پونچھ//سرحدی ضلع پونچھ میں حد متارکہ کے قریب کے رہائشی علاقوں میں بس رہی آبادی پر گولے برسائے جاتے ہیں جن کی زد میں آکر اکثر معصوم بچے اور خواتین اپنی جانیں گنوا دیتے ہیں یا پھرزخمی ہو جاتے ہیں ۔گزشتہ روز پونچھ کے حد متارکہ کے کچھ علاقوں میں پھر سے جنگ معاہدہ کی خلاف ورزی کے دوران شاہ پور، قصبہ، کیرنی، دیگوار ملدیالاں، دیگوار تیڑواں اور بگیال درہ کی رہائشی بستیوں پراندھا دھند فائرنگ کی گئی اور گولے برسے جس کے نتیجے میں دو کمسن لقمہ اجل بنے جبکہ بارہ زخمی ہوئے جن میںسے چار کو جموں منتقل کیاگیاہے جہاں وہ موت و حیات کی کشمکش میں ہیں۔سرحدی کشیدگی پر مقامی لوگوں میں زبردست بے چینی پائی جارہی ہے اور وہ حکومت سے مانگ کررہے ہیں کہ اس کشیدگی کو ختم کیاجائے ۔ سیاسی کارکن باغ حسین راٹھور کاکہناہے کہ اس طرح سے بے گناہ لوگوں کو موت کے گھاٹ نہ اتاراجائے ۔انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے دونوں ممالک کے سامنے حد متارکہ پر آبادی شہریوں کی کوئی قدروقیمت ہی نہیں اور ان کی جان کی کوئی فکر نہیں کرتا۔اسی بارے میں بات کرتے ہوئے عبدالرشید شاہپوری نے کہا کہ دونوں طرف کی افواج خود تو پختہ بینکرز میں محفوظ پناہ لے لیتی ہیں لیکن بے گناہ شہریوں کو موت کے منہ میں ڈال دیاجاتاہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کی فوج کے اس اقدام پر ان کی مذمت کرتے ہیں۔شاہپوری نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہند و پاک حکومتیں اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے بے گناہ لوگوں کو قتل کروارہی ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ دونوں ممالک کے حکمران آپسی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں اور بے گناہ عوام کو تحفظ فراہم کریں۔