انجینئر تعظیم کشمیری
رمضان المبارک کے بابرکت و مقدس مہینہ میں وہ’’شبِ قدر‘‘ بھی آگئی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہزار مہینوں سے افضل اور بہترقرار دیا ہے اور ہزار مہینے تراسی برس چار ماہ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے یعنی جس قدر اخلاص و محنت اور للہیت کے ساتھ اس’’شبِ قدر‘‘ میں عبادت و ریاضت اور دعا وغیرہ کی جائے اس قدر اس کے اجر و انعام میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔حضوراکرم ؐ نے اس شب قدر سے محروم رہنے والے شخص کو خیر سے محروم اور حقیقی محروم قرار دیا ہے۔ایک روایت میں ہے شب قدر میں ملائکہ (فرشتوں) کی پیدائش ہوئی اور اسی رات میں حضرت آدم علیہ السلام کا مادہ جمع ہونا شروع ہوا، اسی رات میں جنت میں درخت لگائے گئے اور اس رات میں عبادت کا ثواب دوسرے اوقات کی عبادت سے کہیں زیادہ ہوتا ہے اور یہی وہ مقدس رات ہے جس میں بندہ کی زبان و قلب سے نکلی ہوئی دعا اللہ رب العزب کی بارگاہ میں قبولیت سے نوازی جاتی ہے اسی مقدس رات میں اللہ رب العزت کی رحمتِ خاص کی تجلی آسمانِ دنیا پر غروب آفتاب کے وقت سے صبح صادق تک ہوتی ہے۔ بعض روایات کے مطابق اسی رات (شب قدر) کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے اور اسی رات میں بنی اسرائیل کی توبہ قبول ہوئی، (مظاہر حق) اور (سورۃ القدر میں) اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ ہم نے اس (قرآن مجید) کو شب قدر میں اتارا۔ اور تو نے کیا سمجھا کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اس میں فرشتے، روح القدس (جبرائیل علیہ السلام) کے ساتھ اپنے رب کے حکم سے ہر بات کا انتظام کرنے کو اترتے ہیں اور صبح تک یہ سلامتی کی رات قائم رہتی ہے۔ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ قرآن میں جس موقعہ کے لیے’’ماادرٰک‘‘ آیا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیا ہے اور جس کے لیے’’ما یدریک‘‘ فرمایا اسے نہیں بتایا ہےہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے اس روایت کو یاد کیا تھا اور یہ روایت انہوں نے زہری سے (سن کر) یاد کی تھی۔ ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رمضان کے روزے ایمان اور احتساب (حصول اجر و ثواب کی نیت) کے ساتھ رکھے، اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں اور جو لیلۃالقدر میں ایمان و احتساب کے ساتھ نماز میں کھڑا رہے اس کے بھی اگلے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، سفیان کے ساتھ سلیمان بن کثیر نے بھی اس حدیث کو زہری سے روایت کیاﷲ تعالیٰ ہمیں اس برکت والی کو زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور یہ شب قدر ہمارے تمام گناہوں کی مغفرت کی باعث بن جائے۔ آمین