فکر و ادراک
آصف حسین الکشمیری
سگریٹ نوشی کوئی معمولی عادت نہیں بلکہ ایک ایسا خاموش قاتل ہے جو آہستہ آہستہ انسان کے جسم، ذہن اور مستقبل کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہ وہ دشمن ہے جو دھوئیں کی صورت میں پھیپھڑوں میں داخل ہوتا ہے ،مگر اس کے اثرات برسوں تک انسان کی زندگی کو جکڑے رکھتے ہیں۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ہم اس کے نقصانات جاننے کے باوجود اسے معمولی سمجھتے ہیں اور یہی غفلت ہماری نسلوں کو تباہی کے دہانے تک لے جا رہی ہے۔بظاہرسگریٹ نوشی محض ایک عادت نظر آتی ہے، مگر اس کے دُھوئیں میں چھپی ہوئی ہولناک حقیقت انسان کے بدن کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتی ہے،یہی وجہ ہے کہ دُنیا بھر کی طبی تحقیقات متفق ہیں کہ سگریٹ نوشی ایک خاموش مگر یقینی قاتل ہے۔
کبھی سگریٹ نوشی چند مخصوص افراد تک محدود تھی، مگر آج یہ وباء نوجوانوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اسکولوں کے باہر، کالجوں کے کونوں میں، بازاروں کی گلیوں میں اور بس اسٹینڈوں پر دھوئیں کے مرغولے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ہماری آنے والی نسل کس خطرناک راستے پر چل پڑی ہے۔ نوجوان سگریٹ کو فیشن، اسٹیٹس اور ذہنی دباؤ سے نجات کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی سگریٹ ان کی صحت، ان کے خوابوں اور ان کے روشن مستقبل کو نگل رہا ہے۔
سگریٹ نوشی کے صحت پر نہایت ہی تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہے، سانس کی بیماریوں کو جنم دیتی ہے، دل اور خون کی نالیوں کو کمزور کر دیتی ہے اور کینسر جیسے موذی مرض کا خطرہ کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ ایک ایسا انسان جو بظاہر صحت مند دکھائی دیتا ہے، اندر ہی اندر بیماریوں کا شکار ہو رہا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سگریٹ نوشی کو آہستہ آہستہ موت کی طرف بڑھنے والا سفر کہا جاتا ہے، جس کا انجام اکثر انسان کو بہت مہنگا پڑتا ہے۔
یہ صرف جسمانی نقصان کا مسئلہ نہیں بلکہ ذہنی اور اخلاقی زوال کا سبب بھی بنتا ہے۔ سگریٹ نوشی انسان کی قوتِ ارادی کو کمزور کر دیتی ہے، بے چینی اور غفلت کو جنم دیتی ہے اور رفتہ رفتہ دوسری برائیوں کا راستہ ہموار کر دیتی ہے۔ ایک نوجوان جو قوم کا سرمایہ ہو سکتا تھا، وہ اسی دھوئیں میں اپنی توانائیاں جلا دیتا ہے۔ یوں ایک فرد کی کمزوری پورے معاشرے کی کمزوری بن جاتی ہے۔ہمارے معاشرے کے زیادہ تر نوجوان سمجھتے ہیں کہ سگریٹ اُن کی شخصیت میں کوئی بھرپور تبدیلی لے آئے گی ،جیسے دُھواں اڑا کر وہ اپنے وجود کی من مانی طاقت کا اعلان کر رہے ہوں۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ان تمام ظاہری محرکات سے بڑھ کر انسان کو غلام بنانے والی اصل طاقت ہےنیکوٹین کا کیمیائی جادو،جو جسم اور ذہن میں ایسی انحصاری کیفیت پیدا کرتا ہے کہ پھر انسان سگریٹ نہیں پیتابلکہ سگریٹ انسان کو پینے لگ جاتی ہے، اور یہ سب کچھ یونہی نہیں ہوتا،اس کے پیچھے مارکیٹنگ کا ایک منظم اور شیطانی کھیل بھی ہے جو آزادی، اعتماد اور خوشی کے نام پر ذہنوں کو غلام بناتا ہے۔ موت کا دُھواں بیچا جاتا ہےاور خواہشِ زندگی رکھنے والا انسان اِسے خریدتا ہے۔ آخرکار نتیجہ یہ انسان سمجھتا ہے کہ وہ عادت کو قابو میں رکھے ہوئے ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ نیکوٹین اسے اپنے شکنجے میں جکڑ کر پینے پر مجبور کرتی ہےاور اس طرح یہ مسئلہ محض فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے سماج کو متاثر کرتا ہے۔ جب ایک نوجوان بیمار ہوتا ہے تو اس کا گھر متاثر ہوتا ہے، اس کی تعلیم رُک جاتی ہے، اس کی محنت ضائع ہو جاتی ہے اور اس کا خاندان فکری و مالی پریشانیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یوں سگریٹ نوشی غربت، بے روزگاری اور معاشرتی بگاڑ کو بھی جنم دیتی ہے۔ ایک طرف ہم ترقی اور خوشحالی کے نعرے لگاتے ہیں اور دوسری طرف اپنی نوجوان نسل کو دُھوئیں میں جھونک دیتے ہیں، یہ کیسا دردناک تضاد ہے۔سگریٹ پر خرچ ہونے والا پیسہ بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ وہ رقم جو کسی غریب کے علاج، کسی بچے کی تعلیم یا کسی گھر کی بنیادی ضرورت پوری کر سکتی تھی، لمحوں میں راکھ بن جاتی ہے۔ یہ صرف صحت کا نقصان نہیں بلکہ شعور اور ترجیحات کی شکست بھی ہے۔ ایک باشعور قوم وہ ہوتی ہے جو اپنی دولت اور طاقت کو زندگی سنوارنے میں لگائے نہ کہ اپنی تباہی خریدنے میں۔
اس خطرناک رجحان کے خلاف اجتماعی جدوجہد وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ علماء، خطباء اور ائمہ کو چاہیے کہ جمعہ کے خطبات میں لوگوں کو اس لعنت کے نقصانات سے باخبر کریں اور دینی و اخلاقی پہلو سے اس کی قباحت واضح کریں۔ میڈیا اور صحافی حضرات اس مسئلے کو سنجیدگی سے اُجاگر کریں تاکہ معاشرے میں بیداری پیدا ہو۔ مساجد کی کمیٹیاں، پڑھے لکھے افراد اور سماجی تنظیمیں اس موضوع پر کانفرنسیں، سیمینار اور بیداری مہمات منعقد کریں تاکہ نوجوان نسل کو بروقت خبردار کیا جا سکے۔
اسی طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سگریٹ نوشی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ سرِعام سگریٹ نوشی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو، اور بالخصوص کم عمر بچوں کو سگریٹ فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت قدم اٹھایا جائے۔ اگر قانون، شعور اور اخلاق تینوں مل کر کام کریں تو اس خاموش قاتل کو روکا جا سکتا ہے۔نوجوانوں سے خاص طور پر کہنا ہے کہ تم اس قوم کا سرمایہ ہو۔ تمہارے سینے میں قوم کی امیدیں دھڑکتی ہیں۔ اگر تم نے اپنی سانسوں کو دھوئیں میں گم کر دیا تو آنے والا کل اندھیروں میں ڈوب جائے گا۔ تمہاری طاقت، تمہاری صحت اور تمہارا کردار ہی تمہاری اصل پہچان ہے۔ سگریٹ چھوڑ دینا کمزوری نہیں بلکہ اصل بہادری ہے، کیونکہ بہادر وہی ہوتا ہے جو خود کو تباہی سے بچالے۔آج بھی وقت ہے کہ ہم اس لعنت کے خلاف کھڑے ہوں۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں دھوئیں کا راستہ چاہیے یا روشنی کا، بیماری چاہیے یا صحت، بربادی چاہیے یا کامیابی۔ سگریٹ نوشی کے خلاف جدوجہد صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ پوری نسل کی بقا کی جنگ ہے۔آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں عقل و شعور عطا فرمائے، ہمیں ہر اس چیز سے بچائے جو ہمارے جسم، ہمارے اخلاق اور ہمارے مستقبل کو نقصان پہنچاتی ہے اور ہماری نوجوان نسل کو صحت، ہمت اور پاکیزگی کی راہ پر گامزن کرے۔
(رابطہ ۔ 9797888975)
[email protected]