سرزمین انبیاپر اسرائیلی جارحیت کوئی نئی بات نہیں بلکہ فلسطین کے مظلوم عوام سنہ1948سے اسرائیلی مظالم سہتے آئے ہیں۔ہزاروں فلسطینی اسرائیلی بمباری سے یا تو ابدی نیند سوگئے ہیںیا پھر اپاہج بن گئے ہیں ،غاصبوں کے زندان فلسطینی نوجوانوں سے بھرے پڑے ہیں ،بدنام زمانہ زندانوں میں ٹارچر سے فلسطینی نوجوانوں کی زندگیاں ضائع ہوگئی ہیں۔بچے بوڑھے اور خواتین بے یار ومددگار مسلمانان عالم کی بے حسی پر خون کے آنسو بہارہے ہیں۔قبلہ اول کا تقدس جابر اسرائیلی افواج کے ناپاک قدموں تلے پامال ہورہا ہے ،مقبوضہ فلسطین پرغاصب اسرائیل کاناجائزقبضہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جارہا ہے۔لیکن افسوس صد افسوس اسلامی مملکتوں کے خائن حکمران ایک کے بعد ایک اسرائیل کو تسلیم کرکے ان کے ساتھ تعلقات بڑھارہے ہیں ۔
فلسطین اسلامی تاریخ کے اعتبار سے ایک مقدس سرزمین ہے جہاں انبیا کی ایک تعداد یا تو پیدا ہوئے یا پھر دوسری سرزمنیوں سے ہجرت کرکے یہاں آباد ہوئے اوراس سرزمین میں انبیا کی ایک تعداد مدفون ہیں۔تاریخ کی ورق گردانی سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ دوہزار قبل مسیح عراق کے شہر ’’ار ‘‘ سے ہجرت کرکے اسی سرزمین میں آباد ہوئے اسی طرح حضرت اسحاقؑ،حضرت یعقوبؑ،حضرت یوسفؑ،حضرت داوودؑ،حضرت سلیمانؑ،حضرت یحییٰ ؑ،حضرت موسیٰ ؑ،حضرت عیسیٰ ؑ اور دیگر پیامبران خدا بھی اس سرزمین مقدس سے وابستہ رہے۔اسکے علاوہ اسی سرزمین مقدس پر مسلمانوں کا قبلہ اول ’’بیت المقدس‘‘ بھی واقع ہے ،ہجرت کے دوسرے سال ماہ رجب تک خاتم الانبیا حضرت محمد مصطفیٰ صلہ اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے جس کے بعدنماز کی حالت میں وحی کے ذریعے تبدیلی قبلہ کا حکم ہوا۔بعض روایات میں نقل ہوا ہے کہ پیامبر خداحضرت موسیؑ نے مسجدالاقصی کو شرک اور انحراف سے نجات کیلئے حکم خداوندی سے بیت المقدس کو قبلہ قرار دیا( تاریخ ابن خلدون، ج۱، ۱۹۳۱ق، ص۳۸۴)
اس کے علاوہ پیامبر اسلام ؐ کے معراج آسمانی کا سفر بھی مسجد الاقصیٰ (بیت المقدس)سے شروع ہوا۔سورۃ الاسراء میںارشاد ہواہے کہ’’پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی جس کے اردگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں ، بیشک وہی سننے والا، دیکھنے والاہے۔‘‘
قرآن و احادیث کی روشنی میں سرزمین فلسطین ایک مقدس اور عظمت والی سرزمینوں میں سے ہیں۔اس سرزمین کے ساتھ مسلمانان عالم کے جذبات واحساسات وابستہ ہیں۔لیکن حماقت کی بات یہ ہے کہ اس سرزمین مقدس پر شیطان بزرگ کا ناجائز اولاد اسرائیل قبضہ جمائے بیٹھا ہے نہ فقط قبضہ بلکہ 1948عیسوی سے اس غاصب ریاست کے جابر افواج مسلسل قبلہ اول کی بے حرمتی بھی کررہے ہیں اور فلسطینی محکوم و مظلوم عوام کو عذاب وعتاب کا شکار بھی بنارہے ہیں۔اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ اسرائیل ایک غاصب صیہونی ریاست ہے۔پہلی جنگ عظیم میں1917 عیسوی میں انگریزوں نے فلسطین پر ناجائز قبضہ کرکے یہودی ریاست قائم کرنے کی ایک سازش تیار کی۔یہودی اور عیسائی جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے کیونکہ عیسائی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ ؑ کے قتل کا منسوبہ بنانے والے یہودی ہی ہیں۔لیکن مسلمانوںکے خلاف یہ دو دشمن آپس میں متحد ہوگئے اور اسلامی دنیا کے قلب میں ناجائز اولاد اسرائیل کوبٹھاکرمشرق وسطیٰ میں دہشتگردی کا اڈہ قائم کیا گیا۔
نومبر 1947میں سامراجی فضلہ خور عالمی ادارے ’’اقوام متحدہ‘‘ میں ایک قرارداد پاس کی گئی جس میں اس ارض ِ مقدس کو دو حصوں میں تقسیم کرکے عرب اور اسرائیلی ریاست قائم کرنے کا اعلان کیا گیا۔اور 1948میں برطانیہ نے فلسطین سے اپنی فوج واپس بلالی اوراسی سال 14مئی کو اسرائیل کے قیام کا باضابطہ اعلان کرکے مسلمانان عالم کی مردہ ضمیری کا ثبوت پیش کیاگیا۔جس کے بعد فلسطین کے علاقوں پرجابرانہ قبضہ کا سلسلہ جاری رہا۔لیکن بے غیرت مسلمان سامراج کے اس ناجائز اولاد کے ساتھ معاہدے اور صلح کی پالیسی پرہمیشہ گامزن رہے اور اسرائیل کی دہشتگردی کے لئے ایک کھلا میدان چھوڑ دیا گیا۔گرچہ مسلمانوں اور یہودیوں کے مابین معمولی لڑائیاں ہوتی رہی لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ اس غاصب ریاست کے سامنے گھٹنے ٹیک دئے۔
حالیہ دنوں اسرائیل نے غزہ ،بیت المقدس اور مقبوضہ فلسطین کے دیگر علاقوں میں مظلوم فلسطینیوں پر،گولہ باری، بمباری اور کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرکے انہیں خاک و خون میں غلطاں کیا۔مظلوم فلسطینی مسلمانان عالم کو مدد کے لئے پکار رہے ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ان کے دردبھری آواز خفتہ مسلمان نظر انداز کررہے ہیں۔مسلمان حکمران ذلالت اور سامراجی غلامی کے کثیف لحد میں کروٹیں بدل رہے ہیں خواب غفلت میں خراٹیں لے رہے ہیں۔پیغمبر اسلام ؐکا ارشاد ہے کہ اگر کوئی مسلمان مدد کے لئے پکار رہا ہے اور تم اس کی آواز کو نظر انداز کررہے ہوتو تم مسلمان نہیں۔اسی طرح قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’بے شک مسلمان تو آپس میں بھائی بھائی ہیں تو اپنے بھائیوں کے درمیان مصالحت کرائو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (الحجرات )۔
افسوس صد افسوس عرب حکمران اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کی حمایت کے بجائے اسرائیل کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھارہے ہیں اس سلسلے میں کوئی ننگ وعارتک محسوس نہیں کررہے ہیں۔جبکہ قرآن پاک سورہ مبارکہ المائدہ آیت نمبر 51میںواضع لفظوں میں فرماتا ہے کہ’’اے ایمان والو یہود ونصاریٰ کو دوست نہ بنانا وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو انہیں دوست بنائے گا وہ انہی میں سے ہوگا اور اللہ ظالموں کو یقینا ہدایت نہیں دیتاہے‘‘۔
فلسطینی عوام مذمتی بیانات تو گزشتہ سات دہائیوں سے مسلسل سنتے آئے ہیں۔اگر واقعی میں مسلم حکمرانوںکے دل میں فلسطینی عوام کی تھوڑی سی درد بھی موجود ہے تو اولین فرصت میں اس قتل عام کو روکنا چاہئے اور فلسطین کی آزادی کیلئے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
ابھی بھی وقت ہے کہ حسد ،کینہ ،بغض ،منافقانہ رویہ چھوڑ کر اور اسرائیل کے ساتھ دوستی توڑ کر قبلہ اول کی بازیابی اور فلسطینی عوام کی آزادی کے لئے متحد ہوجائیں۔کیونکہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں پر امیدیں وابستہ رکھنا لا حاصل مشق ہے۔اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے جس سے قدس کی آزادی اور اسرائیل کی نابودی یقینی بن جائے گا۔مسلم ممالک کی رابطہ تنظیم او آئی سی کی مجرمانہ خاموشی بھی معنی خیز ہے۔انہیں جوابدہ بنانے کی ضرورت ہے۔
رابطہ۔گنڈ حسی بٹ سرینگر
فون نمبر۔7006861759
����