سرینگر // وادی کشمیرکے جنگلات میں آگ کی پر اسرار وارداتوں کا سلسلہ متواتر طور جاری ہے ۔آگ کی وارداتوں کے نتیجے میں سر سبز و شاداب درختوں کی کثیر تعداد خاکستر ہوجاتی ہے اور بسا اوقات جنگلات میں جان بوجھ کر آگ لگائی جاتی ہے تاکہ درختوں کی غیر قانونی طور پر کی گئی کٹائی کے نشانات کو مٹایا جاسکے۔ماحولیات کے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ گرمیوں میں جب درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے اور خشک سالی جیسے حالات ہوتے ہیں تو ایک چھوٹی سی چنگاری سے آگ لگ سکتی ہے۔کبھی کبھار آگ قدرتی طور پر سورج کی تپش یا پھر بجلی گرنے سے بھی لگ جاتی ہے۔وادی کے جنگلات کا کس قدر ستیا ناس کیا جارہا ہے اور کس قدر آنے والی نسل کو ماحولیات کے زہر آلود ہونے کے رحم و کرم پر چھوڑا جارہا ہے، اسکا اندازہ لگانے کیلئے اتنا کافی ہے کہ گذشتہ دس برسوں کے دوران جنگلات میں آگ کے 4600واقعات رونما ہوئے اور سالانہ اوسطاًمجموعی طور پر 1273 ہیکٹر رقبہ کو متاثر ہورہاہے ۔صرف گذشتہ سال ہی شمالی ، جنوبی اور وسطی کشمیر کے جنگلات میں 215 وارداتیں رونما ہوئیں ۔محکمہ کا کہنا ہے کہ آگ کی ایک واردات کے دوران اوسطاً 1سے لیکر 5کنال اراضی پر پھیلی جھاڑیوں اور درختوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ حکام نے بتایا کہ 2021میں 26لاکھ کے قریب پودوں کی شجرکاری کرنے کا ہدف مقرر کیا گیاہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں حالیہ برسوں میںخوفناک رفتار سے جنگلاتی اراضی ختم ہو رہی ہے۔جنگلات کو سمگلر کاٹ رہے ہیں ، تعمیراتی پروجیکٹوںکے دوران بھی ان کا صفایا ہو رہا ہے اور جو کچھ باقی ہے ،وہ آگ سے تباہ ہورہا ہے۔معلوم رہے کہ اس وقت شمالی، جنوبی اور وسطی کشمیر میں جنگلات 812830ہیکٹرا راضی پر پھیلے ہوئی ہیں۔
سرینگر سرکل
کنزرویٹر سرینگر وسطی کشمیرزبیر احمد شاہ نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال 52آگ کی وارداتیں 5ڈویژنوں میں رونما ہوئیں ان میں اربن فاریسٹ ڈویژن سرینگر ، فاریسٹ ڈویژن بانڈی پورہ ، فاریسٹ ڈویژن سندھ ، فاریسٹ ڈویژن ٹنگمرگ اور پیر پنچال فاریسٹ ڈویژن بڈگام شامل ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں اگرچہ 90فیصد جھاڑیوں اور گاس کو نقصان پہنچا ،وہیں دس فیصد چھوٹے درختوں کو بھی نقصان ہوا ۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال اجس بانڈی پورہ میں بکروالوں نے ایک کٹے ہوئے سوکھے درخت کو جلا کر اس پر کھانا پکانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں جنگل میں آگ لگ گئی اور اس آگ کو بجھانے کے دوران انہیں کافی دقتیں پیش آئیں
۔انہوں نے کہا کہ آلوسہ بانڈی پورہ میںکچھ شر پسند عناصر نے ایک پیڑ کو آگ لگانے کی کوشش کی، جس سے آگ بھڑک اٹھی کیونکہ اس کٹے ہوئے پیڑ کی انکوائری چل رہی تھی ۔زبیر شاہ نے کہا کہ آگ کے ایک واقع سے جنگلات کی ایک کنال سے لیکر 5کنال تک اراضی متاثر ہوتی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال محکمہ نے 7لاکھ 73ہزار پودے لگائے تھے اور اس سال محکمہ کا ٹارگٹ 11 لاکھ پودے لگانے کا ہے اور ان میں سے 4لاکھ لگا ئے گئے ہیں ۔
نارتھ سرکل
کنزرویٹرشمالی کشمیرعرفان وانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سال2020کے دوران شمالی کشمیر کے جنگلات میں آگ کی 55 وارداتیں رونما ہوئیں۔ ان میں سے 41وارداتیں صرف کپوارہ ضلع کے کامراج ڈویژن میں رونما ہوئیں۔تاہم محکمہ نے بروقت کارروائی عمل میں لاتے ہوئے مزید آگ کو پھیلنے سے بچا لیا ۔ انہوں نے کہاکہ کمپا سکیم کے تحت شجرکاری کیلئے انہیں فنڈس ملتے ہیں اور اس پیسے سے شجرکاری کی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ رواں سال شمالی کشمیر میں 7لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور شمالی کشمیر کی نرسریوں میں 20لاکھ کا سٹاک موجود ہے ۔انہوں نے کہا کہ شمالی کشمیر میں سب سے زیادہ آگ کپوارہ کے جنگلات میں لگی کیونکہ ان جنگلات کی قریب لوگوں کی زیادہ آمد ورفت رہتی ہے ۔
ساوتھ سرکل
کنزرویٹر فارسٹ ڈویژن ساوتھ تو حید احمد دیوا نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ یہاں پر گذشتہ سال 108 آگ کی وارداتیں رونما ہوئیں جس میں 168ہیکٹر جنگلات کا رقبہ متاثر ہوا ۔انہوں نے کہا کہ یہ آگ خشک شالی کے بعد لوگوں کی جانب سے لاپروہی کی وجہ سے لگی ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ 6سو ہیکٹر اراضی پر شجرکاری کر رہا ہے اور 8لاکھ 78ہزار پودے لگانے کا ٹارگٹ مقرر ہے جس میں ابھی تک 3لاکھ 65ہزار لگائے جا چکے ہیں اور یہ ٹارگٹ مارچ میں مکمل کر لیا جائے گا ۔
وائلڈ لائف
چیف وائلڈ لائف وارڈن جموں وکشمیر سریش کمار گپتا نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ جنگلات میں آگ لگنے کی سب سے بڑی وجہ انسانوں کی جانب سے برتنے والی بے احتیاطی ہے۔ بعض اوقات جان بوجھ کر بھی آگ لگائی جاتی ہے، خشک درختوں کی شکل میں موجود ایندھن آگ کے تیزی سے پھیلنے کا سبب بنتا ہے، جب جنگل میں ایک بار آگ شروع ہو جائے تو وہ ہوا، اترائی، چڑھائی اور خشک درختوں کی شکل میں موجود ایندھن،آگ کے تیزی سے پھیلنے کا سبب بنتا ہے۔لیکن جہاں یہ تینوں چیزیں ہوں تو آگ پر قابو پانا بہت مشکل ہو جاتا ہے اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے بہت بڑے علاقے پر پھیل جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وائلڈ لائف کی اراضی پر آگ سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا ہے البتہ اس سے جنگلات کو نقصان پہنچتا رہتا ہے ۔محکمہ جنگلات کا کہنا ہے کہ وہ ساز سامان محکمہ کے پاس دستیاب نہیں ہے، جس کا استعمال کر کے آگ پر قابو پایا جاسکے۔ البتہ محکمہ کے ملازمین اور پروٹیکشن فورسز کی یہ کوشش رہتی ہے کہ آگ کو زیادہ دیر تک پھیلنے نہ دیا جائے ۔