ملک مشتاق
کسی بھی معاشرے کی اصل پہچان اس کے رویّوں، اس کے نظم و ضبط اور عوامی حقوق کے احترام سے ہوتی ہے۔ جب یہی عناصر کمزور پڑ جائیں تو ترقی کے دعوے کھوکھلے اور تہذیب کا چہرہ مسخ ہو جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک ایسا ہی تشویشناک رجحان خاموشی سے پروان چڑھ رہا ہے،سڑکوں پر کرکٹ کھیلنے کا بڑھتا ہوا ’’فیشن‘‘ جو درحقیقت ایک خطرناک سماجی بیماری بن چکا ہے۔یہ محض ایک کھیل نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا رویہ بن چکا ہے جو قانون کی دھجیاں بکھیر رہا ہے، انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور اجتماعی شعور کی پستی کو بے نقاب کر رہا ہے۔ گلی کوچوں سے لے کر مصروف شاہراہوں تک، ہر جگہ نوجوانوں کی ٹولیاں سڑکوں کو کھیل کا میدان بنائے کھڑی ہیں۔ نتیجتاً راہگیر خوف زدہ، ڈرائیور پریشان اور معاشرہ بے بس دکھائی دیتا ہے۔یہاں سوال صرف قانون کا نہیں بلکہ ضمیر کا بھی ہے۔ کیا ہمیں واقعی اس بات کا احساس ہے کہ ہماری ایک لاپرواہی کسی کی زندگی چھین سکتی ہے؟ ایک تیز رفتار گاڑی، ایک اچانک شاٹ اور ایک لمحے کی غفلت ،یہی وہ حقیقت ہے جو اکثر ناقابلِ تلافی حادثات کو جنم دیتی ہے۔ ؎
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ (اقبال)
جب فرد اپنی ذمہ داری سے غافل ہو جائے تو پوری قوم اس کا خمیازہ بھگتتی ہے۔ آج سڑکوں پر کھیلتا ہوا ایک بچہ کل کا غیر ذمہ دار شہری بن سکتا ہے،اگر اسے بروقت درست راستہ نہ دکھایا جائے۔قانونی طور پر سڑکوں پر کھیلنا ایک قابلِ سزا جرم ہے مگر افسوس کہ اس قانون پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ ٹریفک قوانین واضح ہیں، مگر ان کی خلاف ورزی ایک معمول بن چکی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہم قانون کو صرف کتابوں تک محدود رکھنا چاہتے ہیں، عملی زندگی میں نہیں۔اسلامی تعلیمات اس حوالے سے نہایت واضح ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:’’وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ‘‘(اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو)۔یہ حکم صرف ذاتی زندگی تک محدود نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ سڑکوں پر کرکٹ کھیلنا دراصل اسی ہلاکت کو دعوت دینا ہے،اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔نبی کریمؐ نے راستوں کے حقوق کے بارے میں فرمایا:’’راستے کا حق ادا کرو اور لوگوں کو تکلیف نہ دو۔‘‘یہ ایک ایسا اصول ہے جو پورے سماجی نظام کی بنیاد رکھتا ہے۔ مگر افسوس کہ ہم نے اس بنیادی تعلیم کو نظر انداز کر دیا ہے۔
کشمیری صوفی شاعر شیخ العالمؒ نے انسانی ذمہ داری کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا:”Ann poshi teli yeli wan poshi”(انسان کی بقا تبھی ممکن ہے جب وہ اپنے ماحول اور نظام کی حفاظت کرے)۔آج ہم اسی نظام کو اپنے ہاتھوں سے نقصان پہنچا رہے ہیں،چاہے وہ ماحول ہو، قانون ہو یا انسانی جانوں کا تحفظ۔یہ مسئلہ صرف کھیل تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع تر سماجی بحران کی علامت ہے۔ یہ عدم برداشت، بے نظمی اور قانون شکنی کی اس ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے جو آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔والدین کی غفلت، اساتذہ کی خاموشی اور انتظامیہ کی بے حسی نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی ذمہ داری ادا نہ کی تو کل یہ مسئلہ ناقابلِ کنٹرول ہو جائے گا۔علامہ اقبالؒ کا ایک اور پیغام آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے: ؎
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
یعنی اگر ہم چاہیں تو اصلاح کا دروازہ آج بھی کھلا ہے،بس ضرورت ہے نیت، شعور اور عمل کی۔سڑکیں کھیل کے میدان نہیں بلکہ زندگی کی امانت ہیں۔ ان پر کھیلنا نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانیت کے خلاف ایک جرم بھی ہے۔اب وقت آ چکا ہے کہ ہم بطور قوم یہ فیصلہ کریں،کیا ہم نظم و ضبط اور قانون کا احترام کرنے والی مہذب قوم بنیں گے یا لاپرواہی اور بے حسی کے اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے؟