راجوری //بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری کی جانب جارہی سڑک کی انتہائی خراب حالت کو لے کر مکینوں نے متعلقہ محکمہ اور ضلع انتظامیہ کیخلاف احتجاج کیا ۔دھنورہ گائوں کے مکینوں نے انتظامیہ کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑک کو گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے بند کر دیا جس کی وجہ سے یونیورسٹی کی جانب جارہی ٹریفک لگ بھگ چار گھنٹوں تک بندرہی ۔مقامی سرپنچ افتاب احمد کی قیادت میں مکینوں کی بڑی تعداد بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری کی جانب جارہی سڑک پر جمع ہو گئے اور انہوں نے سڑک کو گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بندکرتے ہوئے انتظامیہ و متعلقہ تعمیراتی ایجنسی کیخلاف شدید نعرے بازی کی ۔مظاہرین نے کہاکہ یونیورسٹی کی جانب جارہی سڑک کی تعمیر کے سلسلہ میں 20کروڑ روپے کی لاگت سے منظور شدہ پروجیکٹ پر گزشتہ دو برسوں سے کام جاری ہے تاہم ابھی تک اس کو مکمل نہیں کیا جارہا ہے ۔مظاہرین نے کہاکہ انتظامیہ اور متعلقہ ایجنسی کی لاپرواہی کی وجہ سے یونیورسٹی کے سٹا ف ممبران اور طلباء کیساتھ ساتھ عام لوگوں کو دوران آمد ورفت شدید مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ سڑک غیر معیاری ہونے کی وجہ سے اب گاڑیوں کی آمد ورفت بھی بند ہونا شروع ہوگئی ہے جس کی وجہ سے مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی کے قیام کے بعد تعمیر ہورہی سڑکوں کو ابھی تک مکمل کرنے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی جارہی ہے اور نہ ہی ان کو ابھی تک اراضی کا معاوضہ بھی فراہم نہیں کیا گیا ہے ۔مظاہرین نے کہاکہ یونیورسٹی کے قیام کے دوران مقامی نوجوانوں کو نان ٹیچنگ سٹاف میں بھرتی کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن ابھی تک اس وعدے کو مکمل نہیں کیا گیا ہے ۔مظاہرین کے احتجاج کی وجہ سے یونیورسٹی کی سڑک چار گھنٹوں تک بند رہی جس کی وجہ سے مسافروں کیساتھ ساتھ یونیورسٹی کے سٹاف ممبران بھی پھنسے رہے ۔بعد میں مقامی انتظامیہ کے آفیسران موقعہ پر پہنچے اور انہوں نے مظاہرین کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہاکہ ان کی مانگ کو ترجیح بنیادوں پر حل کیا جائے گا جس کے بعد احتجاج ختم کردیا گیا ۔