ ہر چند فاروقی کی نظر سے وہ مقالہ گذرا ہے اور بعض ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انہوں نے پسندیدگی کا اظہار بھی کیا ہے لیکن پھر بھی ان کی موجود گی میں اس کو شائع کرنے کی ہمت نہ ہوئی کہ بہرحال یہ ایک معمولی طالب علمانہ کاوش سے زیادہ کچھ نہیں اور میں نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ ادب کے اتنے بڑے عبقری کی بدنامی کا سبب بنوں لیکن اب جبکہ فاروقی راہی ملک عدم ہو چکے ہیں اور تعجب نہیں کہ ہم ان کو بہت جلد بھول بھی جائیں لہٰذا آنے والی نسلوں کے لئے ان کا " صحیفہ ِ تعارف‘‘ چھوڑنا ہی پڑے گا ۔