محمد عرفات وانی
اردو ادب محض الفاظ کی ترتیب اور جملوں کی خوبصورتی کا نام نہیں بلکہ یہ انسانی شعور، سماجی سچائیوں اور داخلی احساسات کی وہ جہت ہے جس میں فرد اپنے عہد کی مکمل تصویر دیکھ سکتا ہے۔ مضمون نگار اور افسانہ نویس جب قلم اٹھاتا ہے تو وہ دراصل اپنے عہد کے ضمیر کی ترجمانی کر رہا ہوتا ہے۔ اردو ادب کی تاریخ ایسے ہی تخلیق کاروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے لفظوں کو احساس، فکر اور سچائی کا آئینہ بنایا۔ اسی فکری روایت میں شاہ زبیر کا نام ایک ایسے نوجوان تخلیق کار کے طور پر سامنے آتا ہے جو اپنے عہد کے مسائل، احساسات اور فکری الجھنوں کو نہایت سادہ مگر اثر انگیز انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کی کتاب چراغ ہدایت اسی فکری تسلسل کی ایک روشن کڑی ہے جو عصر حاضر کے سماجی و مذہبی شعور کو اجاگر کرتی ہے۔شاہ زبیرکے مضامین میں ایک خاص کشش، ایک سچائی اور ایک دردمندی محسوس ہوتی تھی جو عام تحریروں سے اسے ممتاز بناتی تھی۔ جب کبھی اس کی تصویر نظر سے گزرتی تو اس کے چہرے پر جھلکتی شرافت، آنکھوں میں وقار اور انداز میں سادگی اس کے باطن کی گہرائیوں کا پتہ دیتے تھے۔ یہی احساس مجھے اس سے رابطہ کرنے پر آمادہ کر گیا اور پہلی گفتگو ہی میں یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ تعلق محض تعارف تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک خالص ادبی دوستی میں ڈھل جائے گا جو احترام، اخلاص اور لفظوں کے رشتے پر قائم ہوتی ہے۔
بڈگام کے زگی پورہ چرار شریف کی سرزمین سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان آج اردو اور کشمیری ادب کے افق پر ابھر رہا ہے۔ اس وقت بی اے سال اول کا طالب علم ہے اور اردو کو بطور مضمون اختیار کئے ہوئے ہے جبکہ اس کی پہچان ایک طالب علم کی نہیں بلکہ ایک شاعر اور مضمون نگار کی حیثیت سے قائم ہو چکی ہے۔ اس کے الفاظ اس کی عمر سے کہیں زیادہ پختگی کے حامل ہیں اور اس کی تحریروں میں سنجیدگی اور شعور پایا جاتا ہے۔ اس کا ادبی سفر آٹھویں جماعت سے شروع ہوا جب اس نے پہلی بار اپنے جذبات کو الفاظ کا روپ دیا۔ ابتدا میں اگرچہ اس کی تحریریں سادہ تھیں مگر ان میں ایک چنگاری موجود تھی جو وقت کے ساتھ ایک
شعلے میں تبدیل ہو گئی۔ دسویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے اس کی نثر اور شاعری میں روانی، گہرائی اور اثر انگیزی نمایاں ہو چکی تھی۔
شاہ زبیر کی سب سے بڑی خوبی اس کا لسانی شعور اور اظہار کی وسعت ہے۔ اس نے اپنی تخلیقی زندگی کا آغاز اپنی مادری زبان کشمیری سے کیا۔ کشمیری زبان کی مٹھاس، تہذیبی خوشبو اور جذباتی گہرائی اس کی تحریروں میں واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ بعد ازاں اُردو زبان کو بھی اظہار کا ذریعہ بنایا تاکہ اس کے خیالات وسیع تر حلقے تک پہنچ سکیں۔
اس کی تخلیقی کاوشیں حیران کن حد تک وسیع ہیں، وہ ڈیڑھ سو سے زائد نظمیں، بیس سے زیادہ افسانے، دس سے زائد ڈرامے اور متعدد مضامین تحریر کر چکے ہیں جو مختلف اخبارات اور ادبی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ اس کی تحریروں میں کشمیری سماج کی عکاسی، انسانی نفسیات کی باریکیاں، سماجی مسائل اور اخلاقی اقدار کا گہرا شعور نمایاں ہے۔
ادب کے ساتھ ساتھ اس کی زندگی دینی خدمات سے بھی وابستہ ہےاور گزشتہ تین برسوں سے ایک مقامی مدرسے میں قرآن کریم کی تعلیم دے رہے ہیں اور اپنے محلے کی مسجد میں امام کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ ذمہ داریاں اس کی شخصیت میں سنجیدگی، احساس ذمہ داری اور اخلاقی پختگی پیدا کرتی ہیں۔ وہ علم کو صرف ذاتی ترقی کا ذریعہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے دوسروں تک پہنچانے کو اپنا فرض سمجھتا ہے۔ یہی توازن اس کے ادب میں بھی جھلکتا ہے جہاں دین اور دنیا کے درمیان ایک خوبصورت ہم آہنگی نظر آتی ہے۔اگرچہ اس کی صلاحیتیں غیر معمولی ہیں مگر اس کا سفر آسان نہیں رہا۔ مالی مشکلات نے اس کے ادبی خوابوں کو وقتی طور پر ضرور روکا ،مگر اس کے حوصلے کو کمزور نہیں کر سکیں۔ بالآخر اس کی محنت اور استقامت رنگ لائی اور اس کی پہلی کتاب چراغِ ہدایت اشاعت کے مرحلے میں داخل ہو گئی۔ یہ کتاب محض ایک تصنیف نہیں بلکہ اس کے صبر، عزم اور یقین کی عملی تعبیر ہے۔ اس کی ادبی خدمات کا اعتراف بھی مختلف سطحوں پر ہو چکا ہے اور وہ بیس سے زائد اعزازات حاصل کر چکا ہے جو اس کی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔
چراغِ ہدایت دراصل عصر حاضر کے سماجی اور مذہبی مسائل پر ایک جامع اور فکر انگیز مجموعہ مضامین ہے جو 2026 میں شائع ہوا اور 104 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کی ترتیب و تدوین نہایت سلیقے سے کی گئی ہے جس میں شاہنواز نظیر کی ادبی بصیرت اور مجید مسرور و اقرا پرواز جیسے اہل قلم کی آراء اس کی علمی وقعت کو مزید بڑھاتی ہیں۔ کتاب کا انتساب مصنف نے اپنے والدین کے نام کیا ہے ۔موضوعاتی لحاظ سے یہ کتاب نہایت متنوع اور ہمہ گیر ہے۔ اس میں دینی، سماجی، اخلاقی اور تعلیمی پہلوؤں کو نہایت توازن کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ خوفِ خدا، نماز کی اہمیت، سیرت رسول ؐ اور آخرت کی فکر جیسے مضامین اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ مصنف دینی شعور کو اجاگر کرنے کا خواہاں ہے۔ اسی طرح مسلکی لڑائیاں اور علماء میں اختلاف جیسے موضوعات اس کے وسیع النظر ہونے کی علامت ہیں جہاں وہ امت کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔سماجی اصلاح کے حوالے سے بھی یہ کتاب اہم کردار ادا کرتی ہے۔ احسان فراموشی، دھوکہ دہی اور سچائی کا فقدان جیسے مسائل کو مصنف نے نہایت جرأت اور سچائی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس کے نزدیک ان مسائل کا حل اخلاقی اقدار کی بحالی اور اسلامی تعلیمات کی پیروی میں پوشیدہ ہے۔ نوجوان نسل کے لیے بھی اس کتاب میں اہم پیغامات موجود ہیں۔ نیا پرواز پیدا کر، جھوٹی شہرت اور موبائل فون کے نقصانات جیسے مضامین جدید دور کے چیلنجز کو اجاگر کرتے ہیں اور نوجوانوں کو حقیقت پسندی اور مقصدیت کی طرف راغب کرتے ہیں۔ اسی طرح منشیات ایک لعنت جیسے موضوعات معاشرے کے سنگین مسائل کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ مذہبی و تاریخی شعور کے حوالے سے بھی کتاب میں اہم مضامین شامل ہیں جو مذہبی ایام کی اصل روح کو اجاگر کرتے ہیں اور انہیں محض رسم سے نکال کر ایک عملی پیغام میں تبدیل کرتے ہیں۔
ادبی اعتبار سے بھی چراغ ہدایت ایک اہم تصنیف ہے۔ اس کا اسلوب سادہ، مؤثر اور دل نشین ہے جو قاری کو نہ صرف متاثر کرتا ہے بلکہ اسے سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔ یہ کتاب محض معلومات فراہم نہیں کرتی بلکہ ایک فکری بیداری پیدا کرتی ہے جو اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو چراغ ہدایت ایک ایسی کتاب ہے جو اپنے قاری کو خود احتسابی، اصلاح اور مثبت تبدیلی کی طرف مائل کرتی ہے۔ شاہ زبیر نے اپنی پہلی ہی کاوش میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ خلوص نیت، سچائی اور مقصدیت کے ساتھ لکھی گئی تحریر معاشرے میں تبدیلی لا سکتی ہے۔ یہ کتاب محض مضامین کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک فکری تحریک ہے۔ میں دل کی گہرائیوں سے شاہ زبیر اور ان کے والدین کو اس اہم کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ یہ چراغ ہمیشہ روشن رہے اور اپنی روشنی سے علم و ادب کے افق کو منور کرتا رہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب سنجیدہ قارئین کے دلوں میں اپنی جگہ ضرور بنائے گی ۔
(رابطہ۔9622881110)
[email protected]