جموں // //ریاست میں شراب کی خرید وفروخت پرپابندی کے حوالے سے نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے دو ممبران کی جانب سے پیش کی گئی پرائیوٹ بلوں کو ایوان نے زیر غور لانے کی اجازت دی گئی ہے ۔قانون سازاسمبلی میں نیشنل کانفرنس کے ممبر اسمبلی اشفاق جبار اور کانگرنس کے ممبرا سمبلی اندوال جی ایم سروڑی نے ریاست میں شراب پر پابندی کے متعلق ایک بل ایوان میں پرائیوٹ بلیں پیش کیںجس پر اپوزیشن کے ممبران نے حمایت کرتے ہوئے ریاست سے شراب پر پانبدی کیلئے ان بلوں کو پاس کرنے کا مطالبہ کیا ۔جی ایم سروڑی نے رائے پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک کی کچھ ایک ریاستوں میں اس پر پابندی عائد کی گئی ہے تو ریاست جموں وکشمیر میں اس پر پابندی کیوں نہیں عائد کی جاتی ۔انہوں نے کہا کہ شراب سے معاشرہ تباہ ہو رہا ہے ،نوجوان چرس ،پالش اور دیگر نشیلی ادویات کا استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ شراب کا استعمال بھی کر رہے ہیں ۔انہوں نے سرکار سے اس دوران پرزور الفاظ میں کہا کہ اس پر پابندی عائد کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ہماری سرکار اُس پر کیوں پابندی نہیں لگاتی ،اس کی وجوہات کیا ہیں ؟اس پر اگرچہ دیہی ترقی کے وزیر عبدالحق خان نے اپوزیشن ممبران سے کہا کہ میں نے بھی اسی طرح کی ایک بل ایوان میں پیش کی تھی تب آپ کیوں خاموش تھے جس پر اپوزیشن کے ممبران نے انہیں کہا کہ ہم نے غلطی کی اور اسی لئے آج اپوزیشن میں ہیںآپ یہ غلطی کیوں کر رہے ہیں ؟اپوزیشن کے ممبران نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اُس پر بحث ہونی چاہئے جس کے بعد ایوان نے زیر غور لانے کی اجازت دی ہے۔