راجوری //سمارٹ سر جھیل میںغرقآب ہونے والے نوجوان کی لاش نکال لی گئی ہے تاہم یہ واقعہ قدرتی موت کا نہیں بلکہ اس نوجوان نے مقامی لیڈران کی طرف سے سنائے گئے فیصلے کو ناانصافی قرار دے کر خودکشی کرلی ۔پولیس ذرائع کے مطابق ستائیس تاریخ کی شام کو ایک اپنے مویشیوں کے ہمراہ بدھل کے بالائی علاقے سمارٹ سر گئے ایک شخص نے دیکھاکہ فضل حسین ولد محمد عبداللہ ساکن ترگائیں بدھل نامی نوجوان جھیل میں کود گیاہے جس کی اطلاع اس نے فوری طور پر پولیس اور فوج کے مقامی کیمپ تک پہنچائی جس کے بعد ٹیمیں دوڑ کر موقعہ پر پہنچیں اور اس کی لاش کو جھیل میں پایاگیا۔اس نوجوان کی لاش اٹھائیس تاریخ کو پانی میں تیرتے ہوئے دیکھی گئی لیکن چونکہ پانی بہت زیادہ تھا اس لئے اس کو نکالنے میں دو دن لگ گئے اور بالآخر اسے اتوار کی شام کڑی محنت کے بعد باہر نکال لیاگیا۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ نوجوان کی لاش کو اس کے آبائی گاﺅں ترگائیں لایاجارہاہے ۔دریں اثناءپولیس ذرائع نے بتایاکہ نوجوان پچھلے کچھ دنوںسے زبردست دباﺅ میں تھا کیونکہ مقامی پنچایت نے اسے ایک معاملے میں کڑی سزا سنائی تھی ۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ پنچایت نے مبینہ طور پر یہ فیصلہ سنایاکہ وہ ایک خاتون کا پیشاب پئے گا۔ذرائع نے مزید بتایاکہ اس بات کا پتہ اسی نوجوان کی طرف سے ریکارڈ کی گئی ایک آڈیو کلپ سے چلتاہے جو اس نے اس واقعہ کے ایک روز قبل ریکارڈ کی تھی اور یہ آڈیو کلپ اب پولیس کے پاس پہنچ گئی ہے ۔اس ویڈیو کلپ میں فضل حسین کو یہ کہتے ہوئے سناجاسکتاہے کہ اس پر حال ہی میں ڈھنڈوٹ گاﺅں کی ایک لڑکی سے جنسی زیادتی کرنے کا الزام لگایاگیاہے جو کہ بالکل فرضی اور بے بنیاد ہے ۔اس نے اسی کلپ میں مزید کہاہے کہ اس الزام کے بعد اس کے خاندان اور لڑکی کے خاندان کے درمیان ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں علاقے کے معززین بھی موجو دتھے ۔اس کاکہناہے ”میں بے گناہ تھا لیکن میٹنگ میں فرضی الزامات عائد کرکے میرے اوپر دباﺅ بڑھانے کی کوششیں کی گئیں اور یہ فیصلہ سنایاگیاکہ مجھے سزا کے طور پر اس لڑکی کے خاندان کی کسی عورت کا پیشاب پیناپڑے گا جبکہ میں نے اس جرم کا کبھی ارتکاب کیاہی نہیں جس کی سزا دی گئی ہے “۔اس نے مزید کہاہے ”میں ایک سچا مسلمان ہوں اور اپنے اوپر لگے جنسی زیادتی کے فرضی الزامات کو کبھی برداشت نہیں کرسکتا اور نہ ہی پیشاب پی سکتاہوں جو الہٰی قوانین کے منافی ہے “۔آڈیو کلپ میں وہ مزید کہتاہے ”میرے اوپر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں ،میں پیشاب نہیں پی سکتااور اسی لئے میں اپنی زندگی کا اس طرح سے خاتمہ کررہاہوں کہ کسی کو بھی میری لاش نہیںملے گی اور نہ ہی میرا نماز جنازہ پڑھایاجائے گا“۔اسی صوتی ریکارڈ میں اس نے پولیس اور عدالتی نظام پر کڑی تنقید کی جبکہ وہ مقامی پنچایت اور مذہبی سکالروںکو بھی کوس رہاہے۔اسے یہ کہتے ہوئے سناجاسکتاہے ”عدلیہ کا معیار بھی بہت پست ہوگیاہے اور پولیس بھی پیسے کمانے میں لگی ہوئی ہے “۔یہ صوتی پیغام سماجی ویب سائٹس پر بھی گردش کررہاہے ۔اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ایس ایس پی راجوری یوگل منہاس نے کہاکہ ان کی پہلی کوشش لاش کی بازیابی تھی ۔تاہم انہوںنے بتایا”ہمارے پاس نوجوان کی آڈیو کلپ ہے اور اس معاملے میں تحقیقات شرو ع کردی گئی ہے“۔