سرنکوٹ//اگرچہ ندی نالوں سے ریت اور بجری نکالنے پر پابندی عائد ہے لیکن دریائے سرن پر بغیر کسی خوف و ڈر کے یہ کام تیزی سے انجام دیاجارہاہے ۔بفلیاز سے لیکر کلائی تک کئی جگہوں پر غیرقانونی مشینیں کام کررہی ہیں لیکن متعلقہ حکام اور انتظامیہ کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ۔ریت اور بجری نکالنے کے کام میں تیزی 2014کے سیلاب کے بعد آئی ہے جب دریا نے اپناراستہ تبدیل کرکے ایک وسیع علاقے کو اپنی زد میں لے لیاتھا۔ریت اور بجری نکالنے سے کئی مکانات کو معمولی سیلاب کی صورت میں بھی خطرہ لاحق ہوگیاہے اور لوگوں کی جانیں مشکلات میںہیں۔اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے سمیر خان نے بتایا کہ کچھ لوگوں نے دریا پرریمپ اور جے سی بی مشینیں لگارکھی ہیں جو دریا سے ریت بجری کو نکال کر فروخت کررہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ اس عمل سے ان کی جانوں کو خطرہ ہے ۔سمیر خان کاکہناہے کہ درابہ سے لیکرسرنکوٹ شمشان گھاٹ تک دریا نے تباہی مچا دی تھی جس کے بعد ریت بجری والا مافیا ہر اس جگہ سرگرم ہے جہاں جہاں دریاکاپانی گیا۔انہوںنے کہاکہ اگرچہ یہ کام قانونی جرم ہے لیکن یہ مافیا بلاخوف و خطر کام کررہاہے ۔فوجی جبار ،نذیر احمد، یونس ،غلام محی الدین اورعبد الرشید نامی شہریوں کاکہناہے کہ انہوںنے اس سلسلے میںڈپٹی کمشنرپونچھ اور ایس ڈی ایم سرنکوٹ کو بھی مطلع کیا لیکن ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔انہوںنے کہاکہ ان کا مطالبہ ہے کہ دریا سے ریت اور بجری نکالنے پر پابندی عائد کی جائے اور ان کی زمینوںو مکانات کو تباہ ہونے سے بچایاجائے ۔ انہوںنے کہاکہ اگر بفلیاز درابہ سے مشینیں باہر نہ کی گئیں تو وہ سڑک بند کرکے احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائیںگے ۔