ریحانہ شجر
مرحوم شاداب ذکی بدایونی کا تحریر کردہ نعوت کا مجموعہ زیر عنوان ’’سرکار کی باتیں‘‘ کچھ عرصہ پہلے ان کے برادر کامیاب ذکی بدایونی کی طرف سے بذریعہ ڈاک موصول ہوا۔کتاب کے ابتدائیہ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ شاداب ذکی نے بدایوں جیسے علمی اور ادبی ماحول میں پرورش پائی۔ کہنہ مشق اساتذہ اور وقت کے سخنوروں سے استفادہ حاصل کیا ۔ رفتہ رفتہ اپنے دور کے معروف رسائل و جرائد میں ان کی ا دبی صلاحیتیں منظر عام پر آنے لگیں۔ اس طرح مقامی اور بیرونی شعری محافل میں اپنےذوق سخن اور پختہ مشقی کا لوہا منوالیا۔نعت گوئی کےلیے توفیق خداوندی کے بعد قران کریم اور نبی آخر و زماں ؐ کی حدیث و سنت کی واقفیت ہونے کے علاوہ عاشقِ رسولؐ ہونا شرط اول ہے۔
ہر کہ عشق مصطفےؐسامان اوست
بحر و بر در گوشہ داماں اوست
کہتے ہیں نعت گوئی دو دھاری تلوار ہے پر چلنے کا ہنر ہے۔ لیکن اس پر بات کرنا اس سے کہیں زیادہ کار دشوار ہے۔ایک دو نعتیں تحریر کرنے والے شعرا ءہزاروں ہونگے۔ لیکن اپنے ادبی سفر میں صرف اور صرف نعت گوئی کو ترجیح دینا کوئی آسان کام نہیں ہے، ایسے شعرا کی تعداد بھی بہت کم ہے۔ ان قلیل تعداد شعرا میں شاداب ذکی بدایونی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی نعت گوئی کےلیے وقف کردی تھی۔نعتیہ کلام پر بات کرتے ہوئے پروفیسر سید رفیع الدین اشفاق یوں بیان کرتے ہیں:’’یوں نعت گو شعرا کی تعداد بے حد و حساب ہے، ہر کس و ناکس نے عقیدت کے جذبے سے سرشار ہوکر میلاد خوانوں نے آئے دن اس ادب میں اضافہ ہی کیا ہے۔ ان میں سے ہم عوام کے نعت گو شعرا بھی کثرت سے پاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ موضوع ایسا نہیں جس پر ہر کس و ناکس تخیل اندازی اور خامہ فرسائی کرسکے۔ اس راستے میں شاعر کو جگہ جگہ رُکاوٹیں پیش آتی ہیں۔ ایک تو موضوع کا احترام شاعر کو مجبور کرتا ہے کہ وہ نپے تُلے الفاظ ، حسن انتخاب اور حسن بیان کے ساتھ عقیدے کی تفصیلات اور باریکیوں کو ساتھ لے کر چلے اور قدم قدم پر اس کا لحاظ کرے کہ تخیل کی پرواز کہیں ان مقامات تک نہ پہنچا دے، جن سے صادق البیانی پر حرف آئے اور نتیجہ نعت نعت نہ رہے کیونکہ جس بارگاہ میں بآواز بلند گفتگو بھی سوۓ ادب قرار پائے، اس بارگاہ کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔( لوازم نعت: ص۔ 54)،( اردو میں نعتیہ شاعری ۔از پروفیسر سید رفیع الدین اشفاق)
نعتیہ دیوان ’’سرکار کی باتیں ‘‘ کا آغاز حمدِ باری تعالیٰ سے ہوتا ہے اور پھر نعتِ رسول مقبولؐ کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ درود و سلام کے خاص منظومات ہیں جو عقیدت کے جذبے سے لبریز ہیں۔اس کے علاوہ نبی کریمؐ کی سیرت طیبہ کے مختلف پہلوؤںآپ ؐ کے اخلاقِ عظیمہ، رحمت للعالمینؐ ہونے، صبر و استقامت، اور معجزات کو انتہائی مؤثر پیرائے میں بیان کیا ہے۔نعتیہ دیوان میں شاداب ذکی بدایونی نے نعتیہ لوازمات ملحوظ نظر رکھ کر نعت قلمبند کئے ہیں۔’’سرکار کی باتیں‘‘انتہائی پُرکشش اور معنویت کا حامل ہے۔ یہ محض ایک نام نہیں بلکہ پورے مجموعے کا مرکزی خیال اور روح ہے۔ ’’باتیں ‘‘سے مراد محض الفاظ نہیں بلکہ وہ پاکیزہ تعلیمات، اخلاقی اصول، رحمت کے پیغامات اور وہ نورانی کلمات ہیں جو حضور نبی اکرمؐ کی ذاتِ گرامی سے صادر ہوئے۔ شاعر نے خود کو محض ترجمان سمجھا ہے اور یہ احساس دلایا ہے کہ یہ سب کچھ ’’سرکار‘‘ کی عطا ہے۔
بےکار ہیں سب درہم و دینار کی باتیں
ہیں قیمتی ہر بات سے سرکار کی باتیں
وہ صل اعلیٰ، صل ا علیٰ کہہ اُٹھا فور اً
جس نے بھی سنیں آپ کے بیمار کی باتیں (ص ۔138 )
حروف تہجی کے اعتبار سے دیوان ترتیب دینا اب لگ بھگ نایاب ہوگیا ہے۔ اس لحاظ سے شاداب ذکی داد و تحسین کے مستحق ہیں۔انہوں نے’’الف مد آ ‘‘سے لےکر ’’یے‘‘ تک 40 حروف کو حرف ردیف بناکر ’’سرکار کی باتیں ‘‘ دیوان ترتیب دیا ہے۔ جو اس نعتیہ دیوان کو خاص زمرے میں شامل کرتا ہے۔ نہایت خلوص و احترام کے ساتھ بارگاہ رسالت میں عقیدت کا نذرانہ پیش کچھ اس انداز سے پیش کیا ہے۔
مثل اویس عاشقِ سرکار لے کے آ
عشق نبی میں ایسا گرفتار لے کے آ (ص۔ 41)
آپ کی چشم کرم کا جو اشارہ ہوجائے
مجھ سا بیمار ذرا دیر میں اچھا ہوجائے (ص ۔175)
نعتیہ کلام تحریر کرنے کے لئے عشق محمدی ؐسے سرشار ہونا لازمی ہے ۔علاوہ ازیں احترام و ادب ملحوظ نظر رکھنا، طرز اظہار میں پختگی، موزوں الفاظ کا انتخاب اور ان کا مناسب وقت پر استعمال بنیادی اصول ہیں۔ حضور کی شان میں ایک ذرا سی لغزش نعت کے عمل و ایمان کو غارت کر سکتی ہے۔ ماہر القادی صاحب نے اس بات کو بڑی خوبصورتی سے یوں بیان کیا ہے؎کہنے کو نعت حضرت عالی وقار کی۔منہ میں زبان چاہے پروردگار کی
شاداب ذکی بدایونی کا نعتیہ اسلوب سادگی، رقت آمیز جذباتیت اور عقیدت کی گہرائی کا امتزاج ہے۔ ان کی شاعری میں بڑے بڑے فلسفیانہ یا مشکل استعاروں کی بجائے براہِ راست دل سے نکلنے والی آواز ملتی ہے۔ زبان انتہائی رواں، سہل اور عام قاری کی گرفت میں آنے والی ہے، مگر اس سہل گیری کے پیچھے معنوی گہرائی چھپی ہوئی ہے۔اس نعتیہ مجموعے میں عشقِ رسولؐ کی جو کیفیات بیان ہوئی ہے، وہ رنج و الم، اشتیاق، ذوقِ دیدار اور فکرِ آخرت سے عبارت ہے۔ شاداب اپنی عاجزی اور محبت کا اظہار بڑی درد مندی سے نیچے دیئے گئے اشعار میں کچھ یوں کرتے ہیں:
میرے آقا مرے غمخوار کرم کی بارش
زندگی ہے بڑی دشوار کرم کی بارش (ص۔ 95)
نعت رسولؐ مذہبی شاعری کےزمرے میں شامل ہے۔ جس کا رشتہ دینی احساس، صدق ، اخلاص اور محبت سرور کائناتؐ سے ہے۔ اگر یوں کہا جائے کہ اسلامی شاعری کی شروعات نعت سے ہوئی ہے تو بیجا نہ ہوگا۔ اسلامی ادب کے لئے نعتیہ شاعری نے جلیل القدر ابواب کھولے ہیں۔ عملِ صالح، قرآن و سنت اور اخلاقیات پر اشعار بھی شاداب ذکی بدایونی کے نعتیہ کلام’’سرکار کی باتیں‘‘ کا ایک پہلو ہے۔
ڈاکٹر سراج احمد قادری یوں رقمطراظ ہے،’’ڈاکٹر شاداب ذکی بادایونی کے پیش نظر دیوان نعت میں یوں تو بہت سارے اشعار ایسے ہیں جو بطور استغاثہ تحریر کئے گئے ہیں جو ان کی جسمانی زندگی کر ترجمانی کرتے ہیں۔ ان سب کو یہاں پیش تو نہیں کیا جاسکتا ہے مگر مشتے نمونہ ازکراورے چند اشعار ضرور پیش کئے جارہے ہیں۔ جس میرے نقطہ نظر کی تائید و توثیق ہوسکے۔ یہ بات قابل تعریف و توصیف ہے کہ اگر چہ شاداب ذکی بدایونی زندگی کےا ٓخری سالوں میں علالت کی وجہ سے گھر میں ہی محصورتھے، اس کے باوجود بھی وہ مطالعہ اور مشق شاعری برابر کرتے رہے۔ نعتیہ شاعر ی میں التجائیں، مغفرت کی دعائیں اور قبولیت کی امید بھی ان کی اس کتاب کا حصہ ہے، جو قاری کے دل میں جگہ بنا لیتی ہیں۔ نعت کہنا شاداب ذکی کے نزدیک عبادت سے کسی قدر کم نہیں ہے۔ حضورؐ کی سیرت طیبہ، جمال محمدیؐکے ساتھ ان سے وابستہ صحابہ کرام کا تذکرہ بھی اس نعتیہ مجموعے کا حصہ ہے۔ مرحوم شاداب کے اس تقدیسی کلام میں جدید اور روایتی علامات کا توازن جیسے ’’انوار‘‘، ’’اقدس‘‘، ’’درود‘‘، ’’مدینہ‘‘ جیسی روایتی علامات کے ساتھ
ساتھ جدید استعارے بھی موجود ہیں جو کلام کو زمانے کے ساتھ مربوط کرتے ہیں۔
مشکل میں ہیں رسول خدا ہم غریب لوگ
پاتے ہیں بے کئے کی سزا ہم غریب لوگ
ان کی رضا، خدا کی رضا ہے اسی لئے
بس چاہتے ہیں ان کی رضا ہم غریب لوگ (ص ۔ 120)
اس نعتیہ مجموعے کا سب سے بڑا فنی حسن یہی ہے کہ ہر شعر میں جذبات کی سچائی اور عقیدت کی حرارت محسوس ہوتی ہے، جو فن کو روح عطا کرتی ہے۔’’سرکار کی باتیں‘‘ موجودہ دور کے نعتیہ ادب میں ایک مستحکم اضافہ ہے۔ یہ کتاب ان خوش نصیب کوششوں میں سے ہے جو نعت گوئی کو محض رسمی پن یا لفظی بازی گری سے بچاتے ہوئے اسے دل کی واردات بناتی ہے۔ یہ نئی نسل کو نعت کے ذوق سے روشناس کراتے ہوئے ان کے ایمان کو تازہ کرنے کا وسیلہ بن سکتی ہے۔ شاداب ذکی بدایونی نے اپنے کلام کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ سادگی اور خلوص ہی عشقِ رسولؐ کا سب سے بلیغ اظہار ہے۔مجموعہ ’’سرکار کی باتیں‘‘ پڑھنے کے بعد قاری کے دل میں سرکارِ دو عالمؐ کے لیے محبت کا جذبہ اور ان کی سنتوں کی پیروی کا شوق ضرور بیدار ہوتا ہے۔ یہ کتاب اپنے عنوان کے عین مطابق، قاری سے ’’باتیں‘‘ کرتی محسوس ہوتی ہے،نرمی سے، پیار سے اور ہدایت کے ساتھ۔ یہ شاداب ذکی بدایونی صاحب کی ایک صادقانہ اور قابلِ قدر ادبی خدمت ہے جسے اردو ادب کی دنیا میں ایک معتبر مقام حاصل ہے۔دعا ہے کہ مرحوم شاداب ذکی بدایونی کی عقیدت اور احترام کی یہ حسین کوشش دربار اقدس میں قبولیت کا شرف حاصل کرے اور ان کے لئے صدقہ جاریہ کا وسیلہ بنے۔ آمین
[email protected]
�������������������