سمت بھارگو
راجوری//راجوری اور پونچھ اضلاع میں موسلادھار بارشوں کے بعد آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد دریاؤں اور ندی نالوں میں پھنس گئے جبکہ سینکڑوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ مختلف علاقوں میں ایس ڈی آر ایف، پولیس، سول انتظامیہ اور دیگر امدادی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے کئی قیمتی جانیں بچائیں۔اطلاعات کے مطابق ضلع راجوری کے تھنہ منڈی کے چرونگ علاقے میں سیلابی ریلے کے باعث دریا کے کنارے پھنس جانے والے 15 افراد کو علی الصبح ایک کامیاب ریسکیو آپریشن کے دوران بحفاظت نکال لیا گیا۔ اسی طرح آٹی فتح پور علاقے میں سیلابی پانی میں محصور ایک شوہر اور اس کی بیٹی کو بھی ایس ڈی آر ایف کی ٹیموں نے محفوظ مقام پر منتقل کیا۔دریں اثنا، راجوری کے ڈھانگری علاقے میں سیلابی نالے میں پھنسے دو نوجوانوں کو بھی بروقت ریسکیو کر لیا گیا، جبکہ نوشہرہ میں ایک شخص کو سیلابی پانی سے بحفاظت نکالا گیا۔ مسلسل بارشوں اور طغیانی کے باعث متعدد علاقوں میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے اور کئی رابطہ سڑکیں بھی زیر آب آگئیں۔راجوری شہر میں گزشتہ شب آنے والے شدید سیلاب نے سب سے زیادہ تباہی غریب آبادیوں میں مچائی۔ عبداللہ پل سے گجر منڈی تک دریا کے کنارے قائم متعدد مکانات اور دکانیں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں، جبکہ شہر کی ایک پوری کچی بستی، جہاں سو سے زائد جھگیاں قائم تھیں، مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ متاثرہ خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے۔سیلاب سے بے گھر ہونے والے خاندانوں کی فوری مدد کے لیے ضلعی انتظامیہ نے گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول راجوری میں ایک امدادی مرکز قائم کیا ہے، جہاں رہائش، خوراک، پینے کے پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کا انتظام کیا گیا ہے۔ریلیف سینٹر کے نوڈل آفیسر اور ضلع شماریات و جائزہ افسر سندیپ شرما نے بتایا کہ بے گھر خاندانوں کی مکمل دیکھ بھال کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک تقریباً 165 خاندانوں کی اسکریننگ مکمل کی جا چکی ہے، جن میں سے 25 خاندانوں کے 130 افراد کو امدادی مرکز منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی خاندانوں کی منتقلی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ دریا، ندی نالوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا رخ نہ کریں، سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر متعلقہ کنٹرول روم یا ریسکیو اداروں سے رابطہ کریں۔ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور راحت رسانی کی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں جبکہ نقصان کا مکمل تخمینہ بھی لگایا جا رہا ہے۔