جموں//کمشنر سیکرٹری جنگلات و ماحولیات سنجیو ورما نے یہاں جموں کے ون بھون میں محکمہ جنگلات کے کام کا جائزہ لیا۔ میٹنگ میں ڈاکٹر موہت گیرا ،پرنسپل چیف کنزرویٹر فارسٹ جموںوکشمیر ، سینئر اَفسران اور اِنتظامیہ کے اعلیٰ اَفسران نے شرکت کی۔ ابتداً پی سی سی ایف نے جموں و کشمیر میں محکمہ جنگلات کے شعبے کے تنظیمی ڈھانچے کا ایک خاکہ پیش کیا۔ اُنہوں نے کمشنر سیکرٹری کو محکمہ جنگلات کے رول اور کام کے بارے میں جانکار ی دی ۔جن میں جنگلاتی تحفظ ، پودوں کا لگانا اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ شامل ہیں۔ اُنہوں نے ’’سرسبزجموں کشمیرمہم‘‘کے تحت ہونے والی پیش رفت کے بارے میں میٹنگ کو آگاہ کیا جس کے تحت جموں وکشمیر کے تمام جنگلاتی ڈویژنوں میں ایک کروڑ پودے لگائے جارہے ہیں جس میں جنگلاتی علاقوں ، کھلی جنگلات اور دیگر علاقوں جیسے راستوں ، تعلیمی اور دفتری احاطے ، فارم زمینوں اور وِلیج کمیونٹی لینڈ آتے ہیں۔ اُنہوں نے کیمپا ورکس ، فارسٹ رائٹس ایکٹ 2006 کی عمل آوری کی پیش رفت کے بارے میں بھی جانکاری دی۔مختلف شراکت داروں کی تربیت اور صلاحیت میں اِضافے میں محکمہ جنگلات کے رول کو اُجاگر کیا ۔ اُنہوں نے پیپلز بائیو ڈیورسٹی رجسٹر بنانے اور بائیوڈائیورسٹی کونسل کے تحت اَپ ڈیٹ کرنے میں حاصل ہونے والی پیش رفت پر بھی روشنی ڈالی۔ محکمہ جنگلات کی فراہم کردہ ڈیجیٹل خدما ت کو بھی اُجاگر کیا گیا۔ اس کے علاوہ سال 2021-22 ء کے لئے کیمپا کے تحت آپریشن کے سالانہ منصوبے پر بھی سیر حاصل بحث ہوئی۔کمشنرسیکرٹری جنگلات نے محکمہ جنگلات کی جانب سے جی پی ایس ، ریموٹ سنسنگ اور جی آئی ایس جیسی ٹیکنالوجی کے استعمال ، جنگلات حقوق ایکٹ کی عمل آوری کے لئے شراکت داروں کی کم لاگت اورشراکت داروں کی استعداد سازی سمیت اقدامات کی ستائش کی ۔ گرین جے اینڈ کے مہم کے تحت حاصل کامیابیوں کو بھی سراہا۔ اُنہوں نے تجاوزات اور دیگر نقصانات کا شکار جنگلاتی علاقوں کی نگرانی کے لئے ڈرون کے اِستعمال اور واچ ٹاوروں کی تنصیب پر زور دیا۔انہوں نے شہری علاقوں کو خوبصورت بنانے کے لئے سٹی جنگلات کی ترقی پر بھی زور دیا۔ اُنہوں نے لینڈ سلائیڈس اور مڈ سلائیڈس کے تودے گرآنے کے خطرے سے دوچار قومی شاہراہ کے ساتھ جنگل کے غیر محفوظ علاقوں کی نشاندہی کرنے کی بھی ہدایت دی۔ اُنہوں نے محکمہ جنگلات کے سینئر افسران کو ہدایت دی کہ وہ جنگلاتی فیلڈ دوروں کااہتمام کریں۔