کسی بھی ملک کی کامیابی اور ترقی کا دارومدار اس ملک کے تعلیمی نظام پر منحصرہوتا ہے۔ تعلیمی نظام جتنا مظبوط ہو ،ترقی کی راہیں اتنی ہی روشن ہونگیں۔ جموں و کشمیر کے تعلیمی نظام میں بھی چند ایک خامیاں صاف طور پر نظر آرہی ہیں جن کی طرف فوری توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔جموں و کشمیر کے سرکاری اسکول، سرکاری اسکولوں کے اساتذہ اور سرکاری اسکولوں کی کارکردگی روز اول سے ہی ہر کس و نا کس کے نشانے پر رہی ہے۔ خطہ جموں و کشمیر کا ہر شخص یہی رونا رو رہا ہے کہ سرکاری اسکولوں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے ۔
لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ نہ ہی کوئی وجوہات تلاش کرنے کی اور نہ کوئی ان وجوہات کا سدباب کرنے کی زحمت گوارا کرتا ہے۔ ایک عوامی رائے بنی ہے کہ نجی اسکولوں کی کارکردگی سرکاری اسکولوں سے اچھی ہے۔ اس بات سے انکار نہیں ہے تاہم اس اچھی کارکردگی کا سہرا نجی اسکولوں سے زیادہ ان کوچنگ سینٹرز کو جاتا ہے جہاں سے یہ طلاب موٹی موٹی رقوم دے کر اپنا نصاب مکمل کر لیتے ہیں ۔اب اگر اس کے باوجود بھی نجی اسکولوں کا رزلٹ اچھاآتا ہے تو اس کے لیے بہت ساری چیزیں کارفرما ہیں۔ مثلاً ہر نجی اسکول میں ایک جماعت کے لیے ایک کمرہ مقرر ہے جب کہ سرکاری اسکولوں میں تین تین کمروں میں آٹھ جماعتوں کو پڑھانا پڑھ رہا ہے جب کہ ہر گاؤں میں تقریباً سٹیٹ لینڈ دستیاب ہے جس کو بروئے کار لا کر اسکولی عمارتوں کی کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے ۔نجی اسکولوں میں جو استاد کوئی مضمون پڑھانے کے لیے منتخب کیا جائے، وہ سال بھر وہی رہتا ہے اور سال کے آخر پر اس استاد سے اپنے مضمون کے بارے میں پوچھا جاتا ہے جبکہ سرکاری اسکولوں میں کبھی سیاسی مداخلت، کبھی ذاتی اثر رسوخ تو کبھی ڈیپارٹمنٹ کے نام پر اساتذہ کا تبادلہ عمل میں لایا جا رہا ہے جس وجہ سے سال کے اختتام پر مضمون کے بارے میں اساتذہ سے پوچھنا ممکن نہیں ہوتا ۔نجی اسکولوں کا نصاب سرکاری اسکولوں سے قدرے بہتر ہے ۔سرکاری اسکولوں کا نصاب تبدیل کرنے کی شروعات اگر چہ کی گئی ہے تاہم کافی سست رفتاری سے۔سرکاری اسکولوں کو وقت پر کتابیں نہیں مل پاتی ہیں جس سے تعلیمی سال عملی طور پر قدرے دیر سے شروع ہوتا ہے۔ خوش آئند بات ہے کہ سرکاری اسکولوں میں حال ہی میں کمپیوٹر متعارف کرائے گئے لیکن بہت سارے اسکول ایسے ہیں جہاں یہ کمپیوٹر رکھنے تک کی جگہ نہیں ہے ۔
لیکن ان سب مشکلات کے باوجود سرکاری اسکول پچھلے کئی برسوں سے اچھی خاصی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور سرکاری اساتذہ ناامید نہیں ہیں بلکہ وہ کم سے کم وسائل میں بھی اچھی کار کا مظاہرہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں لیکن عام لوگوں کی رائے جو سرکاری اسکولوں کے حوالے سے قائم ہوئی ہے، اُسے تبدیل نہ کیا جانا چاہیے۔ عوام کے ایک بہت بڑے طبقے کی یہ شکایت ہے کہ سرکاری اساتذہ اپنے بچوں کا داخلہ سرکاری اسکولوں میں کیوں نہیں کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ بہت سارے سرکاری اسکولوں کے اساتذہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں پڑھا رہے ہیں۔ اب اگر عوامی رائے یہ ہے کہ سبھی سرکاری اساتذہ کو اپنے بچوں کا داخلہ سرکاری اسکولوں میں کرانا چاہیے تو پھر صرف سرکاری استاد ہی کیوں؟ اس ضمن میں سرکار کو چاہیے کہ باضابطہ ایک حکمنامہ جاری ہو جس میں ہر سرکاری ملازم کے لیے یہ لازمی ہو کہ وہ اپنے بچوں کا داخلہ سرکاری اسکولوں میں کرائیں چاہیے کوئی کسی بھی عہدے پر فائز ہو کیوں کہ سرکاری اسکولوں میں جب بڑے بڑے عہدے داروں کے بچے داخل ہونگے تو تبدیلی خود بخود آ جائے گی ۔جب ایک کے اے ایس، ڈاکٹر، ایک انجینئر، ایک زونل ایجوکیشن آفیسر اور چیف ایجوکیشن آفیسر کے بچے بھی سرکاری اسکولوں کا حصہ بنیں گے تو ان تمام عہدیداروں کو سرکاری اسکولوں کی فکر ہو گی اور ان اسکولوں کی باز پرس ہو گی۔ سرکاری اسکولوں میں یوں تو صرف غریب والدین کے بچے ہوتے ہیں ،جس بچے کو کہیں پر داخلہ نہ ملے وہ سرکاری اسکول کا حصہ بن جاتا ہے۔ نجی اسکولوں میں چْن چْن کر ذہین طلباء کا داخلہ کیا جاتا ہے جب کہ سرکاری اسکولوں میں کانٹھ چھانٹھ کا کوئی قانون نہیں ہے۔
یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ سینکڑوں سرکاری اسکول ایسے ہونگے جنہوں نے تین تین بلکہ چار چار برسوں سے کسی آفیسر کا چہرہ نہیں دیکھا ہو گا بلکہ صرف یہ کہا جاتا ہے کہ سرکاری اسکولوں کی کارکردگی اچھی نہیں ہے۔ آخر ایسا کیوں؟ چند اساتذہ کی وجہ سے سارے سرکاری استاد بدنام کیوں کئے جا رہے ہیں کہ وہ کام نہیں کرتے ہیں اور اگر نہیں کرتے ہیں تو ہمارے ذی عزت آفیسر حضرات کے کام پر بھی بھی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے کیونکہ سرکاری اسکولوں اور اساتذہ کی دیکھ ریکھ کے لیے باضابطہ ایک محکمہ کام کر رہا ہے ۔کئی بار سرکار نے من بنا لیا کہ غیر تسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ کے خلاف کروائی کی جائے گی ۔اس ضمن میں باضابطہ حکمنامے بھی جاری کر دیئے گئے ۔پھر ان حکمناموں کو عملی جامہ پہنایا گیا یا نہیں ،اس سوال کا جواب مذکورہ آفیسر حضرات بہتر انداز میں دے سکتے ہیں ۔سرکاری اسکولوں کی کارکردگی تسلی بخش بنانے کے لیے پی ٹی ایز اور ایم ٹی ایز بھی قائم کی گئی ہیں۔ کیا واقعی ان کمیٹیوں کی خدمات لی جا رہی ہیں،یہ دیکھنے کے لیے کتنی بار سال میں ہمارے آفیسر حضرات ان کمیٹیوں کے ساتھ گفت و شنید کرتے ہیں ،یہ ایک ایسا سوال ہے جو جواب طلب ہے۔
حالیہ دنوں میں سرکار کی طرف سے داخلہ مہم کا آغاز کیا گیا جس میں سرکاری اساتذہ اور بڑے بڑے آفیسرز نے گھر گھر جا کر والدین کو سمجھایا اور اس طرح سے ایک لاکھ سے زیادہ بچوں کا داخلہ سرکاری اسکولوں میں کیا گیا جو ایک خوش آئند اور قابل ستائش عمل ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ سرکاری اسکولوں میں ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ ہونے کے ساتھ ساتھ مفت وردی، مفت کتابیں، مفت دوپہر کا کھانا، مختلف وظیفے یہاں تک کہ مفت سکول بیگز بھی تقسیم کیے جاتے ہیں ،لیکن اس کے باوجود بھی سرکاری اساتذہ کو داخلہ کرانے کے لئے گھر گھر جانا پڑتا ہے اور والدین موٹی موٹی رقمیں دے کر اپنے بچوں کا داخلہ نجی اسکولوں میں کراتے ہیں ۔سرکاری اسکولوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ ہونے کے باوجود والدین ایسا کیوں کرتے ہیں؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سرکاری اسکولوں کے حوالے سے غلط فہمی ہے کہ سرکاری اساتذہ محنت اور لگن سے کام نہیں کرتے ہیں ۔میری ذاتی رائے ہے کہ سرکار کے مندرجہ ذیل اقدامات سے سرکاری اسکولوں کی شبیہ پھر ایک بار پٹری پر آ سکتی ہے اور اور وہ دن دور نہیں جب والدین اپنے بچوں کا داخلہ کرانے کے لئے سرکاری اسکولوں کا رخ کریں گے؛
1 سرکاری اسکولوں میں جو عمارتوں کی کمی ہے اسے دور کیا جانا چاہیے تاکہ ہر جماعت کے لیے ایک الگ کمرہ ہو۔ اس کام کے لیے سٹیٹ لینڈ کا استعمال کیا جانا چاہیے۔
2 کسی بھی استاد کاسال کے بیچ میں تبادلہ نہیں کیا جانا چاہیے تاکہ سال کے آخر پر مذکورہ استاد سے نتائج کے بارے میں پوچھا جاسکے۔
3 صرف اساتذہ کو نہیں بلکہ تمام سرکاری ملازمین کے لئے یہ لازمی امر ہو کہ وہ اپنے بچوں کا داخلہ سرکاری اسکولوں میں کرائیں ۔اس ضمن میں باضابطہ حکم نامہ جاری کر دیا جانا چاہیے۔ اس طرح سے سرکاری اسکول توجہ کا مرکز بنیں گے۔
4 سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کو جواب دہ بنایا جانا چاہئے اور غیر تسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جانی چاہیے ۔اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ کو حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
5 محکمہ کے آفیسرز کبھی کبھی خود جا کر پی ٹی ایز اور ایم ٹی ایز کا حصہ بنیں تاکہ یہ کمیٹیاں محض کاغذات تک محدود نہ ہوں۔ آفیسر حضرات اسکولوں میں جا کر صرف اساتذہ کی حاضری ہی چک نہ کریں بلکہ کوالٹی ایجوکیشن کو بھی ملحوظ نظر رکھیں۔
6 سرکاری اسکولوں میں نصاب کو کہیں کہیں پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اوراس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیاجانا چاہئے۔
7 سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کو مہینے میں کئی کئی بار اپنے منسلک دفتروں کو مختلف قسم کے statements بھیجنے پڑ رہے ہیں جبکہ ان معلومات کو ایک ہی بار جمع کر کے متعلقہ دفتروں میں محفوظ کیا جانا چاہیے تاکہ اساتذہ اور طلباء کا وقت بچ سکے۔
والدین حضرات سے گزارش ہے کہ جس طرح سے وہ نجی اسکولوں میں جا کر اپنے بچوں کے بارے میں معلوم کرتے ہیں، اسی طرح سرکاری اسکولوں کی طرف رخ کریں اور سرکاری اسکولوں کے حوالے سے اپنی رائے تبدیل کریں اور مثبت سوچیں ،ایک بار سرکاری اساتذہ پر بھروسہ کریں اور سبھی اساتذہ کو ایک ہی ترازو میں نہ تولیں ۔کہیں کہیں پر خامیاں ضرورہیں لیکن عوام، سرکار اور اساتذہ کے تعاون سے ان کمیوں اور خامیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔
ان چند باتوں کی طرف اگر دھیان دیا جاتا ہے تو سرکاری اسکولوں کو آسمان چھونے سے کوئی نہیں روک سکتا کیونکہ سرکاری اسکولوں میں قابل، ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت موجود ہے۔
رابطہ۔اویل نورآباد
فون نمبر۔7006738436