فکر و ادراک
مختار احمد قریشی
آج کی دنیا میں تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں رہی۔ بدلتے ہوئے سماجی حالات، تیز رفتار زندگی، مقابلے کا دباؤ اور ڈیجیٹل ماحول نے بچوں کی نفسیات کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ ایسے میں جدید تعلیم کا تقاضا ہے کہ وہ صرف تعلیمی کامیابی پر نہیں بلکہ بچے کی جذباتی، سماجی اور اخلاقی نشوونما پر بھی توجہ دے۔ سوشل ایموشنل لرننگ اسی ضرورت کا جواب ہے۔سوشل ایموشنل لرننگ سے مراد وہ تعلیمی عمل ہے جس کے ذریعے بچے اپنے جذبات کو پہچاننا، قابو میں رکھنا، دوسروں کے احساسات کو سمجھنا، مثبت تعلقات قائم کرنا اور ذمہ دارانہ فیصلے کرنا سیکھتے ہیں۔ یہ مہارتیں نہ صرف تعلیمی زندگی میں بلکہ عملی زندگی میں بھی کامیابی کی بنیاد بنتی ہیں۔ آج کے تعلیمی نظام میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بچوں سے نتائج کی توقع تو بہت کی جاتی ہے مگر ان کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کم ہوتی ہے۔ امتحانات کا دباؤ، مقابلے کی فضا اور والدین کی بلند توقعات بچوں میں اضطراب، خوف اور احساسِ کمتری پیدا کر رہی ہیں۔ سوشل ایموشنل لرننگ بچوں کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ اپنے احساسات کو پہچانیں، انہیں الفاظ دیں اور صحت مند طریقے سے اظہار کریں۔ جب بچہ اپنے جذبات کو سمجھ لیتا ہے تو وہ دباؤ کو بہتر انداز میں سنبھال سکتا ہے۔ اساتذہ کا کردار سوشل ایموشنل لرننگ میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ استاد صرف مضمون پڑھانے والا نہیں بلکہ رہنما اور مربی ہوتا ہے۔ جب استاد بچے کی بات غور سے سنتا ہے اس کے احساسات کو تسلیم کرتا ہے اور احترام کے ساتھ جواب دیتا ہے تو بچہ خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے۔ یہ جذباتی تحفظ سیکھنے کے عمل کو مضبوط بناتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو بچے جذباتی طور پر محفوظ ہوتے ہیں وہ زیادہ توجہ سے سیکھتے ہیں اور بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔
سوشل ایموشنل لرننگ بچوں میں خود آگہی پیدا کرتی ہے۔ بچہ یہ جان پاتا ہے کہ وہ کیا محسوس کر رہا ہے اور کیوں محسوس کر رہا ہے۔ یہ شعور اسے خود نظم و ضبط سکھاتا ہے۔ وہ غصے، مایوسی اور خوف جیسے جذبات پر قابو پانا سیکھتا ہے۔ یہ صلاحیت نہ صرف کلاس روم میں بلکہ گھر اور معاشرے میں بھی اس کے رویے کو مثبت بناتی ہے۔ ایک اہم پہلو سماجی آگہی ہے۔ سوشل ایموشنل لرننگ بچوں کو دوسروں کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی تربیت دیتی ہے۔ وہ یہ سیکھتے ہیں کہ ہر انسان کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔ اس سے ہمدردی، برداشت اور باہمی احترام فروغ پاتا ہے۔ آج کے معاشرے میں جہاں عدم برداشت بڑھ رہی ہے، یہ مہارتیں انتہائی ضروری ہیں۔ رشتہ سازی بھی سوشل ایموشنل لرننگ کا اہم حصہ ہے۔ بچے سیکھتے ہیں کہ دوسروں سے مؤثر انداز میں بات کیسے کی جائے، اختلاف کو پرامن طریقے سے کیسے حل کیا جائے اور ٹیم ورک کیسے کیا جائے۔ یہ مہارتیں مستقبل میں ان کی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی میں کامیابی کا سبب بنتی ہیں۔
سوشل ایموشنل لرننگ ذمہ دارانہ فیصلہ سازی کو بھی فروغ دیتی ہے۔ بچے اپنے اعمال کے نتائج پر غور کرنا سیکھتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر فیصلہ صرف خود پر نہیں بلکہ دوسروں پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ یہ شعور انہیں بہتر شہری بننے میں مدد دیتا ہے۔
والدین کا کردار بھی اس عمل میں نہایت اہم ہے۔ جب گھر اور اسکول دونوں ایک ہی اقدار کو فروغ دیتے ہیں تو بچے کو استحکام ملتا ہے۔ والدین اگر بچوں کے جذبات کو سنجیدگی سے لیں، ان کی بات سنیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں تو سوشل ایموشنل لرننگ کا اثر دوگنا ہو جاتا ہے۔
نئی تعلیمی پالسی 2020 میں سوشل ایموشنل لرننگ پر زور دیا جا رہا ہے۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ متوازن اور باکردار انسان تیار کرنا ہے۔ جب تعلیمی منصوبہ بندی میں جذباتی اور سماجی پہلو شامل ہوتے ہیں تو اسکول ایک محفوظ اور خوشگوار جگہ بن جاتا ہے۔ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سوشل ایموشنل لرننگ کوئی اضافی سرگرمی نہیں بلکہ جدید تعلیم کی بنیاد ہے۔ یہ بچوں کو نہ صرف اچھا طالب علم بلکہ اچھا انسان بننے میں مدد دیتی ہے۔ ایسے انسان جو خود کو سمجھتے ہوں، دوسروں کا احترام کرتے ہوں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔ یہی وہ تعلیم ہے جس کی آج کے دور کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
سوشل ایموشنل لرننگ کا اثر صرف طلبہ تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے تعلیمی نظام پر پڑتا ہے۔ جب اسکول میں جذباتی فہم کو ترجیح دی جاتی ہے تو اساتذہ کے درمیان بھی مثبت تعلقات فروغ پاتے ہیں۔ اساتذہ ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھتے ہیں۔ وہ دباؤ کو بہتر انداز میں سنبھالتے ہیں۔ اس سے تدریسی معیار بہتر ہوتا ہے اور تعلیمی ماحول صحت مند بنتا ہے۔سوشل ایموشنل لرننگ نظم و ضبط کے روایتی تصور کو بھی بدلتی ہے۔ سزا اور خوف کے بجائے فہم اور مکالمہ سامنے آتا ہے۔ بچے اپنی غلطیوں کو سیکھنے کے مواقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ جب استاد بچے سے پوچھتا ہے کہ کیا ہوا اور کیوں ہوا تو بچہ ذمہ داری لینا سیکھتا ہے۔ یہ طریقہ وقتی خاموشی کے بجائے دیرپا بہتری لاتا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں سوشل ایموشنل لرننگ کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ سوشل میڈیا اور آن لائن مواد بچوں کے جذبات کو تیزی سے متاثر کرتا ہے۔ تنہائی، موازنہ اور خود اعتمادی کے مسائل عام ہو رہے ہیں۔ سوشل ایموشنل لرننگ بچوں کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی توازن قائم رکھیں۔ وہ خود کو دوسروں سے غیر ضروری موازنہ سے بچائیں اور اپنی قدر کو سمجھیں۔
دیہی اور شہری اسکولوں میں سوشل ایموشنل لرننگ یکساں طور پر ضروری ہے۔ حالات مختلف ہو سکتے ہیں مگر جذباتی ضروریات مشترک ہوتی ہیں۔ غربت، بے روزگاری یا خاندانی مسائل بچوں کے جذبات پر اثر ڈالتے ہیں۔ جب اسکول ان حالات کو سمجھ کر بچوں کے ساتھ برتاؤ کرتا ہے تو تعلیمی رکاوٹیں کم ہوتی ہیں۔ اساتذہ کی تربیت میں سوشل ایموشنل لرننگ کو شامل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ استاد خود اگر جذباتی فہم رکھتا ہو تو وہ بچوں کی بہتر رہنمائی کر سکتا ہے۔ خود آگہی، صبر اور ہمدردی ایسی صلاحیتیں ہیں جو تدریس کو مؤثر بناتی ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ سوشل ایموشنل لرننگ فوری نتائج کا وعدہ نہیں کرتی۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ اس کے اثرات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتے ہیں مگر یہ اثرات گہرے اور پائیدار ہوتے ہیں۔ بچے زندگی کے مختلف مراحل میں ان مہارتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
جدید تعلیم اسی وقت بامقصد بن سکتی ہے جب وہ ذہن کے ساتھ دل کی تربیت بھی کرے۔ سوشل ایموشنل لرننگ بچوں کو زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ یہ تعلیم کو انسان دوستی، توازن اور شعور سے جوڑتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک بہتر فرد اور ایک بہتر معاشرہ تشکیل دیتا ہے۔
(رابطہ۔8082403001)