سرنکوٹ//پہاڑی اور گوجری زبانوں کو نصاب میں شامل نہ کرنے پر خطہ پیر پنچال کے لوگوں میں حکومت کے تئیں سخت غم و غصہ پایاجارہاہے ۔اس سلسلہ میں سرنکوٹ کے پہاڑی اور گوجر نوجوانوں نے ایک مشترکہ اجلاس منعقد کیا جس کی صدارت شوکت پروانہ نے کی ۔اس موقعہ پر پرواز نے کہا کہ حکومت کی طرف سے کشمیری ، ڈوگری اور بودھی زبانوں کو تو نصاب میں شامل کیاگیاہے لیکن پہاڑی اور گوجری زبانوں کو نظرانداز کردیاگیاہے ۔انہوںنے کہاکہ وہ دیگر زبانوں کے خلاف نہیں لیکن چاہتے ہیں کہ ان کی زبانوں کے ساتھ بھی انصاف ہو ۔شوکت پروانہ نے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پہاڑی اور گوجر مل کر اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں۔اجلاس میں موجود پہاڑی اور گوجر نوجوانوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوے کہا کہ انہیں جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا ہے لیکن وہ اس ناانصافی کے خلاف خاموش نہیں بیٹھیںگے ۔انہوں نے کہا کہ خطہ پیر پنچال کے پہاڑی اور گوجر لیڈروں کی خاموشی بھی سمجھ سے باہر ہے۔انہوں نے گوجر بکروال ایمپلائز ایسو سی ایشن،گوجر بکروال یوتھ کانفرنس،پہاڑی یوتھ فورم سمیت تمام ان تنظیموں کا خیر مقدم کیا جنہوں نے اس معاملہ کو اٹھایا۔