سرنکوٹ//بار ایسوسی ایشن سرنکوٹ کا ایک اجلاس منعقد ہواجس کی صدارت بار صدر ایڈووکیٹ یاسر جنجوعہ نے کی ۔ اس مو قعہ پر بار سرنکوٹ کے تمام وکلا اور یوتھ سرنکوٹ نے بھی حصہ لیا۔ مقررین نے کہا کہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں اگر شراب پر پابندی عائد ہوسکتی ہے اور مینڈھر میں جب ایسا ہوسکتاہے تو پھر سرنکوٹ میں اس پر پابندی عائد کیوں نہیں کی جارہی ۔انہوںنے کہاکہ سرنکوٹ کے نوجوان منشیات اور شراب کے چنگل میں پھنس چکے ہیں اور ان کی زندگیاں تباہ ہورہی ہیں ۔انہوںنے کہاکہ ایک تو یہ دین کے خلاف کام ہے اور پھر اس سے تباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔وکلا ء نے سپریم کورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قومی شاہراہ پر شراب کی خریدوفروخت پر پابندی عائد ہیت لیکن یہاں غیر قانونی طریقوں سے شراب فروخت کی جارہی ہے۔انہوںنے کہا کہ ڈرگس سپلائر کو پکڑا جائے اور ان کے خلاف سختی سے کارروائی کی جائے ۔انہوںنے کہاکہ اگر سرنکوٹ میںشراب بندی نہ ہوئی تو وہ انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیاجائے گا۔انہوںنے کہاکہ ماہ صیام کو دیکھتے ہوئے شراب پر پابندی لگنی چاہئے ۔انہوںنے کہاکہ اس سلسلے میں سما ج کے تمام طبقوں اور علماء کوبھی تعاون دیناچاہئے اور ایک مہم چلانی چاہئے ۔اجلاس میںماجد خان ،ممتاز حسین شاہ ،نقی علی رضوی، ماہر علی شاہ ،افتخار حسین شاہ سرنکوٹ یوتھ ونگ کے سید افتخار ہمدانی بھی موجو دتھے ۔