مینڈھر//بالاکوٹ اور مینڈھر کے لوگوں نے اس بات پر شدید برہمی کا اظہار کیاکہ گزشتہ روز کھنیتر دھار گلون میں شیل کی زد آکر زخمی ہونے والی سترہ سالہ لڑکی کو گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں منتقل کرنے کیلئے ایمبولینس کے ڈرائیور نے 2700روپے لے لئے ۔واضح رہے کہ گزشتہ روزفائرنگ اور گولہ باری کی زد میں آ کرکھنیتردھارگلون کے تین سگے بہن بھائی زخمی ہوئے جنہیںمقامی لوگوں نے وہاں پر موجود ایک ایمبولنس کے ذریعہ گورنمنٹ پرائمری ہیلتھ سنٹر دھارگلون منتقل کیاجہاں موجودڈاکٹروں کی ٹیم نے انہیں بنیادی علاج و معالجہ کے بعد طاہرہ نصیب دختر محمد نصیب کوشدید زخمی حالت میں گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں بھیجنے کا مشورہ دیا لیکن ساتھ ہی ڈاکٹروں نے یہ ہدایت بھی دی کہ جموں جانے سے پہلے ضلع ہسپتال راجوری میں معائنہ کرواناہوگا ۔اس دوران زخمی لڑکی کو راجوری ہسپتال لیجایاگیاجہاںڈاکٹروں کی ٹیم نے طبی امداد دینے کے ساتھ ساتھ خو ن کے دو پوائنٹ بھی زخمی کے جسم میں چڑھائے تاہم اس کی حالت کو نازک دیکھتے ہوئے اسے جموں میڈیکل کالج و ہسپتال منتقل کیا گیا۔لڑکی کے رشتہ داروں کاکہناہے کہ جس ایمبولینس پر طاہرہ کو راجوری سے جموں منتقل کیاگیا ،اس کے ڈرائیور نے راستے میں ان سے 2700روپے وصول کرلئے ۔انہوںنے بتایاکہ ڈرائیور نے گاڑی سڑک پر کھڑی کر دی اور کہا کہ پہلے پیسے دو جس کے بعد وہ گاڑی جموں لیجائے گا جس کے بعد انہوں نے مجبوراًاسے ستائیس سو روپے دیئے اور پھر اس نے گاڑی چلائی ۔مینڈھر اور بالاکوٹ کے لوگوں نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ راجوری ہسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کی جائے جو فائرنگ کی زد میں آ کر زخمی ہونے والے افراد کے لئے گاڑیوں کا بھی بندو بست بھی نہیں کرسکتی ۔انہوںنے کہاکہ فائرنگ کی زد میں آکر زخمی ہونے والوں کو مفت طبی امداد دی جانی چاہئے لیکن محکمہ صحت کو اس وقت بھی پیسوں کی فکر ہوتی ہے جب کوئی زخمی موت و حیات کی کشمکش میں ہوتاہے ۔انہوںنے کہاکہ اگر اس سلسلے میں کارروائی نہ ہوئی تو وہ احتجاج کریںگے ۔اس سلسلہ میں جب سپرینڈنٹ ضلع ہسپتال راجوری ڈاکٹر محمود حسین بجاڑ سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ان کے پاس کوئی ایسا فنڈ نہیں ہے جس سے وہ فائرنگ اور گولہ باری سے زخمی ہونے والے افراد کو جموں منتقل کرسکیں ۔تاہم انہوںنے کہاکہ وہ اس سلسلہ میں ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری اور اعلیٰ حکام کوتحریری طور پر لکھیں گے کہ فائرنگ سے زخمی ہوئے افراد کے لئے گاڑی کے تیل کا بندو بست کیا جائے تاکہ انہیں منتقل کرنے میں کوئی پریشانی نہ آئے ۔