کوٹرنکہ //کوٹرنکہ کو بقیہ دنیا سے جوڑنے والاانس نالے پر پل 2014 کے سیلاب کے دوران بہہ گیاتھا جس کو ہنوز تعمیر نہیں کیاگیا جس کی وجہ سے ٹریفک مکمل طور پر بحال نہیںہوسکی ہے ۔ واضح رہے کہ 2014میں سیلاب کی وجہ سے پل کا ایک حصہ تباہ ہوگیاتھا جس کے بعد اگرچہ فوج نے اس کی عارضی طور پر تعمیر کی تاہم یہ پل 2015 میں پھر سے ٹوٹ گیا۔دوبار پل کو نقصان پہنچنے کے بعد فوج نے پھر محنت سے کام کرتے ہوئے پل کو چھوٹی گاڑیوں کی آمدورفت کے قابل بنادیا مگر اس پر صرف پانچ ٹن وزن کی گاڑی کو چلنے کی اجازت حاصل ہے جس سے زیادہ وزن والی گاڑیوں کو پل سے گزرنے کی اجازت نہیں ہے ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ محکمہ گریف کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ اس پل کی تعمیر کرکے ٹریفک مکمل طور پر بحال کراتاتاہم آج تک اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیاگیا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ GRF10 اس اہم تعمیری کام کیلئے سنجیدہ نہیں ۔ان کاکہناہے کہ وہ فوج کے شکر گزار ہیں کہ انہیں کم از کم چلنے کاراستہ فراہم کیاگیالیکن اب بھی بہت زیادہ مشکلات کاسامناہے اور بڑی گاڑیوں کا پل سے گزر نہ ہونے کی وجہ سے پریشانیاں ہی پریشانیاں ہیں۔پل تعمیر نہ ہونے کے باعث ڈرائیوروں اور دوکانداروں کا نقصان ہورہاہے ۔ایک ڈرائیورمحمد ریاض کا کہناہے کہ لوڈ گاڑی پل سے گزارنے کی اجازت حاصل نہیں جس کی وجہ سے انہیں شدید متاثر ہوناپڑتاہے ۔ انہوںنے حکام سے مانگ کی کہ پل کی تعمیر کی جائے ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ غفلت کا یہ عالم ہے کہ سیلاب کے تین سال بعد بھی پل کی تعمیر نہیں کی گئی اورنہ جانے اس کام کو شروع کرنے کیلئے کس گھڑی کا انتظار کیاجارہاہے ۔