سری نگر// سری نگر کے بعض علاقوں میں دوسرے روز بھی کاروباری ادارے اور دکانیں بند رہنے سے بازار سنسان اور ویران دکھائی دے رہے تھے ۔ پائین شہر میں سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری کے بیچ اکثر بازار بند پڑے تھے ۔جمعہ کے روز پائین شہر کے اکثر علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی مزید نفری کو تعینات کردیا گیا تھا۔ شہر خاص کے نوہٹہ سے لے کر نوا کدل تک جگہ جگہ سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی ۔پائین شہر کے معروف بازار جن میں جامع مسجد ، مہاراج گنج، گوجوارہ، زینہ کدل شامل ہیں میں دکانیں بند رہنے سے بازار سنسانی دکھائی دے رہے تھے ۔ امکانی احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پائین شہر کے نوہٹہ ، گوجوارہ ، راجوری کدل ، بہوری کدل ، نالہ مار روڑ ، نوا کدل ، کاوڈارہ اور عید گاہ علاقوں میں چپے چپے پر نیم فوجی دستوں کے اہلکارتعینات کئے گئے تھے ۔ پائین شہر کی سبھی مساجد میں باجماعت نماز جمعہ ادا کی گئی لیکن تاریخی جامع مسجد سری نگر کے منبر و محراب ایک دفعہ پھر خاموش رہے ۔ جامع مسجد اور اس کے اردگرد علاقوں میں جمعے صبح سے ہی سیکورٹی فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔ پائین شہر کے سبھی علاقوں میں سیکورٹی کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا تھا لیکن لوگوں کے چلنے پھرنے پرکوئی پابندی عائد نہیں تھی۔ صورہ سے لے کر لالچوک تک چلنے والی مسافر بردار گاڑیاں اور درگا ہ شریف براست نوہٹہ سے لالچوک پہنچنے والی سومو گاڑیاں بھی معمول کے مطابق سڑکوں پر رواں دواں تھیں ۔ شہر کے دیگر حصوں بشمول تجارتی مرکز لالچوک کے بازاروں میں دکانیں کھلی تھیں جبکہ سڑکوں پرروز مرہ کی طرح ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل بھی جاری تھی۔ شہر کے سیول لائنز علاقوں میں صبح کے وقت بازار بند تھے تاہم بعد میں رفتہ رفتہ دکانیں کھلنے لگیں۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پائین شہر کے بعض علاقوں کو چھوڑ کر سری نگر کے باقی بازار جمعے کے روز کھلے تھے جبکہ شاہرائوں پر معمول کی طرح ہی چھوٹی بڑی گاڑیاں رواں دواں تھیں اور سبھی سرکاری دفاتر بھی کھلے تھے ۔انہوں نے کہا کہ پائین شہر میں دن بھر کسی بھی جگہ سے ناخوشگوار واقع رونما ہونے کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ۔علاوہ ازیں نماز جمعہ کے بعد پائین شہر کے اکثر علاقوں میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو بھی بحال کیا گیا جس وجہ سے طلبا اورتاجروں نے راحت کی سانس لی۔بتادیں کہ شہری ہلاکتوں کے واقعات رونما ہونے کے بعد شہر خاص میں صبح اور شام کے اوقات میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو منقطع کرنا معمول بن گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رام باغ سری نگر میں گزشتہ روز ہوئی مختصر جھڑپ میں ٹی آر ایف کمانڈر مہران کی ہلاکت کے بعد پائین شہر میں آنے والے دنوں کے دوران موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو پوری طرح سے بحال کرنے کا امکان ہے ۔ایک نیوزایجنسی کے مطابق رام باغ میں تین جنگجوئوں کوجاں بحق کئے جانے کے خلاف پائین شہر کے اکثر علاقوں میں جمعہ کودوسرے روزبھی دکانیں بندرہیں جبکہ شہر کے اکثر علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی معطل رہی۔ ہڑتال کااثرزیادہ ترگوجوارہ،خانیار،صفاکدل،نواکدل،راجوری کدل،اورمہاراج گنج میں نظرآیا۔پولیس نے بدھ کو رام باغ میں ٹی آرایف کے کمانڈرمہران شالہ،جوجمالٹہ کارہنے والاتھااورمنظور احمدمیراورعرفات احمد شیخ ساکنان پلوامہ کورام باغ میں ایک مختصرتصادم کے دوران جاں بحق کیاتھا۔پولیس کے مطابق میراورشیخ بھی دونوں ٹی آرایف سے وابستہ تھے۔