ابو زید ضمیر
ہر انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے، کوئی بھی ناکام ہونا نہیں چاہتا۔ کامیابی کی طلب انسان کی فطرت میں پیوست کر دی گئی ہے۔ لیکن اس کامیابی کو پایا کیسے جائے؟چاہےمعاملہ دینی ہو یا دنیاوی، اپنے مقصد کو پانے اور کامیابی سے ہمکنار ہونےکیلئے ضروری ہے کہ انسان تین شرطوں کو پورا کرے۔ حقیقی کامیابی ان تین چیزوں کو جمع کیے بغیر نصیب نہیں ہوتی۔
۱۔ سچی طلب:کسی بھی چیز کو پانے کیلئے ضروری ہے کہ پہلے انسان کےدل میں اس کے پانے کی سچی طلب ہو۔ وہ اس چیز کو اپنے لیے اتنا ضروری سمجھتاہو کہ وہ اس کی حرص کرنے لگ جائے۔ دوسری چیزیں، لذتیں اور مصروفیتیںاس کے دل کو اپنے مطلوب سے پھیرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ یہی وہ سچی طلب اور حرص ہے جو کسی بھی چیز کو پانے کیلئے سب سے بڑا محرک ہے اور کامیابی کی طرف پہلا قدم ہے۔
۲۔ اللہ سے استعانت:سچی طلب کے بعد یہ بھی ضروری ہے کہ انسان اپنی ذات پر اعتماد کرنے کی بجائے اللہ رب العالمین سے مدد اور نصرت کی دعا کرے۔ وہ اپنی صالحیت اور اسباب و احباب کی اہمیّت کو تسلیم کرنے کے باوجود اللہ کو ہی اعتماد وسیلہ مانتا ہو۔ وہ اللہ سے دعا کرے کہ اس کی مدد کو اپنے لیے زیادہ قاب کوششیں اسے اپنے مقصد تک لےجانے میں کامیاب ثابت ہوں اور تمام رکاوٹوںکے باوجود وہ اپنے مطلوب کو پانے میں کامیاب ہوجائے۔ اسے یقین ہو کہ اللہ کی مدد کے بغیر ساری چیزیں بے کار اور بے سود ہیں۔
۳۔ عاجزی اور پست ہمتی کی بجائے انتھک کوشش :اللہ سے مدد مانگنا بے عملی کی ترغیب نہیں بلکہ عمل کی تقویت کا ذریعہ ہے۔ مقاصد کے حصول میںاللہ کی عطا کی ہوئی صالحیتوںسے مدد مانگنا ضروری ہے لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کو بروئے کار لاتے ہوئے مسلسل جدوجہد کو اپنا شعار بنانا بھی ضروری ہے۔چاہے دنیا کا معاملہ ہو یا آخرت کا، مجاہدے اور مسلسل جدوجہد کے بغیر کوئی بڑی کامیابی نصیب نہیں ہوتی۔ اس لیے ایک طالب کواللہ سے مدد طلب کرتےہوئے اپنی ساری توجہات ، ساری صالحیتوں اور تمام وسائل کو عزم و حوصلےکے ساتھ اپنے مطلوب کے پانے میں لگا دے۔جب بندہ سچی طلب اور توکل علی اللہ کے ساتھ اپنی کوششیں صحیح سمت میں لگا دیتا ہے تو اللہ بھی اپنے فضل وکرم سے اسے کامیابی سے ہمکنار کر دیتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ صرف یہی تینوں چیزیں مقاصد کے حصول کیلئے ضروری ہیں، اس کی کیا دلیل ہے؟ اس کی دلیل معلم انسانیت محمد عربی صلى الله عليه وسلم کی ایک حدیث کا ٹکڑا ہے۔
آپ نے فرمایا:’’جو چیز تیرے لیے نفع بخش ہو اُس کی حرص کر اور اللہ سے مدد مانگ اورعاجز نہ بن‘‘(صحیح مسلم: کتاب القدر ۳۴۔۲۶۶۴ )
اس حدیث میں اپنے مطلوب کے حصول کیلئے تین چیزیں ۱ ۔نفع بخش چیز کی حرص،۲ ۔اللہ سے استعانت اور۳ ۔عاجزی سے پرہیز کا حکم دیا گیا ہے۔ یہی وہ تین چیزیں ہیں جو دنیا و آخرت کی کامیابی کی کنجی ہیں اور شرط ہیں۔
[email protected]>