محمد عرفات وانی
کسی بھی زبان کی بقا، ترویج اور شادابی ان مخلص اور انتھک مسافروں کی مرہونِ منت ہوتی ہے جو صلے کی تمنا اور ستائش کی پروا کیے بغیر عمر بھر علم و ادب کی وادیوں میں آبلہ پائی کرتے ہیں۔ ادب کی وسیع و عریض دنیا میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی پوری زندگی فن کی آبیاری اور زبان کی اشاعت کے لیے وقف ہوتی ہے۔ زیر نظر کتاب ’’اردو کا مسافر‘‘ سلطان اختر جسے اورنگ آباد کے سینئر صاحبِ طرز قلمکار اور صاحبِ نظر مرتب ش۔ شکیل نے نہایت عرق ریزی، محبت اور علمی سنجیدگی سے مرتب کیا ہے۔ اسی مخلصانہ سلسلے کی ایک زریں کڑی ہے۔
یہ کتاب محض ایک فرد کی داستان حیات یا روایتی سوانح نہیں ہے بلکہ سولاپور مہاراشٹر کے مایہ ناز فرزند، اردو کے سچے شیدائی اور بے لوث خادم سلطان اختر کی علمی، ادبی، صحافتی اور تنظیمی خدمات کا ایک ایسا رنگارنگ گلدستہ ہے جس کی فکری خوشبو قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ سلطان اختر نے اپنی تحریروں، جذبوں اور تنظیمی صلاحیتوں کے ذریعے اردو ادب کے گیسوؤں کو جس سلیقے سے سنوارا ہے، وہ انہیں تاریخ ادب میں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہے۔مرتب ش۔ شکیل نے کتاب کی تدوین میں روایتی اور جدید اسلوب کا ایک ایسا حسین امتزاج پیش کیا ہے جو قاری کی دلچسپی کو اول تا آخر برقرار رکھتا ہے۔ کتاب کا آغاز جس جذباتی،پُرخلوص اور فکری گہرائی سے لبریز اظہار تشکر اور عرض مرتب سے ہوتا ہے۔ اُس سے جہاں ایک طرف مرتب کی سلطان اختر کی شخصیت کے تئیں والہانہ عقیدت اور محبت جھلکتی ہے وہی دوسری طرف ان کی ادبی پختگی اور معروضی نقطہ نظر کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔سلطان اختر نے اردو کی مسافرت کو ایک ایسے مشن میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں ادب صرف تفریح نہیں بلکہ سماجی شعور کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ کتاب کا انتساب دیار مغرب میں اردو کے معروف سفیر اور مخلص ادیب ڈاکٹر عبدالقادر فاروقی کے نام کیا گیا ہے جو اس کتاب کی آفاقیت، علمی وسعت اور بین الاقوامی ادبی روابط پر دال ہے۔ ابتدائی صفحات کو معتبر اور دلکش بنانے کے لیے اس میں اردو دنیا کے جید اہل قلم اور ممتاز شعرا جیسے شکیل ابن شرف، ارشد صدیقی اور رئیس احمد قتیل کی تہنیتی نظمیں اور خوبصورت قطعات شامل کیے گئے ہیں۔ یہ منظوم خراج عقیدت سلطان اختر کی سحر انگیز شخصیت، ان کے اخلاص اور ان کے بلند ادبی قد و قامت کو اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ قاری کے ذہن پر ان کی شخصیت کا ایک ادبی قلندر اور درویش صفت انسان کا خاکہ اُبھرتا ہے۔کتاب کا مرکزی اور سب سے زیادہ وزنی حصہ حرف ستائش اور حرف پیکر کے عنوانات پر مشتمل ہے۔جس میں اردو دنیا کے مقتدر ادیبوں، معتبر نقادوں اور نامور تخلیق کاروں نے سلطان اختر کی شخصیت، ان کی افسانہ نگاری، خطوط نگاری اور بحیثیت مرتب ان کے فن کے مختلف پوشیدہ گوشوں پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔
کتاب میں شامل مقالات اور مضامین میں نورالحسنین، غلام ثاقب، رفیق جعفر، ایم مبین، ڈاکٹر ابراہیم افسر اور ڈاکٹر شبیر اقبال جیسے مشاہیر ادب کے نام نمایاں ہیں ،جنہوں نے سلطان اختر کے فکری پس منظر، فکشن پر اُن کی گرفت، اسلوب کی سادگی، سچائی اور اُن کی تحریروں کے تکنیکی و جمالیاتی پہلوؤں کا گہرا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ ان جید قلمکاروں کے مضامین نے اس کتاب کو ایک عام تاثراتی مجموعے سے بلند کر کے ایک مستند دستاویزی حیثیت عطا کر دی ہے جن میں سلطان اختر کے افسانچوں کے منفرد پیرہن، سماجی معنویت، خطوط نگاری کے دلکش و شگفتہ انداز اور ان کی متحرک شخصیت کے ان پہلوؤں کو بڑی خوبصورتی سے اُجاگر کیا گیا ہے، خاص طور پر شمس الضحٰی اسرائیل اور فیروز احمد انصاری کے مضامین سلطان اختر کی ہمہ جہت شخصیت کے علمی و ادبی سفر کو دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مصداق سمیٹتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
سلطان اختر کی ادبی قد و قامت کو سمجھنے کے لیے ان کے سوانحی پس منظر اور اب تک کے سفر پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ وہ یکم جون 1980ء کو سولاپور مہاراشٹر کی زرخیز دھرتی پر پیدا ہوئے۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور ایم اے اردو اور بی ایڈ جیسی تعلیمی ڈگریوں سے سرفراز ہوئے۔ پیشہ ورانہ طور پر وہ تدریس اور صحافت کے پیشوں سے وابستہ ہیں جہاں وہ نئی نسل کی فکری و لسانی آبیاری کر رہے ہیں۔ وہ بھارتیہ اردو کاس فاؤنڈیشن سولاپور کے صدر کے طور پر بھی نہایت سرگرمی سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اُن کا ادبی سفر مقدار اور معیار دونوں اعتبار سے زرخیز اور قابل رشک ہے، اب تک درجن بھر سے زائد اہم کتب مرتب کی ہیں جو اردو ادب کے مختلف اصناف اور موضوعات پر محیط ہیں۔ اہم ترین مرتب کردہ افسانوں کا مجموعہ، آٹھ آنے کی مٹھاس، دیار غیر میں اردو کے فروغ پر تحقیقی دستاویز ،امریکہ میں اردو کے علمبردار۔ ڈاکٹرعبدالقادرفاروقی، سکندر فہمی، بچوں اور نوجوانوں کے لیے معلوماتی و تاریخی کتاب، مسلم سائنسدانوں کی سائنسی خدمات پر مضامین اور ادبی خدمات کے اعتراف پر مبنی مجموعہ نذیر بنام سلطان اختر نمایاں ہیں۔ ان کے علاوہ ان کی ادبی کائنات میں نقش وفا، پلکوں پر خواب ڈاکٹر جاوید حسین پالوجی،ڈاکٹر عبدالقادر فاروقی حیات و جہات، سرگوشیاں جیسے گراں قدر عنوانات شامل ہیں۔سلطان اختر کی ہمہ جہت ادبی، لسانی اور صحافتی خدمات کا اعتراف نہ صرف عوامی سطح پر کیا گیا بلکہ ملک کی معتبر اکادمیوں اور تنظیموں نے انہیں باوقار اعزازات سے نوازا جن میں مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی کا خصوصی ایوارڈ (2025ء) وارث اردو صحافت ایوارڈ (2023ء)اردو دوست ایوارڈ (بیڑ) صوفی محمد الیاس چشتی عزیزی ایوارڈ (مالیگاؤں) آئیڈیل ٹیچر ایوارڈ اور نشان امتیاز اردو ایوارڈ نمایاں ہیں۔ ان کا ادبی پروفائل خاص طور پر 2011ء میں ‘ڈاکٹر عبدالقادر فاروقی فاؤنڈیشن کے قیام سے لے کر 2025ء تک مسلسل اور انتھک حد تک متحرک نظر آتا ہے اور اس عرصہ میں انہوں نے سینکڑوں قومی و بین الاقوامی سیمینارز، یادگار مشاعروں، کتابوں کی رسمِ رونمائی اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق آن لائن ادبی کانفرنسوں کا کامیاب انعقاد کیا۔ انہوں نے نہ صرف اردو بلکہ مراٹھی صحافت میں بھی اپنی سیکولر اور انسانیت نواز سوچ کے باعث ایک منفرد پہچان بنائی جبکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (AMU)اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (MANUU) جیسے ملک کے موقر تعلیمی اداروں کی علمی و تحقیقی سرگرمیوں میں ان کی شرکت ان کے وسیع علمی حلقے اور چہار سو قبولیت کی واضح غماز ہے۔
اس کتاب کا ایک انتہائی دلکش اور تاریخی طور پر اہم حصہ مکتوب نگاری (خطوط نگاری) سے متعلق ہے۔ مرتب نے کتاب میں تنوع کا خاص خیال رکھتے ہوئے جہاں مشاہیر کے مضامین شامل کیے، وہیں حرف شوق کے تحت سلطان اختر کے شاہکار افسانچے روش کا گہرا اسلوبیاتی اور تجزیاتی مطالعہ بھی پیش کیا۔ کتاب کے آخری حصے میں سلطان اختر کے نام لکھے گئے اور ان کی طرف سے ارسال کردہ نادر خطوط بنام ارشد صدیقی اور نذیر فتح پوری شامل کیے گئے ہیں۔ ش۔ شکیل اور شمس الضحٰی اسرائیل کے مطابق، ان خطوط کی اشاعت اردو میں دم توڑتی ہوئی مکتوب نگاری کی روایت کو زندہ کرنے کی ایک کامیاب اور جاندار کوشش ہے۔ ان مکاتیب میں اردو دنیا کے مقتدر مشاہیر کے نام شامل ہیں جن میں سلیم انصاری، قمر جمالی، ملک بزمِی ،راشد جمال فاروقی، ڈاکٹر محی الدین زور کشمیری، ڈاکٹر عبید اللہ چوہدری، ڈاکٹر ترنم جہاں، مظفر حنفی، وقار شہسوار، ڈاکٹر شبیر اقبال اور یعقوب برکت اللہ شامل ہیں۔ یہ خطوط محض نجی گفتگو نہیں ہیں بلکہ ان میں اپنے دور کے ادبی، لسانی اور تنقیدی مسائل پر گہری بحث موجود ہے جو انہیں ایک تحقیقی دستاویز کا درجہ دیتی ہے۔کتاب میں سلطان اختر کی شخصیت کے ہر اُس پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے جو انہیں معاصرین میں ممتاز کرتا ہے جہاں تواب انصاری ایڈیٹر خاندیش جن سنگرام دھولیہ نے ان کی افسانچہ نگاری کا باریک بینی سے تجزیہ کرتے ہوئے انہیں نئی نسل کا ایک ناگزیر اور اہم نام بتایا ہے تو دوسری طرف ش۔ شکیل نے ان کی کہانیوں کے اسلوب، تراشے ہوئے کرداروں اور قاری کے دل و دماغ پر مرتب ہونے والے گہرے فکری اثرات کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ جناب عارف اقبال دہلی نے ان کے مضامین میں پوشیدہ تنقیدی شعور و شگفتگی کو سراہا اور ڈاکٹر ابرار احمد پاشاہ نے ان کی تحریروں کی مقصدیت اور گہرے سماجی شعور پر روشنی ڈالی ہے۔مزید برآں ش۔ شکیل نے اپنے ایک اور تفصیلی مضمون میں سلطان اختر کی اردو زبان سے جنون کی حد تک والہانہ محبت کو موضوع بنایا ہے جس کی تائید میں ڈاکٹر رفیع الدین ناصر اور ڈاکٹر عبید اللہ چودھری نے ان کی علمی بصیرت اور ارشد صدیقی کی مرتب کردہ کتب میں ان کی متحرک شمولیت کو ایک مثال قرار دیا ہے۔ فن ترتیب و تدوین کے حوالے سے ندیم مرزا ایڈیٹر جمال ندیم بیڑ اور رفیق قاضی پونہ نے ان کی صلاحیتوں کی ستائش کی ہے، جبکہ ڈاکٹر غضنفر اقبال نے ان کی خطوط نگاری کو آنے والے وقتوں کے لیے ایک اہم تحقیقی دستاویز قرار دیا ہے اور سینئر ادیب ڈاکٹر نذیر فتح پوری مدیر اسباق پونہ نے سلطان اختر کے اس ادبی سفر کو نئی روشنی کی علامت کہتے ہوئے اردو کے روشن مستقبل کی نوید سنائی ہے۔ ارشد صدیقی بیڑ کی رپورٹیں اور ڈاکٹر عبدالقادر فاروقی کے اعزاز میں منعقدہ تقاریب کی تفصیلی رودادیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ سلطان اختر بچوں کے ادب، فن افسانچہ اور تنظیمی صلاحیتوں کے ساتھ فروغ اردو کے لیے ہر محاذ پر عملی طور پر سرگرم عمل ہیں۔
اردو کے معتبر اشاعتی ادارے ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی سے شائع ہونے والی یہ 112 صفحات پر مشتمل کتاب، معیار اور مواد دونوں کے اعتبار سے ایک حقیقی شاہکار ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو’ اردو کا مسافر‘ سلطان اختر کی محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک عہد، ایک تحریک اور ایک مخلص ادیب کی زندگی کا آئینہ ہے۔ مرتب ش۔ شکیل اس بات کے لیے مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے سلطان اختر جیسی متحرک، کثیر الجہت اور درویش صفت شخصیت کی خدمات کو اتنے سلیقے اور جامعیت کے ساتھ کتابی شکل میں محفوظ کر دیا۔ یہ کتاب یہ پیغام دیتی ہے کہ جب تک سلطان اختر جیسے جفاکش، مخلص اور بے لوث مسافر اردو کی شاہراہ پر گامزن ہیں، اس زبان کا مستقبل نہ صرف محفوظ ہے بلکہ انتہائی درخشاں ہے۔ یہ تصنیف اردو ادب کے طلبہ، اساتذہ اور تحقیق کاروں کے لیے یکساں طور پر ایک قیمتی تحفہ اور ناگزیر مآخذ کی حیثیت رکھتی ہے جو آنے والی نسلوں کو زبان کی خدمت کا سلیقہ اور حوصلہ سکھاتی رہے گی۔
رابطہ۔9622881110
[email protected]
���������������