جہاں مقصد کے حوالے سے ایک طرف راقم الحروف پہلے ہی عرض کرچکا ہے کہ کم عمری میں ہی کوئی نہ کوئی مقصد بنانا بہتر ہے وہیں دوسری جانب کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ وقت پر صحیح رہنمائی نہ ملنے کی وجہ سے ایک انسان غلط مضامین کا انتخاب کر لیتا ہے یا بعض اوقات زندگی میں بہت آگے چل کر سوِل سروسز میں آنے کا خیال آجاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی صورتحال میں انسان کیا کرے؟ اس بات کو ذہن نشین کریں کہ سپنوں کو حقیقت کا لباس پہنانے کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔بس اللہ عزوجل کی ذات پہ توکل کریں اور اس کے بعد اگر آپ کے اندر یقین ِ محکم اور جوش و جذبہ ہے،آپ کے عزائم پختہ ہیں ،استقامت و استقلال آپ کی رگ رگ میں پیوست ہے تو کامیابی یقینا آپ کے قدم چومے گی۔آپ خود بھی ہر سال کامیاب ہونے والے افراد کی فہرست دیکھیں،اُس میں آپ کو ضرور درجنوں نام ایسے ملیں گے جنہیں زندگی میں بہت آگے چل کر یوپی ایس سی میں آنے کا خیال آیا ،یا جنہوں نے دیگر شعبوں کو خیرباد کہہ کر سول سروسز میں قدم رکھنے کا قصد کیا ۔اس کے باوجود بھی وہ کامیاب ہوجاتے ہیں ۔یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آپ بھی یہ سفر طے کرسکتے ہیں پھر چاہے بظاہر دیر ہی کیوں نہ ہوئی ہو کیونکہ دیر آید درست آید۔
اب جب کہ آپ نے طے کرہی لیا ہے کہ آپ کو یوپی ایس سی میں ہی آنا ہے،یہی آپ کا خواب اور یہی آپ کا مقصد ہے تو اس کے بعد یہ جاننا ضروری بن جاتا ہے کہ ’شروعات کیسے کریں؟‘۔سپنوں کو حقیقت کا لباس پہنانے کے لیے جہد ِ مسلسل کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر آپ کوئی خواب دیکھ کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ جاتے ہیں تو آپ کے سپنے بس ایک آرزو بن کر رہ جاتے ہیں۔پہلا زینہ یعنی یوپی ایس سی کا خواب دیکھنا آپ نے طے کرلیا لیکن اب اس سپنے کو حقیقت میں بدلنے کے لیے جو جہد ِ مسلسل درکار ہے، اُس کا طریقۂ کار جاننا از حد ضروری ہے اور اُس طریقۂ کار کو جاننے کے لیے پہلے اس امتحان کو سمجھنا ضروری ہے کہ یوپی ایس سی کیا ہے؟
یوپی ایس سی یعنی یونین پبلک سروس کمیشن دراصل اُس بورڈ کا نام ہے جو ہر سال ملکی سطح پر کئی اعلیٰ عہدوں کے لیے امتحانات منعقد کرتا ہے۔اُن امتحانات میں سِول سروسز بھی شامل ہے اور یہ امتحان ہر سال منعقد کیا جاتا ہے۔جیسا کہ پہلے بھی عرض کیاجاچکا ہے کہ سول سروسز کو اور بھی کئی ناموں سے جانا جاتا ہے ۔اسی لیے آپ کبھی کبھار ایسا سنتے یا پڑھتے ہیں کہ فلاں شخص نے یوپی ایس سی کیا،فلاں شخص آئی اے ایس کی تیاری کررہا ہے ،فلاں شخص سول سروسز کی کوچنگ لے رہا ہے،ان سب سے ایک ہی مراد ہے(حالانکہ یوپی ایس سی میں فقط آئی اے ایس ہی نہیں آتا )۔ملک کے اس مشکل ترین امتحان میں لاکھوں طلاب شرکت تو کرتے ہیں لیکن کامیابی چند سو افراد کو ہی نصیب ہوتی ہے(اوسطاً ایک ہزار کے آس پاس اور گزشتہ برسوں سے ایک ہزار سے بھی کم!)یہ امتحان دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے،پرلمز(Prelims) اور مینز (Mains) اور اگر انٹرویو کوالگ گناجائے تو تین حصے بنتے ہیں (Prelims+Mains+interview)۔ امتحان میں شامل ہونے کے لیے آپ کی تعلیمی قابلیت کم از کم گریجویشن (Graduation) یا گریجویشن کے برابر کوئی ڈگری ہونی چاہیے اور اسی طرح آپ کی عمر کم از کم 21سال اور زیادہ سے زیادہ 32 سال ہونی چاہیے ( SC،ST،OBC سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے عمر کی اوپری حد میں چھوٹ دی گئی ہے)۔اب آئیں امتحان کے مختلف حصوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔
ُپرلمز(Prelims):یہ امتحان کا پہلا مرحلہ ہے۔پرلمز دو پرچوں پر مشتمل ہوتا ہے۔فی پرچہ 200 نمبرات پر مشتمل ہوتا ہے اور ہرپرچے کے لیے آپ کو دو گھنٹوں کا وقت فراہم کیا جاتا ہے۔سوالات معروضی(Objective) طرز کے ہوتے ہیں۔پہلے پرچے کا نصاب یوں ہے:
۱۔حالاتِ حاضرہ (ملکی و غیر ملکی سطح کے)۔
۲۔تاریخِ ہند بشمول تحریکِ آزادی ہند(History Of India and Indian National Movement)۔
۳۔جغرافیہ (بین الاقوامی و ہندوستانی)۔
۴۔نظم و نسق(Polity)،آئین،سیاسی نظام،پنچائتی راج وغیرہ۔
۵۔معاشی و سماجی ترقی، غربت، پائیدار ترقی (Sustainable Development) وغیرہ۔
۶۔ماحولیات،حیاتی نظام(Bio diversity) وغیرہ
۷۔جنرل سائنس۔
دوسرے پرچے کا نصاب Reasoning ،ریاضی(دسویں کے درجے کی)،مواصلاتی مہارت ( Communication Skills) ،دئے گئے اقتباسات کی تفہیم (Comprehension) وغیرہ پر مشتمل ہوتا ہے۔اس پرچے کا نصاب دیکھ بعض افراد خاص کر جو آرٹس شعبے سے تعلق رکھتے ہیں،نا امید ہوسکتے ہیں کیونکہ اُنہیں ریاضی اور Reasoning پر اُس قدر عبور حاصل نہیں ہوتا ۔لیکن پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ یہ پرچہ فقط Qualifyingہوتا ہے یعنی اس پرچے میں آپ کو فقط 33فیصد نمبرات لانے ہوتے ہیں۔کوئی شخص اگر سو فیصد بھی لے آئے تو اُس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن33 فیصد آپ کو بہر صورت لانے ہی ہیں۔راقم الحروف نے پہلی قسط میں ہی اس بات کا تذکرہ کیا تھا کہ اگر کوئی طالب علم آرٹس شعبے کا انتخاب کرتا ہے تو اُسے آٹھویں،نویں اور دسویں جماعت کے ریاضی پر اچھا عبور حاصل ہونا چاہیے۔اُس کی وجہ یہی ہے کہ جب آپ کو ریاضی پر اچھا خاصا عبور حاصل ہوگا تو اس پرچے میں آپ کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔اگر کسی وجہ سے اب آپ کو ریاضی پر عبور حاصل نہیں ہے تب بھی گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ آپ اس پرچے کے دوسرے مضامین میں اچھی کارکردگی کرسکتے ہیں ۔
دوسرا پرچہ چونکہ Qualifyingہی ہوتا ہے اس لیے میرٹ(Merit) کے لیے پہلے پرچے کو ہی گنا جاتا ہے۔پرلمز میں کامیاب قرار دئے گئے اُمیدوار امتحان کے دوسرے مرحلے یعنی مینز( Mains)میں شامل ہونے کے اہل ہوتے ہیں۔یہاں ا س بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ پرلمز میں حاصل کیے گئے نمبرات بس یہ طے کرتے ہیں کہ کون مینز میں داخلے کا اہل ہے اور کون نہیں لیکن یوپی ایس سی میں منتخب(select) ہونے کے لیے پرلمز میں حاصل کیے گئے نمبرات نہیں گنے جاتے۔اب آئیں،امتحان کے دوسرے حصے یعنی مینز کی طرف ہی رُخ کرتے ہیں۔
مینز(Mains):کون منتخب ہوگا اور کس کو کو ن سی (Rank) ملے گی،اس کا فیصلہ فقط مینز میں حاصل کیے گئے نمبرات ہی کرتے ہیں۔اس لیے مینز کو کافی اہم مانا جاتا ہے۔پرلمز کی طرح یہ حصہ معروضی طرز کا نہیں ہوتا ۔اس میں آپ کو تفصیلی جوابات لکھنے ہوتے ہیں۔اسی طرح پرلمز کی طرح اس میں فقط دو پرچے نہیں ہوتے بلکہ یہ 9نو پرچوں پر مشتمل ہوتا ہے،جس میں دو Qualifyingہوتے ہیں اور سات کو Merit کے لیے گِنا جاتا ہے۔نصاب پر تفصیلی بات کرنے سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ مینز امتحان میں یوپی ایس سی بورڈ آپ سے کیا توقع کرتا ہے۔اس حوالے سے بورڈ نے واضح ہدایات دی ہیں جو یوں ہیں:
The main examination is intended to assess the overall intellectual traits and depth of understanding of candidates rather than merely the range of their information and memory.
اس کا مفہوم یوں ہے کہ پرلمز چونکہ معروضی (Objective) طرز کا ہوتا ہے اس لیے وہاں فقط آپ کی معلومات(Information) کو جانچا جاتا ہے لیکن مینز چونکہ تفصیل طلب ہوتا ہے اس لیے یہاں کسی موضوع پر آپ کی معلومات ہی نہیں بلکہ اس چیز کو پرکھا جاتا ہے کہ دئے گئے موضوع کے حوالے سے آپ کی تفہیم و تجزیہ کیا ہے،آپ اُس حوالے سے کیا رائے رکھتے ہیں ۔اس چیز کو سمجھانے کے لیے راقم یہاں ایک مثال کا استعمال کرے گا تاکہ قارئین کرام بات کو بآسانی سمجھ سکیں۔حالیہ زرعی قوانین کواگر لیا جائے تو چونکہ یہ موضوع حالات حاضرہ میں آتا ہے اس لیے ممکن ہے کہ اس حوالے سے سوال پوچھا جائے۔اگر پرلمز میں یہ سوال پوچھا جائے تو سوال کچھ اس طرز کا ہوسکتا ہے کہ’’مندرجہ ذیل آپشنز میں سے نیا زرعی قانون کون سا ہے؟‘‘ لیکن یہی سوال اگر مینز میں پوچھا جائے تو کچھ اس طرح کا ہوگا کہ’’ حال ہی میں جو نئے زرعی قوانین پاس کیے گئے،کیا وہ واقعی انقلابی حیثیت رکھتے ہیں جیسا کہ سرکار کا دعویٰ ہے؟‘‘ ۔پرلمز میں جب زرعی قوانین کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو وہاں بس آپ کی معلومات کو جانچا گیا کہ آپ کو اس موضوع پر جانکاری ہے یا نہیں لیکن جب اسی موضوع پر مینز میں پوچھا گیا یہاں آپ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ معلومات کے علاوہ آپ اس موضوع پر کیا نقطہ ٔ نگاہ رکھتے ہیں اور آپ کا فہم کتنا ہے۔یہاں آپ کو تفصیل میں لکھنا پڑے گا کہ نئے زرعی قوانین کیا ہیں، ان میں کیا کیا خوبیاں ہیں اور کیا کیا خامیاں ہیں ۔مینز امتحان میں آپ کو مساوی رویہ ( Balanced approach) اپنانا پڑتا ہے ۔جس موضوع کے حوالے سے پوچھا جارہا ہے، اُس کی کمیاں اور خوبیاں دونوں کو اجاگر کرنا پڑتا ہے اور جو خامیاں ہیں، اُن کے ازالے کے حوالے سے بھی آپ کو اپنا نقطہ نظر پیش کرنا پڑتا ہے ۔(نوٹ: یہ مثال فقط سمجھانے کے لیے پیش کی گئی اور ضروری نہیں کہ یہی سوال پوچھا جائے)۔
(مضمون جاری ہے ۔ایک نئے پہلو کے ساتھ اگلی قسط انشاء اللہ اگلی منگلوار کو شائع کی جائے گی)
پتہ۔برپورہ پلوامہ کشمیر
رابطہ۔[email protected]