اظہار خیال
گری راج سنگھ
جب ہم آتم نربھر بھارت کی بات کرتے ہیں تو ہم صرف پیداوار میں خود انحصاری کی بات نہیں کرتے بلکہ قدر کی عالمی چین میں قیادت کی بھی بات کرتے ہیں۔ اس موقع سے فٹ ویئر کی طرح بالکل واضح طور پر کچھ ہی شعبے استفادہ کرتے ہیں۔فٹ ویئر روزمرہ زندگی کی سب سے عام استعمال ہونے والی اشیاء میں سے ایک ہے،خواہ وہ اسکول جانے والا طالب علم ہو، طویل اوقات تک کام کرنے والا مزدور، مسلسل حرکت میں رہنے والا ڈیلیوری کارکن ہویا اپنی جسمانی حدود کو چیلنج کرنے والا کھلاڑی ہو، یہ سب کی زندگی میں شامل ہے۔ بھارت دنیا کادوسرا سب سے بڑا فٹ ویئر تیار کرنے والا ملک ہے،اس کے باوجود فٹ ویئر کی برآمدات میں اس کی حصہ داری بہت ہی معمولی ہے۔
یہ فرق صلاحیت کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ مواد کے ڈیزائن اور کارکردگی کی جانب منتقلی کی ضرورت کے باعث ہے۔ اس تبدیلی کے مرکز میں ایک ایسا شعبہ موجود ہے جس پر اکثر توجہ نہیں دی جاتی—جو تکنیکی ٹیکسٹائل ہے۔مجھے اس کی بہتر سمجھ حال ہی میں آگرہ کے دورے کے دوران ہوئی۔ آگرہ اپنی فٹ ویئر صنعت کے لیے مشہور ہے۔ وہاں کے فٹ ویئر تیار کرنے والے مراکز کا جائزہ لیتے ہوئے اور صنعتکاروں سے بات چیت کے دوران، یہ واضح ہوا کہ اختراع کا عمل پہلے سے ہی جاری ہے۔کئی یونٹس ایسے مواد استعمال کر رہے تھے جو آرام، مضبوطی اور لچک کو بہتر بناتے ہیں۔ تاہم ان میں سے بہت سے لوگ ان مواد کو “تکنیکی ٹیکسٹائل” کے طور پر بیان نہیں کرتے، بلکہ انہیں صرف بہتر خام مال سمجھتے ہیں جو صارفین کی بدلتی ہوئی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔
یہ جانکاری بعد میں دہلی میں فٹ ویئر ایسوسی ایشن کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران مزید واضح ہوئی۔ صنعت کے شراکت داروں نے صارفین کی بدلتی ہوئی توقعات پر روشنی ڈالی— جوہلکے ہونے کے ساتھ سا تھ زیادہ ملائم ، زیادہ ہوادار اورمضبوط ہوں۔ یہ خصوصیات اب کوئی انتہائی اہم نہیں رہ گئیں بلکہ معیاری ضرورت بن گئی ہیں ۔اسی گفتگو کے دوران میرے محکمہ نے ایک اہم نکتہ اجاگر کیا کہ فٹ ویئر صنعت پہلے ہی بڑے پیمانے پر تکنیکی ٹیکسٹائل استعمال کر رہی ہے، خواہ اسے باقاعدہ طور پر تسلیم نہ بھی کیا جا رہا ہو۔
اس حقیقت نے پوری بحث کا رخ بدل دیا۔ عالمی سطح پر فٹ ویئر صنعت سالانہ تقریباً 23.9 بلین جوڑے فٹ ویئر تیار کرتی ہے اور اس کی مارکیٹ کا حجم تقریباً 500 بلین ڈالر ہے۔ بھارت کی فٹ ویئر کے معاملے میں عالمی پیداوار میں تقریباً 12.5 فیصد حصہ دا ری ہے لیکن برآمدات میں اس کا حصہ صرف 2 فیصد ہے، جو صلاحیت اور اسی عالمی پوزیشن کے درمیان واضح فرق کو ظاہر کرتا ہے۔اس کے ساتھ ہی عالمی فٹ ویئر کا تقریباً 86 فیصد حصہ نان لیدر (غیر چرمی) مصنوعات پر مشتمل ہے، جبکہ بھارت کی صنعت روایتی طور پر زیادہ تر چمڑے (لیدر) پر مرکوز رہی ہے۔
گھریلو سطح پر یہ منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔ بھارت کے فٹ ویئر بازارکاحجم 2025 میں تقریباً 20.67 بلین ڈالر تک پہنچ گیا، جو آمدنی میں اضافے اور صارفین کے بدلتے ہوئے رجحانات کا عکاس ہے۔ حالانکہ ایک عام بھارتی صارف اب بھی سالانہ اوسطاً تقریباً 2 جوڑے فٹ ویئر خریدتا ہے، جبکہ عالمی سطح پر یہ تعداد 7 سے 8 جوڑوں تک ہے۔ جیسے جیسے استطاعت بہتر ہو رہی ہے اور ترجیحات آرام اور کارکردگی کی طرف منتقل ہو رہی ہیں، گھریلو مارکیٹ میں نمایاں وسعت متوقع ہے۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں تکنیکی ٹیکسٹائل ترقی کے اگلے دور میں مرکزی حیثیت اختیار کررہے ہیں۔ ٹیکسٹائل کی وزارت اس تبدیلی کواسمارٹ، پائیدار اور بلارکاوٹ فریم ورک کے تحت آگے بڑھا رہی ہے۔اسمارٹ فٹ ویئر ٹیکنالوجی اور ڈیزائن کے بڑھتے ہوئے امتزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ ڈیجیٹل ٹولز، مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ماڈلنگ اور فٹ اسکیننگ بڑے پیمانے پر حسبِ ضرورت مصنوعات تیار کرنے کو ممکن بنا رہے ہیں۔ یہ رجحان صارفین کے وسیع تر رویوں سے بھی ہم آہنگ ہے۔ 2025 میں بھارت نے تقریباً 28.9 ملین اسمارٹ واچ کی فروخت سے 780 ملین ڈالر کی آمدنی حاصل کی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صارفین ایسی مصنوعات کو ترجیح دے رہے ہیں جو روزمرہ استعمال کے ساتھ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔اسی طرح فٹ ویئر کی اسنیکر مارکیٹ اس تبدیلی کی واضح مثال ہے، جس کے 2024 میں 3.2 بلین ڈالر سے بڑھ کر 2030 تک تقریباً 6 بلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ فروخت ہونے والے فٹ ویئر جوڑوں کا حجم 55 ملین سے بڑھ کر 70 ملین جوڑے فٹ ویئر تک جا سکتا ہے۔ صارفین واضح طور پر اب ایسے فٹ ویئر کی طرف منتقل ہورہے ہیں جو آرام اور اعلیٰ کارکردگی دونوں فراہم کرے—اور یہی وہ مقام ہے جہاں تکنیکی ٹیکسٹائل فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔
پائیداری بھی ایک اہم اور فیصلہ کن عنصر بنتی جا رہی ہے۔ ری- سائیکل شدہ پی ای ٹی اور بایوڈیگریڈیبل فائبرز جیسے مواد بتدریج عام پیداوار کا حصہ بن رہے ہیں۔ بھارت کے لیے یہ نہ صرف ماحولیاتی ضرورت ہے بلکہ ایک اسٹریٹجک موقع بھی ہے کہ وہ عالمی منڈیوں میں پائیدار مواد فراہم کرنے والے ملک کے طور پر اپنی شناخت قائم کرے۔اسی کے ساتھ ہی بلارکاوٹ مینوفیکچرنگ کی جانب پیش رفت بھی نہایت اہم ہے۔ 3 ڈی بنائی اور جدید فیبریکیشن جیسی ٹیکنالوجیز فضلہ کم کرنے، کارکردگی بہتر بنانے اور تیز رفتار پیداوار کو ممکن بنا رہی ہیں۔ اس سے صنعت کار بدلتی ہوئی مانگ کے مطابق فوری ردعمل دینے کے قابل ہو جاتے ہیں، جبکہ معیار اور یکسانیت کو بھی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
اس تبدیلی کو مزید مضبوط بنانے والی چیز بھارت کے موجودہ صنعتی نظام کا وسیع پیمانہ ہے۔ فٹ ویئر صنعت پہلے ہی 2 ملین سے زیادہ افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے، جن میں تقریباً 50 فیصد خواتین کی شراکت داری ہے، جس سے یہ شعبہ شمولیتی روزگار کا ایک بڑا ذریعہ بن جاتا ہے۔ سالانہ تقریباً 2.9 بلین جوڑےفٹ ویئر کی پیداوار کے ساتھ بھارت میں فی کارکن یومیہ پیداوار تقریباً 4 سے 5جوڑے فٹ ویئرہے، جبکہ عالمی سطح پر یہ شرح کہیں زیادہ ہے جہاں ایک کارکن روزانہ تقریباً 17سے 20جوڑے فٹ ویئر تیار کرتا ہے۔آگرہ، کانپور، چنئی،رانی پیٹ،امبوراورکولکاتہ جیسے قائم شدہ کلسٹرز محض پیداواری مراکز نہیں بلکہ وہ بنیاد ہیں جن پرفٹ ویئر کے معاملے میں بھارت کارکردگی، مسابقت اور عالمی قیادت کو مزید فروغ دے سکتا ہے۔
تکنیکی ٹیکسٹائل کی جانب یہ پیش رفت کسی نئی صنعت قائم کرنے کے بارے میں نہیں بلکہ موجودہ صنعت کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے بارے میں ہے۔آگرہ کے دورے اور دہلی میں ہونے والی بات چیت سے ایک آسان مگر دَمدار حقیقت سامنے آئی کہ فٹ ویئر میں تکنیکی ٹیکسٹائل کا تصورکوئی نیا نہیں ہے، بلکہ یہ پہلے ہی خاموشی سے صنعت کا حصہ بن کر مصنوعات اور پیداواری عمل کو تشکیل دے رہا ہے۔
آگے کا اہم کام اس انضمام کو تسلیم کرنا، منظم کرنا اور بڑے پیمانے پر فروغ دینا ہے۔ فٹ ویئر کے شعبے کو زیادہ واضح طور پر تکنیکی ٹیکسٹائل کے ماحولیاتی نظام میں شامل کرنے سے جدت کو فروغ مل سکتا ہے، برآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور معیاری روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھارت کی مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کو عالمی طلب کے رجحانات، خاص طور پر غیر چرمی اور اعلیٰ کارکردگی والے شعبوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
بھارت کے عالمی مینوفیکچرنگ کاقائد بننے کا سفر اس بات پر منحصر ہوگا کہ وہ ان مواقع سے کس حد تک استفادہ کرتا ہے جہاں روایتی صنعتیں جدید مواد اور عصری ڈیزائن سے ہم آہنگ ہوتی ہیں۔ فٹ ویئر ایسا ہی ایک اہم سنگم ہے، جبکہ تکنیکی ٹیکسٹائل وہ دھاگہ ہیں جو اس موقع کو ایک عالمی کامیابی کی کہانی کا تانہ بانہ بن سکتا ہے ۔
(مضمون نگار ٹیکسٹائل کے مرکزی وزیر ہیں، یہاں ظاہر کئے گئے خیالات ان کے ذاتی ہیں۔بشکریہ پی آئی بی)