تیسرا عشرہ
محمد طفیل ندوی
رمضان المبارک اللہ رب العزت کی بے پایاں رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کا مہینہ ہے، یہ وہ مقدس مہینہ ہے جس میں اللہرب العزت اپنے بندوں کیلئے نیکیوں کے دروازے کھول دیتا ہے، گناہوں کو معاف فرماتا ہے اور عبادات کا اجر کئی گنا بڑھا دیتا ہے، اس مہینے کی ہر ساعت قیمتی اور ہر لمحہ رحمتوں سے بھرپور ہوتا ہے، لیکن رمضان المبارک کے آخری عشرے کو خصوصی اہمیت حاصل ہے کیونکہ انہیں بابرکت راتوں میں وہ عظیم رات عطا کی گئی ہے جسے شب قدر کہا جاتا ہے، یہ وہ مقدس رات ہے جس کی فضیلت و عظمت کو بیان کرنے کیلئے اللہ رب العزت نے قرآن مقدس میں ایک مکمل سورت نازل فرمائی، ارشاد باری تعالیٰ ہے شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ایک رات کی عبادت چوراسی برس سے زیادہ مدت کی عبادت سے بھی بڑھ کر ہے، اور یہ اللہ رب العزت کا اپنے بندوں پر عظیم فضل و کرم ہے،شب قدر وہ مبارک رات ہے جس میں قرآن کریم کا نزول ہوا اللہ رب العزت نے قرآن کریم کو لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر اسی رات نازل فرمایا اور پھر حضرت جبرائیلؑ کے ذریعے بتدریج نبی کریمؐ پر نازل ہوتا رہا قرآن کریم انسانیت کیلئےہدایت، روشنی اور کامیابی کا سرچشمہ ہے، اس لئےجس رات میں اس عظیم کتاب کا نزول ہوا وہ رات یقیناً عظمت و برکت میں بے مثال ہے، اس رات میں اللہ رب العزت کے بے شمار فرشتے زمین پر نازل ہوتے ہیں اور اپنے رب کے حکم سے خیر و برکت کے فیصلے انجام دیتے ہیں، قرآن کریم میں فرمایا گیا کہ یہ رات سراسر سلامتی کی رات ہے جو طلوع فجر تک جاری رہتی ہے،احادیث مبارکہ میں بھی شب قدر کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کرے، یعنی عبادت اور ذکر و دعا میں مشغول رہے، اللہ رب العزت اس کے پچھلے تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے،اسی لئے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم رمضان المبارک کے آخری عشرے میں عبادت کا غیر معمولی اہتمام کرتے تھے، وہ راتوں کو جاگ کر نماز، تلاوت قرآن، ذکر و اذکار اور دعا میں مشغول رہتے تھے تاکہ اس عظیم رات کی برکتوں سے محروم نہ رہ جائیں،شب قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، رسول اللہؐ نے فرمایا کہ اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو اس میں حکمت یہ ہے کہ مسلمان پورے آخری عشرے میں عبادت اور بندگی کا اہتمام کریں اور اللہ رب العزت کی رحمتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کریں، اگرچہ بہت سے علماء نے ستائیسویں شب کو زیادہ قوی احتمال قرار دیا ہے لیکن اصل مقصد یہی ہے کہ مسلمان آخری عشرے کی تمام راتوں کو عبادت کے ذریعے قیمتی بنائیں،رمضان المبارک کے آخری عشرے کی ایک اہم اور عظیم سنت اعتکاف بھی ہے، اعتکاف کا مطلب یہ ہے کہ انسان دنیاوی مصروفیات اور مشاغل سے کنارہ کش ہو کر مسجد میں قیام کرے اور اپنا وقت مکمل طور پر اللہ رب العزت کی عبادت، ذکر، تلاوت اور دعا میں گذارے،اعتکاف دراصل بندے کی روحانی تربیت اور اصلاح کا بہترین ذریعہ ہے،جب انسان چند دنوں کیلئے دنیا کے شور و ہنگامے سے الگ ہو کر مسجد کے پرسکون ماحول میں اللہ کی یاد میں مشغول ہوتا ہے تو اس کے دل میں خشوع و خضوع پیدا ہوتا ہے اور اس کی روح کو سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے،یہ سنہراموقع ہےکہ بندہ شب قدر کی عظمت وفضیلت کیساتھ سنت اعتکاف اداکرکےاللہ کاقرب حاصل کریں ،نبی کریم ؐ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں ہمیشہ اعتکاف فرمایا کرتے تھے،حضرت عائشہؓفرماتی ہیں کہ رسول اللہ ؐ اپنی زندگی کے آخری وقت تک رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے اور آپ کے وصال کے بعد آپ کی ازواج مطہرات ؓنے بھی اس سنت کو جاری رکھا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف ایک نہایت اہم سنت ہے جس کے ذریعے انسان اللہ رب العزت کی قربت حاصل کرتا ہے، اور اپنی زندگی کو سنوارنے کا بہترین موقع پاتا ہے،اعتکاف کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے انسان شب قدر کی تلاش میں پوری طرح مصروف رہتا ہے، چونکہ معتکف مسجد میں رہ کر عبادت میں مشغول رہتا ہے اسلئے اس کیلئے آخری عشرے کی ہر رات قیمتی بن جاتی ہے اور اسے شب قدر کی برکتیں حاصل ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے، اسی وجہ سے علماء اور صلحاء نے اعتکاف کو ایمان کی تجدید اور دل کی صفائی کا بہترین ذریعہ قرار دیا ہے،رمضان المبارک کے آخری ایام دراصل اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں کے دن ہوتے ہیں، ان مبارک دنوں میں بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے گناہوں پر سچی توبہ کرے، دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور آئندہ زندگی کو نیکی اور تقویٰ کے راستے پر گذارنے کا عزم کرے۔ زیادہ سے زیادہ قرآن کریم کی تلاوت کرے، نوافل ادا کرے، درود شریف کا ورد کرے اور کثرت سے استغفار کرتا رہے، خاص طور پر وہ دعا کثرت سے پڑھے جو نبی کریم ؐ نے شب قدر کے موقع پر سکھائی،یعنی اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے بھی معاف فرما دے،حقیقت یہ ہے کہ شب قدر اور اعتکاف اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمتیں ہیں جو امت محمدیہ کو خصوصی طور پر عطا کی گئی ہیں،اگر مسلمان ان مبارک لمحات کی قدر کریں، اخلاص اور خشوع کیساتھ عبادت کریں اور اپنے گناہوں سے سچی توبہ کریں تو اس کی زندگی میں روحانی انقلاب پیدا ہو سکتا ہے،یہ وہ قیمتی مواقع ہیں جن کے ذریعے انسان اللہ رب العزت کی رضا حاصل کر سکتا ہے اور اپنی دنیا و آخرت کو سنوار سکتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی قدر کریں، عبادت میں اضافہ کریں، اعتکاف کی سنت کو زندہ کریں اور شب قدر کی برکتوں کو حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کریں، اللہ رب العزت ہمیں ان مبارک راتوں کی صحیح قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہماری عبادات کو قبول فرمائے اور ہمیں اپنی رحمت و مغفرت سے مالا مال فرمائے۔ آمین