جموں//سدھرا عید گاہ کے نزدیک واقع محلہ نکی اور اسرارآباد کے لوگوں کو پینے کے پانی کی شدید قلت کاسامنا ہے اور حکام کی طرف سے اس مسئلہ کا حل نکالنے کے بجائے دو افراد کو پانی کی تجارت کرنے کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے ۔ مقامی آبادی کی طرف سے پانی کی خاطر ’بور ویل ‘لگائے گئے ہیں تاہم ان میں بھی پانی خشک ہوگیاہے جس کی وجہ چند لوگوں کی طرف سے بور ویل کے باہر بڑی بڑی موٹریں لگاکر پانی نکال کرا سے ٹینکروں کے ذریعہ فروخت کرناہے ۔ مقامی لوگوں نے بتایاکہ نکی اور اسرار آباد میں دو اشخاص ایسے ہیں جو بور ویل لگاکر پانی نکال کر اسے فروخت کرتے ہیں جس کی وجہ سے پانی کی سطح نیچے چلی گئی ہے اور لوگوں کو پینے کیلئے بھی ایک بوند نہیں مل رہی۔ انہوں نے بتایاکہ سپلائی کا حال پہلے سے ہی خراب ہے اور مقامی آبادی کاتمام تر دارومدار بو رویل پر ہی ہے لیکن چند مفاد پرست اشخاص کی وجہ سے اب بور ویل بھی کام نہیں کررہے اور عوامی مشکلات میں اضافہ ہوتاجارہاہے ۔ان کاکہناہے کہ یہ معاملہ بارہا متعلقہ حکام کے نوٹس میں بھی لایاگیاتاہم تاحال انہوںنے کوئی اقدام نہیں کیا اور نہ ہی غیر قانونی طور پر پانی نکال کر فروخت کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے ۔ انہوںنے الزام لگایاکہ محکمہ کی ناک تلے زیر زمین آب نکال کر اسے غیر قانونی طور پر فروخت کیاجارہاہے اور لوگوں کو ایک بوند بھی نہیں ملتی ۔انہوںنے وزیر برائے پی ایچ ای اورایگزیکٹو انجینئر گرائونڈ واٹر جموںسے اپیل کی کہ وہ ذاتی مداخلت کرکے پانی کی قلت کامسئلہ حل کریں اور ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے جو ذاتی مفادات کی خاطر ہزاروں کی آبادی کیلئے پریشانی کھڑی کرتے ہیں ۔لوگوں نے بتایاکہ دن کو اوسط پچاس گاڑیاں فروخت کی جارہی ہیں اور گاڑیوں کے چلنے سے اندر گلی کو جانے والی سڑک بھی اکھڑ گئی ہے اور یہ چلنے کے قابل بھی نہیں رہی ۔محکمہ پی ایچ ای کے چیف انجینئر اشوک گنڈوترہ نے کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ایساتھوڑی ہونے دیاجائے گا کہ لوگ پانی کو فروخت کریںگے اور محکمہ خاموش بیٹھارہے ۔ انہوںنے کہاکہ ایکسن کو موقعہ پر بھیج کر فوری کارروائی کی جائے گی اور یہ بات برداشت نہیں کی جائے گی کہ گھریلو استعمال کے پانی کو فروخت کیاجائے ۔ایگزیکٹو انجینئر گرائونڈ واٹر پی ڈی سوری نے رابطہ کرنے پر بتایاکہ یہ معاملہ ان کے نوٹس میں نہیں تھاالبتہ محکمہ اس سلسلے میں کارروائی کرے گی ۔ انہوںنے کہاکہ اگر غیر قانونی طور پر بور ویل لگاکر پانی فروخت کیاجارہاہے تو محکمہ کی طرف سے ایسا کرنے والوں کو نوٹس جاری کیاجائے گا اور ان کے خلاف کارروائی ہوگی ۔