منظور الٰہی ،ترال
حالہ دنوں میں جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں اُس وقت ایک نہایت اہم اور چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا جب وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے ایوان کو آگاہ کیا کہ خطے کے 3,192 سرکاری اسکول ایسے ہیں جہاں طلبہ کی تعداد یا تو 10 سے بھی کم ہے یا بالکل صفر ہے۔ یہ انکشاف نہ صرف تعلیمی نظام کی موجودہ حالت پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے بلکہ پالیسی سازی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے بھی ایک بڑی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ معلومات بی جے پی کے رکن اسمبلی رنبیر سنگھ پٹھانیا کے سوال کے جواب میں پیش کی گئیں تھی ، اتنی بڑی تعداد میں غیر فعال یا کم طلبہ والے اسکول اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں منصوبہ بندی، آبادی کے بدلتے رجحانات، اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں واضح خلا موجود ہے۔ یہ صورتحال حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے
رپورٹ کے مطابق صوبہ جموں میں ایسے اسکولوں کی تعداد 1,400 سے زائد ہے جہاں طلبہ کی تعداد 10 سے کم یا صفر ہے۔جبکہ صوبہ کشمیر میں اس طرح کے اسکولوں کی تعداد 1,600 سے زائد بتائی گئی ہے۔اس طرح مجموعی طور پر 3,192 سرکاری اسکول ایسے سامنے آئے ہیں جو انتہائی کم حاضری یا مکمل طور پر خالی ہیں۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف تعلیمی نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ کئی علاقوں میں سرکاری اسکول اپنی افادیت کھو رہے ہیں۔ یہ صورتحال محض اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے تعلیمی نظام کی گہری خامیاں کارفرما ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں معیارِ تعلیم، نگرانی کے فقدان اور بنیادی سہولیات کی کمی نے اس نظام کو کمزور کر دیا ہے حکومت اور محکمہ ایجوکیشن کی جانب سے سال 2014 میں بڑے پیمانے پر اسکولوں کو اپگریڈ کرنے کا عمل شروع کیا گیا تھا۔ پرائمری اسکولوں کو مڈل اور مڈل کو ہائی اسکول کا درجہ دیا گیا ہے ۔ سرکاری فائلوں میں یہ ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا تھا، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان اپگریڈیشنز سے زیادہ کچھ نہیں بدلا—صرف سائن بورڈ تبدیل ہوئے ہیں، جبکہ نہ تو انفراسٹرکچر میں خاطر خواہ بہتری آئی، نہ ہی تدریسی معیار میں کوئی نمایاں فرق نظر آیا یہی وجہ ہے کہ آج بھی کئی ’’ہائی اسکول‘‘ دراصل بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جہاں نہ لیبارٹری ہے، نہ لائبریری، اور نہ ہی مکمل تدریسی عملہ ہے ۔ ایسے ادارے صرف کاغذوں میں ترقی یافتہ ہیں، حقیقت میں نہیں ایک اور اہم پہلو اساتذہ کی کارکردگی اور جواب دہی کا ہے۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ کچھ جگہوں پر بعض اساتذہ اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہے ہیں، لیکن کئی مقامات پر نگرانی کا نظام کمزور نظر آتا ہے۔ حاضری، تدریسی معیار اور طلبہ کی کارکردگی پر وہ توجہ نہیں دی جاتی جو ایک مؤثر تعلیمی نظام کے لیے ضروری ہے۔ نتیجتاً، طلبہ اور والدین کا اعتماد بھی متاثر ہوتا جا رہا ہے۔ اس سداباب کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ سب سے بڑا اور تلخ سوال یہ ہے کہ کیا خود سرکاری نظام کو اپنے اوپر اعتماد ہے؟ اگر ہم زمینی حقیقت کا جائزہ لیں تو جواب واضح طور پر ’’نہیں‘‘ میں نظر آتا ہے۔ سرکاری اسکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ، جو اس نظام کا بنیادی ستون سمجھے جاتے ہیں، ان کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کو نجی اسکولوں میں داخل کرواتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ دیگر سرکاری ملازمین بھی یہی طرز عمل اختیار کرتے ہیں۔ یہ رویہ ایک انتہائی اہم پیغام دیتا ہے۔ جب ایک استاد خود اپنے پڑھائے ہوئے اسکول پر اعتماد نہیں کرتا، تو ایک عام شہری کیسے کرے؟ یہ سوال صرف ایک تنقید نہیں بلکہ پورے تعلیمی ڈھانچے کے لیے ایک آئینہ ہے۔ اگر اساتذہ کو خود یقین نہیں کہ سرکاری اسکول معیاری تعلیم فراہم کر سکتے ہیں، تو پھر اس نظام میں بنیادی مسئلہ کہاں ہے،اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ایک اور بڑا مسلا یہ ہے کہ دیہی علاقوں کے سرکاری اسکولوں کی صورتِحال ایک نہایت اہم اور سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ بظاہر ان اسکولوں میں طلبہ کا اندراج (رول) تسلی بخش دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں اساتذہ کی شدید کمی تعلیمی معیار کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ خاص طور پر ہائی اسکولوں میں صورتحال زیادہ تشویشناک ہے، جہاں مڈل اسکول کے محدود عملے پر ہی پورے ادارے کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے، جبکہ طلبہ کی تعداد کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اس عدم توازن کے باعث نہ صرف تدریسی عمل متاثر ہوتا ہے بلکہ طلبہ کا مستقبل بھی داؤ پر لگ جاتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ایک اور سنگین مسئلہ ’’سفارش کلچر‘‘ (Favoritism) کا ہے، جو دیہی تعلیمی نظام کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ کسی استاد کو دور دراز یا زیرو لیول اسکول میں تعینات کیا جاتا ہے، مگر بعد میں وہ بااثر سفارش کے ذریعے—اکثر ڈائریکٹر لیول تک رسائی استعمال کرتے ہوئےاپنی تعیناتی تبدیل کرا لیتا ہے۔ نتیجتاً وہ اساتذہ میدانی علاقوں یا اپنے گھروں کے قریب اسکولوں میں تعینات ہو جاتے ہیں، جبکہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے اسکول مزید خالی اور نظر انداز ہو جاتے ہیں، یہ طرزِ عمل نہ صرف تعلیمی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ دیہی طلبہ کے ساتھ کھلی ناانصافی بھی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اساتذہ کی تعیناتی اور تبادلوں کے نظام کو شفاف اور میرٹ پر مبنی بنایا جائے، تاکہ ہر علاقے کے طلبہ کو یکساں تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو دیہی تعلیمی نظام مزید زوال کا شکار ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پوری قوم کو بھگتنا پڑیں گے۔ اس سارے تناظر میں اگر ہم ان مسائل کا مؤثر حل تلاش کریں تو سب سے پہلے ضروری ہے کہ حکومت محض کاغذی اقدامات سے آگے بڑھ کر زمینی سطح پر حقیقی اصلاحات کو یقینی بنائے۔ تعلیمی اداروں کی اپگریڈیشن صرف نام کی تبدیلی تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے ساتھ بنیادی ڈھانچے، تدریسی وسائل اور جدید سہولیات کی فراہمی کو لازمی بنایا جائے۔ ہر اسکول میں معیاری کلاس رومز، لیبارٹریز، لائبریری اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہونا چاہیے تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول میسر آ سکے ،اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تربیت اور احتساب کے نظام کو بھی مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ ایک مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے جہاں اساتذہ کی حاضری، کارکردگی اور طلبہ کے نتائج کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ اساتذہ کو جدید تدریسی طریقوں سے روشناس کروانے کے لیے وقتاً فوقتاً تربیتی پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ وہ بدلتے تعلیمی تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں کے حوالے سے ایک نہایت اہم اور عملی قدم یہ ہو سکتا ہے کہ جہاں اساتذہ کی شدید کمی ہے، وہاں اُن تقریباً 2500 اساتذہ کو تعینات کیا جائے جو اس وقت اُن اسکولوں سے تنخواہیں لے رہے ہیں ،جہاں طلبہ کی تعداد دس سے بھی کم ہے یا اسکول عملاً غیر فعال ہیں۔ ایسے اساتذہ کو دیہی اور پسماندہ علاقوں کے فعال مگر عملے سے محروم اسکولوں میں منتقل کیا جائے تاکہ وہاں تدریسی عمل کو مضبوط بنایا جا سکے اور طلبہ کو معیاری تعلیم میسر آ سکے۔ اس اقدام سے نہ صرف وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہوگا بلکہ دیہی اسکولوں کی مجموعی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ والدین اور مقامی برادری کو بھی اس نظام کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ جب تک عوام کا اعتماد بحال نہیں ہوگا، سرکاری اسکولوں کی حالت میں بہتری ممکن نہیں۔ اس کے لیے شفافیت، جوابدہی اور مسلسل بہتری کے عمل کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ لوگوں کو یہ احساس ہو کہ سرکاری اسکول واقعی معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر، حکومت کو یہ سنجیدہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ واقعی سرکاری تعلیمی نظام کو مضبوط بنانا چاہتی ہے یا نہیں۔ اگر جواب’’ہاں‘‘ میں ہے تو پھر عملی اقدامات، مستقل مزاجی اور مضبوط پالیسیوں کے ذریعے اس نظام کو دوبارہ عوام کے اعتماد کے قابل بنانا ہوگا۔ کیونکہ ایک مضبوط تعلیمی نظام ہی کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتا ہے اور اگر یہی بنیاد کمزور ہو جائے تو ترقی کا خواب ادھورا ہی رہ جاتا ہے۔